چینی صدر شی جنپنگ کو بنی نوع انسان کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا، عالمی حالات کے پیش نظر ممکنہ حل کی تلاش

چین میں تعین میکسیکو کے سفیر سر گئیو لی لوپیز نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے وژن اور دانشمندی کے سبب ان پر گہرا تاثر چھوڑا ہے، میکسیکو کے سفیر نے اپنے ایک حالیہ میڈیا انٹرویو میں کہا ہے کہ چینی صدر نے اپنی دانشمندی اور فہم و فراست سے انہیں بہت متاثر کیا ہے۔ فروری 2009 میں موجودہ چینی صدر شی جنپنگ نے، اس وقت کے چینی نائب صدر کے طور پر، میکسیکو کی حکومت کی دعوت پر میکسیکو کا دورہ کیا۔
یہ دورہ عالمی مالیاتی بحران کے پھیلنے کے ایک سال بعد کیا گیا تھا، جس نے عالمی سطح پر معیشت اور لوگوں کے روزگار اور معاشی عوامل پر شدید اثرات مرتب کیے تھے۔اس وقت کے اس دورے کے حوالے سے میکسیکن سفیر نے اپنی یادداشتوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ "اس دورے کے ذریعے، چین پر امید اور پرعزم تھا کہ وہ میکسیکو کی حکومت کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے انکے اقدامات اور تجربات بارے سیکھے گا، ساتھ ہی دو طرفہ کاروباری روابط کو بڑھا سکے گا اور دونوں فریقوں کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھائے گا،” میکسیکن سفیر لوپیز جو آج میکسیکن بزنس کونسل برائے غیر ملکی تجارت اور ٹیکنالوجی کے بزنس سیکشن برائے ایشیاء اینڈ اوشنیا میں بطور بزنس کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کا حوالہ یاد کرتے ہوئے میکسیکن سفیر لوپیز نے بتایا کہ، "صدر شی نے میکسیکو اور چینی کاروباری اداروں کے زیر اہتمام ظہرانے میں تقریر کی، جو سادہ، واضح اور متاثر کن تھی۔ صدر شی جنپنگ اس موقع پر بہت پرعزم تھے اور اس امر سے آگاہ تھے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے، اور وہ جانتے تھے کہ اسے اپنے ملک اور لوگوں کے لیے اپنی ذمہ داری کیسے پوری کرنی چاہیے،” ۔ "اس کے علاوہ، صدر شی جنپنگ اپنے خیالات اور آراء میں بہت حد تک اوپن، بے تکلف، اور وسیع النظر تھے، لی لوپیز نے مزید کہا کہ ہم نے ایک ایسے رہنما کو دیکھا جو دوسرے ممالک کے تجربات کا مطالعہ کر رہا تھا اور ذاتی کرشموں سے بھرا ہوا تھا۔ اپریل 2013 میں، میکسیکو کے اس وقت کے صدر Enrique Pena Nieto نے چین کا Boao Forum for Asia (BFA) کی سالانہ کانفرنس 2013 میں شرکت کہ حوالے سے چین کا دورہ کیا۔ لی لوپیز، ایک کاروباری نمائندے کے طور پر، اس سفر میں چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ رہے۔اس کانفرنس کا احوال اجاگر کرتے ہوئے لی لوپیز نے کہا کہ "کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں، صدر شی نے زور دیا کہ ایک ہی عالمی گاؤں کے ارکان کے طور پر، ہمیں مشترکہ تقدیر کی کمیونٹی کے احساس کو فروغ دینا چاہئے، اور وقت و حالات کے رجحان کی پیروی کرنا چاہئے، اور صحیح سمت پر خود کو رکھ کر چلتے رہنا چاہئے، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ رہنا چاہئے مشکل کا سامنا کرنے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ایشیا اور باقی دنیا میں ترقی نئی بلندیوں پر پہنچے،”۔ بائو فورم برائے ایشیا کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے میکسیکو کے پہلے صدر کے طور پر، Pena Nieto نے اس بات پر زور دیا کہ لاطینی امریکہ اور ایشیا میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ لی لوپیز نے کہا کہ وہ چین کے تجربے سے سیکھنا چاہتے تھے اور اپنے دورے کے ذریعے مشترکہ ترقی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پینا نیتو نے اس موقع پر صدر شی جنپنگ کو اپنی ملاقات کے دوران میکسیکو کے دورے کی دعوت دی، اور بعد ازاں شی جنپنگ نے اس دعوت کو قبول کر لیا، لی لوپیز نے نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے جاری کوششوں کو مزید موثر اور فعال انداز میں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے طرفین نے اپنی اپنی کوششوں کو استوار رکھنے پر زور دیا جون 2013 میں صدر شی نے میکسیکو کا سرکاری دورہ کیا۔
باہمی دوروں نے، جو صرف دو ماہ میں ادا کیے گئے، دونوں ممالک کی طرف سے اپنے تعلقات کی ترقی کی اہمیت کی نشاندہی کی گئی اور دونوں اطراف سے باہمی تعاون کے فروغ کا اعادہ کیا گیا۔ اس دورے کے دوران، چین اور میکسیکو نے اپنے تعلقات کو ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف بڑھانے کی اہمیت پر زور دیااور باہمی دو طرفہ تعلقات کو جامع اور طویل مدتی سٹریٹیجک شراکت داری کے پیرائے میں استوار کیا گیا۔ "صدر شی نے اس موقع پر کہا کہ دوستی گویا شراب کی مانند ہے، جتنا پرانا، اتنا ہی بہتر۔ میکسیکو اور چین کی دوستی پرانی شراب جیسی ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی جاتی ہے۔ لی لوپیز نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس موقع پر بڑے عالمی مسائل پر بہت سے مشترکہ مفادات اور ذمہ داریوں کے اشتراک کا اعادہ کیا جیسے کہ عالمی اقتصادی نظم و نسق کو بہتر بنانے اور عالمی گورننس کے نظام میں اصلاحات کو بہتر بنانے سے متعلق عوامل اور امور شامل تھے۔ صدر شی کے دورہ میکسیکو کے فوراً بعد، دونوں ممالک نے کئی فریم ورک اور باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے۔ اگرچہ چین اور میکسیکو بحرالکاہل کے سبب ایک دوسرے سے سینکڑوں میل دوری پر ہیں، لیکن انہوں نے اپنا رشتہ مزید مضبوط کرنے کا اعادہ اور وعدہ کیا۔ نومبر 2014 میں، میکسیکن صدر پینا نیتو نے دعوت پر چین کا ایک اور سرکاری دورہ کیا اور 22 ویں APEC اقتصادی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس بار، لی لوپیز اب بھی صدر کے وفد میں شامل تھے۔ جب چین اور میکسیکن صدر میں شامل لوگ یانچی جھیل کے کنارے تصویریں بنوا رہے تھے، جہاں ملاقات کا مقام تھا، پینا نیتو نے اپنے وفد کا شی جنپنگ سے تعارف کرایا۔ "جب صدر شی میرے قریب آئے، تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے مجھے پہچان لیا اور میری کام کے حوالے سے تعریف کی۔ انہوں نے مجھے چین کا اچھا دوست کہا،‘‘۔اس ملاقات کے حوالے سے لی لوپیز نے کہا کہ "مجھے آج بھی صدر شی جنپنگ کا وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ دوستانہ برتاؤ اور مضبوط مصافحہ میرے لیے ایک بھر پور یاد ہے۔ مجھے اپنے آپ پر فخر ہے کیونکہ میکسیکو-چین دوستی اور تعاون کو فروغ دینے کی میری کوششوں کو تسلیم کیا گیا،” ۔ چین میں میکسیکو کے سابق سفیر دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی ترقی کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس پروگرام نے بنیادی ڈھانچے، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کے ذریعے مختلف ممالک اور براعظموں کے درمیان امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کا پل بنایا ہے۔اس حوالے سے صدر شی جنپنگ کا دیا گیا ایک شاندار اقتباس ایسے ہے کہ، "جن مفادات پر غور کیا جائے وہ سب کے مفادات سے متعلق ہونے چاہئیں، لاطینی امریکہ میں بھی ایک ایسی ہی کہاوت ہے کہ پوری دنیا کو فائدہ پہنچا کر ہی ایک ملک انفرادی طور پر اپنا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جب کوئی سربراہ مملکت بنی نوع انسان کے خلاف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہو اور عالمی نقطہ نظر سے حل تلاش کر رہا ہو، تو دنیا اس کے وسیع وژن اور ذہن کو دیکھے گی،” لی لوپیز نے واضح انداز میں صدر شی جنپنگ کے خیالات بارے کہا،۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے