پرامن معاشرے کی تشکیل میں لکھاریوں اور صحافیوں کا کردار

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں امن و امان کلیدی اہمیت کا حامل ہے اسی لئے آج پوری دنیا امن وسکون کی تلاش میں ہے ۔ بد قسمتی سے وطن عزیز گذشتہ کئی عشروں سے متعدد اقسام کے سیاسی سماجی فرقہ وارانہ صنفی صوبائی و لسانی مسائل اور بد امنی کا شکار ہے جوکہ نہ صرف ساری دنیا میں اس سر زمین پاک کی بدنامی کا سبب ہے بلکہ اس عفریت کی وجہ سے قومی خوشحالی کی رفتار نہایت سست روی کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں بیشترپاکستانی خط غربت سے نچلی سطح پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ امن ومان کی ابتری،عدم برداشت، فرقہ واریت اورظلم و تشدد کا پیغام لے کر آ رہا ہے اور باوجود ہزارہا کوششوں کہ اس عفریت پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے ۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان کا انسانیت سے ناطہ جوڑ کر اس دنیا میں امن وسکون قائم رکھنا کو ئی مشکل کام نہیں لیکن امن و امان کو حاصل کرنے سے لے کر قائم رکھنے تک کےعمل کو نہ صرف شب و روز صبر آزما محنت درکار ہے بلکہ امن کے قیام کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے ہمارے معاشرے کو تحمل، عدم برداشت اور رواداری جیسے رویوں کو اپنانے اور اپنی آئندہ نسلوں میں منتقل کرنے کی بے انتہا ضرورت ہے ۔ اس نازک موقع پر ملک و قوم کو ذمہ دارانہ صحافیوں، لکھاریوں و کالم نگاروں کی اشد ضرورت ہے جو درج بالا تنازعات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ان کے تدارک کے لئے دیرپا حل ا و رہنمائی فراہم کر یں۔

دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں امن و سکون کی کمی محسوس کی جاری ہے ۔ کیونکہ شدت پسندی، نفسانفسی، باہمی انتشاراور سیاسی خلفشار عروج پر ہے۔معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ امن وسکون نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہر وقت خوف کی فضا میں سانس لے رہے ہیں ۔اسی وجہ سے کوئی بھی فرد اپنے معاملات کو درست انداز میں مکمل نہیں کر پا رہا ۔ سرحدی تنازعات کے علاوہ اندرونی معاملات بھی مختلف مذہبی ، لسانی، مسلکی اور سیاسی نفرتوں کے باعث زبوں حالی کا شکار ہیں ۔معاشرے کے بیشتر لوگ اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے دشمن بنے ہو ئے ہیں۔کیونکہ ہم معمولی تعصبات کی وجہ سے ایک دوسرے کی اچھی باتوں کو مسترد کر دیتے ہیں۔

یقینا مندرجہ بالا صورتحال تشویشناک ہے ۔اس ضمن میں معاشرے کے ہر فرد بالخصوص صحافی ،اساتذہ ، مذہبی رہنما ، سیاست دان اور سماجی قائدین جن میں خاندان کے سربراہ ، رہائشی علاقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے ہر فرد کو اپنے دائرہ کار اور حلقہ احباب میں فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہم سب پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں امن وامان اور رواداری کے قیام کے لئے کوشاں رہیں لیکن معاشرے میں موجود لکھاری اور صحافی برادری پراس ضمن میں نہایت اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہےکیونکہ یہ لوگ اپنی کوششوں سے قیام امن کے لیے نہایت موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

صحافت مملکت کا چوتھا ستون ہے اسی لئے فلاحی معاشرے کی تشکیل میں لکھاریوں کالم نگاروں اور صحافیوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کیونکہ پرامن معاشرہ کی تشکیل میں کالم نویس اور دیگر لکھاری افراد کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے عوام کو ذہن نشین کرائیں کہ مذہبی، لسانی،سیاسی اور فرقہ وارانہ موضوعات پر گفتگو سے پرہیز کریں اور سوشل میڈیا پر اپنے وی لاگس، گروپس اور سماجی رابطوں کی مختلف سائیٹس پرایسی وڈیوز، تحریریں اورپوسٹرز آویزاں نہ کریں جن سے کسی بھی شخص کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے کہ جواب میں وہ بھی اشتعال انگیز مواد کا تبادلہ کرے اور یوں بدامنی کی راہیں ہموار ہوں۔ کالم و ںاور کتب کے ذریعےباہمی محبت، روادادی، احترام اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنانے کی تعلیم و تربیت دی جائے۔اس سلسلے میں لکھاری کے لئے بھی تربیتی ورکشاپس کا اہتمام ہو نا چاہئے ۔ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے حکومتی اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت ہر شہری پر لازم ہے صحافی برادری کا فرض ہے کہ نفرت، شرانگیزی اور تصادم پھیلانے والے عناصر کی فی الفور نشان دہی کریں تاکہ ان عناصر کا قلع قمع ہوسکے۔

لکھاری کو اپنی تحریروں کے ذریعے عوامی رویوں میں تبدیلی لاکر معاشرے میں محبت اور رواداری کے فروغ کی خاطرتحمل اور برداشت کی فضا قائم کرنی ہو گی۔جس کے لئے اپنی نجی محفلوں اور اپنے حلقہ احباب میں مذہبی ، سماجی اور سیاسی گفتگو کے دوران ایک دوسرےکی رائے کا احترام عام کرنے کی کوشش کرنی ہو گی اور سب سے پہلے بذات خود اپنی تحریروں میں تحمل وبرداشت و حسن اخلاق کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا، تاکہ دوسرے آپ سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔معاشرتی بگاڑ کو روکنے کے لئے لکھاری اور صحافی کے ساتھ ساتھ اخبارمالکان اور میڈیا ہاوسزکو بھی اپنی معاشرتی ذمہ داری کااحساس کرتے ہوئے مثبت رویوں کا درس دینا ہو گا اور اختلاف رائے کو خوش اسلوبی سے قبول کرنے کی تعلیم بھی لازم ہے تاکہ باہمی تنازعات سے معاشرتی بگاڑ کو روکنے کی تربیت ممکن ہوسکے اور مثبت رویے آئندہ نسلوں میں منتقل ہو سکیں ۔

اس مقصد کے لئے لازم ہے کہ میڈیا ہاوسزاپنے کارکنان کوباقاعدہ تربیت دیں کہ غیر ضروری بحث اختلافات اور فسادات کاسبب بن سکتاہے۔اس لئے بے مقصد مباحثوں سے گریز کر کے مثبت پروگرامزاور تحریروں کے ساتھ باہمی روابط کو پروان چڑھایا جائے۔صحافیوں کو چاہئے کہ نوجوانوں کے لئے علاقائی سطح پر مصروف عمل ادارےقائم کریں، نوجوانوں کی تنظیموں کے ذریعے اپنے اردگرد موجود مختلف طبقات کے مابین اختلافات ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔نوجوانوں میں رواداری اور احترم کو فرو غ دینے کے لئے ماہانہ بنیادوں پر نشست رکھیں جس میں علاقائی سطح پر امن وامان کے قیام کے لئے باہمی مشاورت سے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور مل جل کر اس پر عمل درآمد بھی کرایا جائے۔صحافی کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ طلبہ و طالبات میں عدل و مساوات کو فروغ دیاجائے اور حتی الامکان رنگ و نسل، مذہب، مسلک اور زبان کی بنیاد پر تفریق کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

صحافی و لکھاری چونکہ معاشرے میں ایک خاص اثر رکھتے ہیں اس لئے وہ اپنے علاقوں میں مختلف مذہبی و لسانی طبقوں سے باہمی دوستی کا تعلق بنائیں اور مشترکہ طور پر تعلیمی، نصابی اور فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کریں۔اختلافات کو پس پشت ڈال کر معاملات کو حل کریں۔آئین پاکستان کی رو سے ہر فرد کو مذہب و مسلک اختیار کرنے کی مکمل آزادی ہے ۔عقیدے، مذہب یامسلک کی بنیاد پر دوسرے افراد کو نشانہ بنانا قانوناجرم ہے ۔ پاکستان کے قوانین کی رو سے ایسے تمام مواد تحریر و تقریر پر پابندی ہے جو نفرت آمیز، فرقہ وارانہ ، انتہا پسندانہ ہو یا دہشت گردانہ جذبات ابھارنے کا سبب بنتی ہو۔معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لئے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔اگر علاقے میں ایسی تنظیمیں، ادارے، گروہ موجود ہیں جو پر تشدد نظریات کو فروغ دے رہے ہیں تو صحافی و لکھاری کا فرض ہے کہ علاقے کے مکین، باشعور افراد، اساتذہ یا علاقائی اثر ورسوخ رکھنے والے افراد کے ساتھ مل کر ان کے خلاف متعلقہ تھانے میں شکایت درج کرائیں۔

قیام امن کی کاوشوں میں صحافی اور لکھاریوں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے صحافی کواپنی تحریروں میں اعتدال برقرار رکھنا چاہئے اور مناسب الفاظ کے چناو کے ساتھ رپورٹنگ کرنی چاہئے،معمولی سی غلطی بھی معاشرے میں تناوکی کیفیت پیدا کر سکتی ہے ، میڈیا ہاوسزکو اپنے حالات حاضرہ کے پروگرامز اور ٹاک شوز میں بالخصوص مذہبی پروگرامز میں احترام مذہب کا عنصر ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے اور اس حوالے سے مثبت روایات کو فروغ دینا چاہئے۔کالم نویس اور دیگر لکھاری کو چاہئے کہ معاشرے میں یہ سوچ اجاگر کریں کہ ہر انسان اپنی فکر، نظریے اور عقیدے کے مطابق اپنے آپ کو درست تصور کرتا ہے مگر اسے یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ وہ دیگر افراد کے نظریات، فکر و عقائد پر اعتراض کرے ۔پرامن بقائے باہمی کے اصول کے مطابق ہر شخص ، قوم ، مذہب اور نسل کو اس دنیا میں رہنے کا حق حاصل ہے ۔کسی بھی معاشرے میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لئے ہمیں بہر حال اس اصول کو تسلیم کرنا ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے