کہتے ہیں کہ اگر حادثہ ایک بار ہو تو اتفاق ، دو بار ہو تو کوتاہی اور اگر بار بار ہو تو وہ کھلا جرم بن جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عطائی (Quacks) اسی سنگین جرم کے مرتکب ہیں، جہاں معمولی بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے والے سیدھے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ صرف کہانیاں نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ صحت اور معاشرتی بے حسی کے وہ نوحے ہیں جنہیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔
کورنگی کا 19 سالہ نوجوان عصمت اللہ دانت کے معمولی درد کے علاج کے لیے ایک مقامی نجی کلینک گیا۔ وہاں موجود ایک عطائی نے فوری آرام کے لیے ایک نامعلوم انجکشن لگایا۔ چند ہی منٹوں میں نوجوان کی حالت بگڑ گئی اور جناح ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ گیا۔ بعد ازاں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور پولیس کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ کلینک چلانے والا شخص سرے سے ڈاکٹر تھا ہی نہیں۔ کلینک سیل ہوا، ملزم کو گرفتار کیا گیا، لیکن عصمت اللہ کے بوڑھے ماں باپ کو ان کا لختِ جگر کبھی واپس نہ مل سکا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں ایک معصوم بچے کو معمولی علامات کے باعث مقامی کلینک لے جایا گیا۔ وہاں موجود مبینہ عطائی کے ایک غلط انجکشن نے بچے کی جان لے لی۔ میڈیا پر واویلا مچا تو صوبائی وزیرِ صحت کے حکم پر ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم (بشمول چیف انسپکٹر اسد اللہ خان اور انسپکٹر شاہد اقبال) نے انکوائری کی۔ انکشاف ہوا کہ یہ وہی کلینک تھا جسے غیر قانونی پریکٹس پر پہلے بھی سیل کیا جا چکا تھا، اور خود کو ڈاکٹر کہلوانے والا شخص دراصل محض ایک آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن تھا۔
حویلیاں کے مقامی نوجوان تاجر سجاد کو ہلکا بخار اور جسم میں درد ہوا تو وہ قریبی کلینک پہنچا۔ عطائی نے بغیر کسی الرجی ٹیسٹ کے ہائی ڈوز (High Dose) انجکشن لگا دیا۔ سجاد کا دم گھٹنے لگا اور وہ فرش پر تڑپنے لگا۔ یہ صورتحال دیکھ کر عطائی مریض کو سنبھالنے کے بجائے موقع سے فرار ہو گیا۔ سجاد تڑپ تڑپ کر مر گیا اہلیان علاقہ اور لواحقین نے سڑک پر لاش رکھ کر احتجاج کیا ، پولیس ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت حرکت میں آئے تو معلوم ہوا کہ ملزم ایک سابقہ ڈسپینسر تھا جو سٹیرائیڈز اور بھاری ادویات کے بے دریغ استعمال کو کاروبار بنا کر لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ایسا ہی ایک واقعہ ‘بفہ’ میں پیش آیا جہاں ایک محنت کش غلط ڈرپ لگنے سے دل بند ہونے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ وہ چیدہ چیدہ سچے واقعات ہیں جنہیں میڈیا رپورٹس کا حصہ ہیں ورنہ ایسے سینکڑوں واقعات قابل ذکر ہیں جو رپورٹ نہ ہو سکے عطائیوں کے پشت پناہوں نے دبا دئے۔
ان مروجہ حقائق کی روشنی میں اگر سرن ویلی، بالخصوص اپر سرن ویلی کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یہاں عطائیوں کا طوطی بولتا ہے اور وہ بے خوف و خطر انسانی زندگیوں کا سودا کر رہے ہیں۔
دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گورنمنٹ رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) نواز آباد میں محدود وسائل کے باوجود دو کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس (MBBS) ڈاکٹرز عوام کی مفت خدمت کے لیے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود سادہ لوح عوام ان ماہرین کے پاس جانے کے بجائے عطائیوں کے چنگل میں پھنسنا پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک گہری نفسیاتی الجھن ہے جہاں لوگ مستند ڈاکٹر کی فیس کا بہانہ بنا کر عطائیوں کے دعووں پر اندھا اعتبار کرتے ہیں۔
صورتحال مزید دلچسپ ، عجیب اور افسوسناک ہو جاتی ہے کہ جب بھی ان موت کے سوداگروں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے، تو معاشرے کا ایک مخصوص بااثر طبقہ ان کی پشت پناہی کے لیے سامنے آ جاتا ہے۔ ان کی منطق انتہائی مضحکہ خیز اور کھوکھلی ہوتی ہے: "صاحب! یہاں لوگ غریب ہیں، ڈاکٹروں کی فیس نہیں دے سکتے، یہ عطائی ہی رات گئے عوام کے کام آتے ہیں”۔
اس فضول دلیل کا سادہ اور منطقی جواب یہ ہے کہ:
ایک معمولی ڈپلومہ ہولڈر یا ٹیکنیشن جب ڈاکٹر کا روپ دھار کر ماہانہ لاکھوں روپے کما رہا ہو، تو وہ اپنے "گاہکوں” کو جوڑے رکھنے کے لیے دن رات تو دستیاب رہے گا ہی۔ یہ کوئی سماجی خدمت نہیں، بلکہ خالصتاً منافع بخش کاروبار ہے۔
یہ عطائی دراصل غریب عوام کے ہمدرد نہیں ہوتے، بلکہ یہ صرف علاقے کے بااثر اور طاقتور لوگوں کو مفت یا خصوصی خدمات فراہم کر کے ان سے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ جب بھی قانون کا شکنجہ کسا جاتا ہے، یہی بااثر افراد اپنے ذاتی مفادات اور ‘مفت کے علاج’ کے بدلے ان مجرموں کے لیے ڈھال بن جاتے ہیں۔
اپر سرن ویلی کے دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت کے منظم نظام کی کمی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن اس مجبوری کو جواز بنا کر کسی اناڑی کو کھلاڑی بننے اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ ان عطائیوں نے اب تک نہ جانے کتنے غریبوں کو خاموش موت کی نیند سلا دیا ہے، جن کے لواحقین اتنے کمزور تھے کہ بااثر لوگوں نے ان کی آواز دبا دی، یا وہ بے چارے یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ ان کے پیاروں کی موت کی اصل وجہ بیماری نہیں بلکہ ان کا اندھا اعتماد اور غلط علاج تھا۔
سرن ویلی کا المیہ یہ ہے کہ یہ علاقہ جیسے قانون کی پہنچ سے باہر ہے۔ سالہا سال سے جڑیں جمائے بیٹھے عطائی اس قدر نڈر ہو چکے ہیں کہ وہ صحافیوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہتے ہیں: "میری ڈگری اور لائسنس دیکھنا ہے تو ڈی ایچ او (DHO) افسر سے مانگو، وہ دکھائے گا”۔ یہ بیان اس محکماتی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس ناسور کو پال رہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم (صحافی) کیا کریں ، کہاں جائیں؟ اگر ہم آواز اٹھاتے ہیں تو بااثر اور طاقتور حلقوں کی طرف سے شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر خاموش رہتے ہیں تو سادہ لوح عوام کی زندگیوں کو لاحق یہ خطرہ ہمارے صحافتی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ لیکن یاد رہے، قلم کی حرمت مصلحت پسندی میں نہیں، حق گوئی میں ہے۔ انتظامیہ اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو اب خوابِ خرگوش سے جاگنا ہوگا، اس سے پہلے کہ سرن ویلی کا کوئی اور "سجاد” یا "عصمت اللہ” کسی عطائی کی بھینٹ چڑھ جائے۔