میں بیٹی کا باپ کیوں نہیں بننا چاہتا ؟

ہم کتنے اچھے انسان اور کتنے اچھے مسلمان ہیں. ہم کتنے اسلام پسند اور کتنے عاشق رسول ہیں ؟ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ انڈیکیٹر ہی کافی ہے کہ جس گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ ایک طرف اس رحمت کے نزول پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے تو دوسری طرف اس کے اچهے نصیب کے لئے دن رات دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ بیٹی کی پیدایش پر لوگ جب مبارکباد دیتے ہیں تو یہ دعا بھی ضرور دیتے ہیں کہ اللہ نصیب اچھے کرے۔ ایسا کیوں؟ عشقِ رسول میں ڈوبے اس معاشرے سے اتنا ڈر کیوں؟

ہمارے ہاں جو سلوک بہو کے ساتھ عموما روا رکھا جاتا ہے اس کی توقع دیندار یا کم دیندار تمام گھرانوں سے کی جا سکتی ہے یہ ہمارا ثقافتی اظہار ہے۔لڑکی جب تک کام کے قابل رہے تو سسرال والے میکے جانے کی اجازت دینے میں ہزار حیل و حجت کرتے ہیں اور اگر شدید بیمار پڑ جائے یا بچے کی پیدایش کا معاملہ ہو تو بہتر دیکھ بھال کے لئے میکے بھیج دیا جاتا ہے۔ اور اگر سسرال میں ہی رہنے دئیے جانے کا احسان کر دیں تو بہو کو عدم توجہ سے موت کے منہ میں دھکیل دینا معمولی بات ہے.ایسی بے غیرتی اختیار کرنے والے جب مسجد کی رونقیں بڑهاتے ہیں، نعت شریف سنتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں، اپنے گهر کی دلہنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والے جب گلی محلے کو دلہن کی طرح سجاتے ہیں تو …

ہمارے مولوی نے اپنے سننے والوں میں جو مزاج بھی پیدا کرنا چاہا وہ پیدا کر کے رہا۔ مولوی کی جتنی بھی مذمت کی گئی، لیکن وہ اپنا ہر ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن چونکہ اپنے سامعین کی اخلاقی تربیت اس کا ہدف کبھی رہا ہی نہیں، اسی لئے اسلام کی محبت ہو یا عشق رسول، یہ لوگوں کوان کی ایسی کسی غیر اخلاقی اور غیر انسانی حرکت سے انہیں روکتا نہیں۔ رسولِ خدا ﷺکی آخری وصیت میں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین بھی تھی۔ لیکن عشقِ رسول میں ڈوبی اس قوم کو اپنے محبوب رسول کی اس آخری وصیت پر عمل کی فرصت ہے نہ خیال ۔

بیٹیوں کو یہ کہہ کر رخصت کرنا کہ جس گھر میں تمہاری ڈولی جا رہی ہے وہاں سے تمہارا جنازہ نکلنا چاہئیے، اور یہ کہ سسرال میں لڑکیوں کے ساتھ ایسا تو ہوتا ہی ہے صبر کرنا چاہیے تھا اللہ صبر کا پھل دیتا ہے، یہ بیٹیوں کا بدترین استحصال ہے.۔ جو لڑکی اس ذلت پر پر سمجھوتہ نہ کر سکے، اسے بدتمیز اور ناعاقبت اندیش کہہ کر سارا معاشرہ رد کر دیتا ہے، کوئی کم دین دار یا کوئی عاشق رسول ایسی غیرت مند لڑکی سے شادی کرنا نہیں کرتا اور اگر وہ چاہے بھی تو اس کے گھر والے نہیں چاہیں گے، کہ پھر وہ مشق ستم کس پر کریں گے۔ ادھرگھر کے سربراہ بزرگ مرد حضرات یہ کہہ کر ان معاملات میں نہیں پڑتے کہ یہ عورتوں کے معاملات ہیں ۔ حالانکہ یہ ان کی مذھبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اپنی عورتوں کو حد سے آگے نہ بڑھنے دیں۔ ان سے قیامت کے دن اس کی پوچھ ہوگی، لیکن چونکہ مولوی نے کبھی بتایا ہی نہیں کہ اس پر بھی پوچھ ہو سکتی ہے اس لیے وہ بھی دین کو نماز، روزہ، چندہ اور تہوار منانے سے آگے کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ اسلام بالکل ایک سیکیولر اسلام ہے، جو مکمل طور پر ذاتی نوعیت کا ہے اور اس کا گھریلو معامالت سے کوئی لینا دینا نہیں۔

لڑکیوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر ان کا استحصال کرنے والا یہ معاشرہ ہرگز اس قابل نہیں کہ میں اس میں اپنی بیٹی کی پیدایش کا گناہگار بنوں. صاحبو یہ وجہ یہ کہ بیٹی کی شدید خواہش کے باوجود میں نہیں چاہتا کہ بیٹی کا باپ بنوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے