بھئی داد دینی پڑے گی موجودہ دور حکومت کے نمائندوں اور حاکم وقت کے سچے وعدوں کی جنہوں نے انصاف اور ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ہر غریب اور مفلس پاکستانی سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس ملک سے غربت اور ظلم کا خاتمہ ہو گا، جو کے اس حکومت نے سچ کر دکھایا ، دیکھیں نا جناب، مہنگائی کے ریلے تلے دب کے غریب کا خاتمہ بلخیر ہو چلا یوں نہ بانس رہا نہ بجی بانسری، غریب ہی نہ رہا تو غربت تو خود ہی ختم ہو گئی نا ! اور انصاف کے تمام تر تقاضے عثمان مرزا اور ظاہر جعفر جیسے درندوں کو تمام ثبوت ہونے کے باوجود سزا نہ دے کر پورے کیے جا رہے ہیں ۔
مانا ماضی کی حکومتوں نے عوام کو ،کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچایا لیکن موجودہ حکومت نے کون سا تیر مار لیا، سوائے باتوں اور نعروں کے! اوپر سے ظلم خدا کا وزیراعظم صاحب کا روز ایک نیا یوٹرن جس سے عوام روز ٹکرا ٹکرا کے بری طرح زخمی ہو چکی ہے اور اب تو عوام کو ڈرایا بھی جا رہا ہے یہ بتا کر کہ حاکم وقت اپنے تخت سے قدم اتارتے ہی اور ہیبت ناک ثابت ہونگے، یا غریب عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت ایک بار پھر ختم ہوتے ساتھ ہی تاریخ کو دوہرائے گی اور یکم ستمبر 2014 کی طرح دوبارہ پی-ٹی-وی کی عمارت پر سوٹی بردار دھرنا ارکان کے ساتھ حملہ کر کے عملے کو یرغمال بنایا جائیگا اور ایک بار پھر ڈی-چوک پر کنڑینر لگا کر ٹریفک اور عوام کا رستہ روکا جائیگا ، یا ایک بار پھر سے سپریم کورٹ کے خارجی جنگلوں پہ کپڑے دھو کر خشک ہونے کے لیے لٹکائے جائیں گے؟
پہلے کہتے ہیں گھبرانا نہیں پھر خود ہی پوری دنیا کے سامنے اس طرح کا دھمکی آمیز رویہ پیش کرتے ہیں، پہلے ہی موجودہ وزیراعظم کے طالبان کے ساتھ میل ملاقاتوں کے کافی چرچے رہے ہیں اور طالبان کے ساتھ ہنستے مسکراتے کئی تصاویر بھی ہر کوئی دیکھ چکا ہے، ایسے میں جب ہمارے ملک اور افواج پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جانی اور مالی قربانیاں دیں اور آئی ایس پی آر اور میڈیا اپنے ملک کا سوفٹ ایمج دنیا کو دکھانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں تب ایک آکسفورڑ کے پڑھے لکھے وزیراعظم کو ایسی دھمکیاں دینا زیب نہیں دیتا، یہ رویہ بلکل غلط ہے، آپ بحیثیت وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنی نوجوان نسل اور بالخصوص طالبعلموں کو کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ پڑھے لکھے اور جاہل برابر ہیں !
میرا سوال صرف یہ ہے کہ، کیا عوام کو ریاست مدینہ اور تحریک انصاف کے نام پر بیوقوف بنایا جا رہا ہے؟ ریاست مدینہ میں تو جناب ایک جانور بھی بھوکا نہیں سوتا تھا، بات کرتے ہیں مدینہ کی ریاست کی تو پھر یہ بھی یاد رکھا جائے کہ ، خلیفہ وقت حضرت عمر نے تو کبھی نیا کپڑا یا نیا جوتا نہیں پہنا تھا، یہی حال حضرت عثمان غنی کا بھی تھا ،ذاتی مال و دولت موجود ہونے کے باوجود اپنی زندگی سادگی سے بسر کی اور مال و دولت صرف عوام کی فلاح و بہبود پر قربان کر دیا تھا اور یہاں وزیراعظم عمران خان نیازی صاحب کو ہم روز نیا جوڑا، نئی واسکٹ ، کوٹ اور مختلف رنگوں کی پشاوری چپل پہنے دیکھتے ہیں ، بیشک یہ سب بنیادی ضروریات ہیں ہر شخص کی اور ہر کسی کا حق بھی ہے ، ضرور خرچ کریں اپنے پیسے کو اپنے اوپر مگر انصاف اور ریاست مدینہ کا بنیادی تقاضا تو پورا کر چلیں کہ اپنی ذاتی جمع پونجی میں سے نصف حصہ سرکاری خزانے میں جمع کروا دیں ، اور صدقے کی ابتدا بھی گھر سے ہی کرنی چاہیے تو اپنے عالی شان بنگلے کو جو بنیگالہ کی زینت ہے اسے یونیورسٹی یا یتیم خانے کا درجہ کیوں نہیں دلوا دیتے ، یوں غریب عوام کو کوئی تو اچھی خبر سننے کو ملے گی۔
میرا مقصد کسی کو تنقید کرنا نہیں تھا لیکن اس حکومت کے ہر نمائندے اور بالخصوص وزیراعظم کو میں نے پچھلے سات آٹھ سالوں میں دوسروں پر صرف کیچرڑ اچھالتےاور غلط زبان استعمال کرتے سنا اور دیکھا ہے، نہ مجرموں کو کرپشن پہ سزا ملتے دیکھا نہ کرپشن ثابت ہونے کا نام لیتی نظر آ رہی ہے، جناب ایک بار پھر میں اپنا نظریہ واضح کرنے کے لیے سبکی نظر ریاست مدینہ کی طرف لے جانا چاہوں گی، جہاں ریاست مدینہ کی بنیاد رکھنے والی عظیم ہستی، حضور پاک حضرت محمد اور انکے اصحاب اور اہل بیت نے سود اور نشہ آور حرام چیزوں کی ممانعت کی، دشمنوں اور غیر مسلمانوں کے ساتھ بھی نرم لہجے کو اپنائے رکھا ، جہاں نبی پاک نے یہ بھی فرمایا کہ، اپنے دشمن کی طرف انگلی بھی نہ اٹھائی جائے`، پھر کیوں بار بار یہ حکومت اور اسکے نمائندے ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کرتے رہتے ہیں، اب تو اس حکومت کو تنقید بند کر کے عوام پہ اک نظر کرم ڈال لینی چاہئے اور اگر تنقید اتنی ہی ضروری ہے تو تنقید برائے تعمیر کی جائے ۔
نعرے بازی ، لڑائی جھگڑے ،تنقید اور دھرنوں کی سیاست کو چھوڑ کر اگر ہم سب بطور مسلمان اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور ایک اچھا انسان اور اچھا لیڈر بننے کے لیے ہم صرف نبی پاک حضرت محمد کے نقشے قدم پر چلیں تو عوام اور ملک دونوں کے حق میں بہتر ہو گا ۔