بلدیاتی الیکشن اور خریدوفروخت

حکومت کا بلدیاتی الیکشن کرانے کا فیصلہ خوش آئیند ہے،چاہے حکومت نے یہ فیصلہ کیسے ہی حالات میں کیا،یا اسے سپریم کورٹ ہی کی مہربانی سمجھا جائے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان بلدیاتی انتخابات کےبڑے داعی تھے،لیکن اپوزیشن میں کوئی بھی حکومت نہیں چاہتی کہ اختیارات ان کے ہاتھوں سے پھسل کر نچلی سطح پر آئے۔اور خاص طور پر یہ حکومت تو بالکل بھی نہیں چاہتی تھی۔

اس حکومت میں ریکارڈ مہنگائی ہوچکی ہے،مہنگائی کی وجہ سے عوام کا حال بے حال ہوچکا ہے۔یہ تو اب وقت ہی طے کرے گا کہ اس فیصلے کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔جس طرح پاکستانی عوام نے اس حکومت پر آسیں اور امیدیں لگائی تھی،ویسے یہ حکومت ڈیلیور نہیں کرسکی،اور ابھی تک بھی اس مایوسی کا کنواں گہرے سے گہرا ہوتا چلا جارہا ہے۔

خیبر پختونخواہ میں تو عنقریب بلدیاتی میدان سجنے جا رہا ہے، پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بھی مارچ میں میدان لگنے کا امکان ہے۔آگے دیکھے ہوتا ہے کیا کیا،ستاروں سے آگے ہیں جہاں اور بھی۔

قارئین کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ایسی وڈیو وائرل ہوئی تھی جس نے حیران اور پریشان کر دیا،آنکھیں دھندال سی گئی اور جتنی بار بھی دیکھی میری حیرانی میں مزید اضافہ ہی ہوتا چالا گیا۔

وڈیو این اے 133 لاہور کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے تھی (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی نے ایک دوسرے پر ووٹ خریدنے کا الزام لگایا، جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور اس پر تحقیقات جاری وساری ہیں۔ہمارے پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ مجال ہے کوئی فیصلہ بروقت ہو جائے،اگر ایسا ہونے لگ جائے، تو ایسی چیزیں بار بار دیکھنے کو نہ ملے، قارئین بات ہورہی تھی وڈیو کی جس میں دو ہزار کی اوسط سے ووٹ خریدے جا رہے تھے۔یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا،یہ تو کوئی انوکھی بات بھی نہیں ہمارے معاشرےمیں جتنے بھی لوگ برسراقتدار پر آئے،ووٹ خرید کر ہی آئے،یہ ہمارے جمہوروں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔ لیکن اس وڈیو میں حیرانی اور شرمندگی والی یہ بات تھی کہ قرآن پاک پہ ہاتھ رکھوا کر،حلف لے کے ووٹ خریدے جا رہےتھ،ے وہ کتاب جو رب کائینات نے ہمارے نبی پاکﷺ پہ اتاری،جو ہم سب کیلئے ہدایت ہے ۔اتنی مقدس کتاب کو اپنوں ووٹوں کیلئے اسمبلی میں پہنچنے کیلئے یہ لوگ اتنی حدتک گرجائیں گئے،سمجھ سے باہر،ان لوگوں کو مرنا بھی بھول چکا شاید اوراس پر شرمندگی کی بجائے،اس وڈیو کا دفاع کیا جاتا رہا،اور ایک دوسرے پر الزام لگائے جاتے رہے۔ویسے ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔شاید سب یہ بھول گئے ہیں کہ ایک دن اوپر بھی عدالت لگنی ہے۔

کعبہ کس منہ سے جاوگےغالب

شرم تم مگر نہیں آتی۔

اب اس وڈیو میں دو پہلوؤں کہ کون اس مقدس کتاب پر ہاتھ رکھوا رہا،اور کون رکھ رہا،دونوں طرف مسلمان،ایک اپنی غربت دور کرنے کے در پہ اور دوسرا اپنی جھوٹی شہرت کے لئے،عارضی کرسی کیلئے۔

اوہ ظالموں۔۔ووٹ کو تو جو تم عزت دے رہے وہ سب کے سامنے،اس مقدس کتاب کوتو عزت دو پہلے۔

اور دو ہزار روپے میں اپنا ضمیر فروخت کرنے والے بھی کچھ ہوش کے ناخن لے،اور اس حدتک نہ گرجائے،کہ اپنی ضمیر کی قیمت صرف دو ہزار رکھ دی،وہ بھی اللہ کی مقدس کتاب کے اوپر ہاتھ رکھ کر،افسوس صد افسوس۔

اس لئے یہ سارے جمہورے،بلیک میلر بعد میں ہماری عزت نہیں کرتے،وہ صاف کہتے ہیں کہ ہم اپنے بل بوتے پر آئے ہیں۔

پاکستان میں اس ننگی،للی،لنگڑی اور دھکا سٹارٹ جمہوریت میں ووٹر ہمیشہ سے ہی جکڑا گیا ہے، کہیں براداری،قبیلے میں تو کہیں بریانی اور کپ چائے کے چکر میں،جہاں مرزی ٹھپا لگوا لوں۔

ایک کہانی ملاحظہ فرمائیں۔

ایک سیاست دان ایک بابے سے ووٹ لینے گیا۔ پانچ ہزار کا نوٹ بابا جی کے ہاتھ میں تھما کے کہا،اس بار ووٹ ہمیں دے،بابا سیانا تھابابا نے ٹھنڈا سانس لے کے کہا،ووٹ آپکا ہوا،مجھے ایک گدھے کی ضرورت ہے،وہ لا دے،وہ کافی تگ ودو کے بعد آیا،اور کہا بابا جی گدھا تو چالیس ہزارسے کم نہیں مل رہا،لیکن آپ ووٹ ہمیں دیں،بابے نے کہا،تم نے تو میری قیمت گدھے سے بھی کم لگائی۔اس کہانی میں سمجھنے والوں کیلئے بہت کچھ ہے۔

عمران خان جس سے لوگوں نے آسیں،امیدیں لگائیًں،اس جمہوریت کے سر پانی پھیر دیا،اور ابھی مزید غوطے دے بھی رہا،جس میں عوام پل پل ڈوب رہی،قارئین ویسے اب اس ملک میں کوئی بھی اس لائق نہیں کہ جسے اپناقیمتی اثاثہ ووٹ دیاجائے،لیکن پھر بھی اپنے اس پاکستان کی خاطر، بھٹکی ہوئی جمہوریت کو چالانے کے لئے اپنے اس حق کا صحیح انتخاب کریں، تمام ہمارےجمہوروں کو اپوزیشن میں تو عوام کے دکھ نظر آتے ہیں،پھر ناجانے حکومتوں میں آکے ان دکھوں پر نمک کیوں چھڑکتےہیں۔

اب سنا ہے کہ آئیندہ الیکشن الیکٹرونک مشین سے ہوں گئے۔کچھ رحم کریں اس عوام پر کہیں یہ نوٹوں کے چکر میں انگوٹھا ہی نا اتار کے دے دیں۔اور یہ بھی سنا ہے کہ الیکشن کمیشن ووٹوں کی فروخت پر تحقیقات کرے گا،الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس میں ملوث لوگوں کو سزائیں دی جائیں اور چیف جسٹس پاکستان کو اس وڈیو کا ازخود نوٹس لینا چاہیے تاکہ آئیندہ اس مقدس کتاب کو ایسے ذرائع کیلئے کبھی دوبارہ استعمال نہ کیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے