عیدالاضحیٰ: قربانی، اخلاص اور اسلامی جذبے کا عظیم تہوار

عیدالاضحیٰ اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے جو ہر سال مسلمانوں کے دلوں میں ایثار، قربانی، محبت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جذبہ تازہ کر دیتا ہے۔جیسے ہی یہ مبارک دن قریب آتے ہیں،پورے پاکستان میں ایک منفرد روحانی اور سماجی ماحول قائم ہو جاتا ہے۔گلیاں، بازار، مویشی منڈیاں اور گھروں میں عید کی تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ ہر طرف خوشی،جوش اور عبادت کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کی آمد سے قبل بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے۔لوگ نئے کپڑوں،جوتوں،گھریلو سامان اور بچوں کے لیے مختلف اشیاء کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔دکانیں رات گئے تک کھلی رہتی ہیں اور مارکیٹوں میں خریداروں کا ہجوم رہتا ہے۔عوامی سہولت کے پیشِ نظر حکومت بھی خرید و فروخت کے اوقات میں اضافہ کر دیتی ہے تاکہ لوگ آسانی سے اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔

اگرچہ ملک اس وقت شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود عیدالاضحیٰ کی تیاریوں میں لوگوں کے جوش و جذبے میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہوتی۔

مویشی منڈیاں عیدالاضحیٰ کا سب سے اہم اور دلکش حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ملک کے مختلف شہروں میں قائم بڑی بڑی منڈیوں میں دور دراز علاقوں سے بیوپاری اپنے جانور لے کر آتے ہیں۔گائے، بیل، بکرے، دنبے اور اونٹ مختلف نسلوں، رنگوں اور جسامت کے ساتھ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔بچے خاص طور پر قربانی کے جانوروں سے بے حد محبت کرتے ہیں اور انہیں شوق سے چارہ کھلاتے اور سجاتے ہیں۔

اس سال بھی جانوروں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ خوبصورت، صحت مند اور وزنی جانور لاکھوں روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔اس کے باوجود لوگ اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق قربانی کی سنت ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کی پرورش میں بیوپاریوں کو بہت محنت، وقت اور سرمایہ لگانا پڑتا ہے۔

جانوروں کی خوراک، دیکھ بھال،علاج اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے ان کی قیمتیں بھی زیادہ ہو جاتی ہیں۔اس لیے اگر بیوپاری مناسب قیمت طلب کرتے ہیں تو یہ ان کا جائز حق ہے۔ دوسری جانب مخیر حضرات بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے خوش دلی سے مہنگے جانور خریدتے ہیں اور قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

قربانی دراصل حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل اطاعت و تسلیم کا عملی نمونہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بے مثال فرمانبرداری کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیلؑ کی جگہ ایک دنبہ عطا فرما دیا۔ مسلمان ہر سال اسی عظیم یاد کو تازہ کرنے کے لیے قربانی ادا کرتے ہیں۔

اسلام میں قربانی کا اصل مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ، اخلاص اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔

قرآنِ مجید میں واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس کے نزدیک بندے کا تقویٰ اور خلوص زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لیے قربانی کرتے وقت نیت کا خالص ہونا انتہائی ضروری ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں بعض لوگ قربانی کو نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ مہنگے جانور خرید کر اپنی مالی حیثیت ظاہر کرنا، سوشل میڈیا پر غیر ضروری نمائش کرنا اور دوسروں پر برتری جتانے کی کوشش کرنا قربانی کی اصل روح کے خلاف ہے۔ اسلام سادگی،عاجزی اور اخلاص کا درس دیتا ہے۔اگر قربانی کے ساتھ غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کا خیال بھی رکھا جائے تو اس عبادت کی خوبصورتی مزید بڑھ جاتی ہے۔

عیدالاضحیٰ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دیں، دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کریں اور معاشرے میں محبت،بھائی چارے اور ہمدردی کو فروغ دیں۔ اگر قربانی کے ساتھ تقویٰ، ایثار اور اخلاص شامل ہو جائے تو یہی عبادت انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کو بھی پاکیزہ بنا دیتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے