کچھ چیزوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر صرف ایک پاکستانی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
عمران خان صاحب کی دو دن کی گرفتاری پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بیان جاری کر دیا۔ لیکن یہ سیکرٹری جنرل اس وقت بالکل خاموش رہتے ہیں جب یاسین ملک کو لمحہ لمحہ قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ اس وقت بھی نہیں بول پاتے جب علی گیلانی کے جسد خاکی کی توہین کی جاتی ہے اور اہل خانہ کو تدفین و جنازے کی اجازت بھی نہیں ملتی۔
یہ زلمے خلیل زاد سے شرمن اور امریکہ سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سیکرٹری جنرل سے جرمن سفیر تک سب کا عمران کے لیے ماں کی طرح بے چین ہو جانا قابل غور ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کسی پراکسی کا میدان بن گیا ہے یا یہ سب محض اتفاق ہے۔