پاکستان کرکٹ آئی سی یو میں

پاکستانی قوم عجیب قوم ہے۔
بجلی جائے تو کہتی ہے شاید ابھی آ جائے
ڈالر بڑھے تو کہتی ہے شاید واپس نیچے آ جائے،
اور جب پاکستان کرکٹ ٹیم میدان میں اترے تو ہر دفعہ یہی امید لگاتی ہے کہ “شاید آج معجزہ ہو جائے۔”
لیکن اب تو لگتا ہے معجزے بھی پی سی بی کے دفتر کا راستہ بھول چکے ہیں۔
موضوع پڑھ کر یقیناً آپ چونکے ہوں گے کہ پاکستان کرکٹ آئی سی یو میں؟
مگر جناب! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا واقعی ہماری کرکٹ اس وقت وینٹی لیٹر پر نہیں؟
فرق صرف اتنا ہے کہ اسپتال والے آئی سی یو میں ڈاکٹر ہوتے ہیں اور ہماری کرکٹ والے آئی سی یو میں “منتظمین” بیٹھے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ بری حالت ہے تو وہ تین ہیں.
معیشت، ٹریفک اور کرکٹ۔
اور تینوں میں ایک چیز مشترک
اوپر بیٹھے لوگوں کو نیچے والوں کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں۔
قوم پہلے ہی دنیا کی سب سے زیادہ ذہنی دباؤ والی قوم بن چکی ہے۔
صبح اٹھتے ہیں تو پٹرول مہنگا،
دوپہر میں بجلی مہنگی،
شام میں آٹا غائب،
اور رات کو پاکستان ٹیم آل آؤٹ۔
اب بندہ خوشی کہاں سے تلاش کرے؟
ایک زمانہ تھا جب پاکستانی قوم کی خوشی دو چیزوں سے جڑی ہوتی تھی:
عید… اور بھارت کے خلاف میچ۔
اب حالت یہ ہے کہ عید پر بھی لوگ بجلی کے بل دیکھ کر خاموش بیٹھے ہوتے ہیں اور بھارت کے خلاف میچ سے پہلے ہی قوم کہتی ہے:
یار بس عزت رکھ لینا
ہم نے ہاکی کا جنازہ نکلتے دیکھا۔
وہ کھیل جس میں کبھی پاکستان دنیا پر حکومت کرتا تھا، آج محلے کے ٹورنامنٹ جتنی توجہ بھی نہیں پاتا۔
اور اب لگتا ہے وہی پرانی فائل نکال کر کرکٹ کے اوپر رکھ دی گئی ہے۔
رمیز راجہ کے دور میں کم از کم ٹیم لڑتی تو تھی۔
ہار بھی جاتی تھی تو محسوس ہوتا تھا کوشش کی گئی۔
فائنلز میں پہنچ رہی تھی، دنیا پاکستان کو سنجیدگی سے لیتی تھی۔
آج حالت یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے پہلے قوم درود شریف پڑھنا شروع کر دیتی ہے۔
کبھی وہ وقت تھا کہ بنگلہ دیش اگر پاکستان کے خلاف ایک سیشن اچھا کھیل لیتا تو کمنٹیٹر حیران ہو جاتے تھے۔
اور آج ہم پورے ٹیسٹ میچ میں حیران بیٹھے ہوتے ہیں کہ “یار یہ ہمیں واقعی ہرا رہے ہیں؟”
2003 میں جب بنگلہ دیش نے پاکستان کو ٹف ٹائم دیا تھا تو انضمام الحق دیوار بن کر کھڑے ہو گئے تھے۔
وہ صرف بلے باز نہیں تھے، پوری قوم کی عزت کا محافظ تھے۔
آج ٹیم میں شاید کوئی ایسا کردار ہی نہیں بچا جو شکست کو ذاتی بے عزتی سمجھے۔
بابر اعظم بہت بڑا کھلاڑی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔
قوم اس سے محبت کرتی ہے۔
لیکن بڑے کھلاڑیوں پر بڑے وقت آتے ہیں۔
اصل عظمت وہ ہوتی ہے جب پوری ٹیم ڈوب رہی ہو اور ایک بندہ کشتی بن جائے۔
جاوید میانداد، یونس خان، محمد یوسف، انضمام الحق… یہ لوگ صرف رنز نہیں کرتے تھے، میچ بچاتے تھے، قوم کا موڈ بچاتے تھے، ٹی وی بچاتے تھے جو لوگ غصے میں توڑنے لگتے تھے۔
اب تو بعض دفعہ ایسا لگتا ہے پاکستانی بلے باز گیند کھیلنے نہیں بلکہ جلدی جلدی گھر جانے آئے ہیں۔
ایک عجیب سی بےصبری، ایک عجیب سی لاپروائی۔
اور بولنگ؟
جناب پاکستان کی اصل پہچان تو ہمیشہ بولنگ رہی۔
ہماری فاسٹ بولنگ دنیا کے بیٹسمینوں کے خوابوں میں آیا کرتی تھی۔
وسیم اکرم گیند نہیں پھینکتے تھے، جادو کرتے تھے۔
وقار یونس یارکر نہیں کرتے تھے، ٹانگیں ضبط کرتے تھے۔
شعیب اختر صرف بالر نہیں تھا، وہ پاکستان کا غصہ تھا جو 160 کی رفتار سے نکلتا تھا۔
آج ہمارے بولرز کی رفتار سے زیادہ تیز تو سوشل میڈیا پر میمز بنتی ہیں۔
شاہین آفریدی بلاشبہ بہترین ٹیلنٹ ہے، لیکن ہر فارمیٹ کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ برداشت مانگتی ہے، مستقل مزاجی مانگتی ہے، غصہ نہیں، حکمت مانگتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کی دو اچھی گیندیں ٹیسٹ میں پوری زندگی نہیں چلا سکتیں۔
اور پھر انتظامیہ!
اللہ اللہ…
پاکستان میں ہر وہ آدمی کرکٹ چلا رہا ہے جس نے زندگی میں زیادہ سے زیادہ “گلی ڈنڈا” کھیلا ہوگا۔
ہمارے ہاں عہدے ایسے بانٹے جاتے ہیں جیسے شادی میں بریانی کی پلیٹیں۔
جس کو جہاں جگہ ملی بیٹھ گیا۔
محسن نقوی صاحب یقیناً قابل منتظم ہوں گے، مگر سوال یہ ہے کہ ایک بندہ اگر ملک بھی سنبھال رہا ہو، وزارت بھی دیکھ رہا ہو، سیکیورٹی بھی دیکھ رہا ہو، تو کیا وہ کرکٹ کو وقت دے سکتا ہے؟
کرکٹ شوقیہ مشغلہ نہیں، مکمل سائنس ہے۔
پھر کوچنگ اسٹاف کو دیکھ لیں۔
بنگلہ دیش مشتاق احمد جیسے اسپن لیجنڈ سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہم تجربات پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے پی سی بی نہیں، کوئی لیبارٹری چل رہی ہے۔
اصل مسئلہ صرف ہار نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اب ہار پر حیرت بھی نہیں ہوتی۔
قوم عادی ہو چکی ہے۔
یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
اور نیچے سسٹم کا حال تو اور بھی خوفناک ہے۔
انڈر 17، انڈر 19، ہائی پرفارمنس سینٹر… سب جگہ سفارش، گروپنگ، تعلقات۔
ٹیلنٹ اگر غریب گھر سے ہو تو اسے پہلے تعلقات تلاش کرنے پڑتے ہیں، پھر سلیکٹر۔
پی ایس ایل میں نوجوان لڑکے پرفارم کرتے ہیں، اگلے دن پوری قوم کہتی ہے “اسے ٹیم میں لاؤ”،
اور ٹیم میں آتا کون ہے؟
وہی جس کا نمبر پہلے سے لکھا ہوتا ہے۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ کرکٹ کیوں مر رہی ہے۔
صرف کھیل نہیں بگڑا، کھلاڑیوں کی تربیت بھی ختم ہو گئی۔
پہلے کرکٹرز شخصیت ہوتے تھے۔
بات کرتے تھے تو وقار جھلکتا تھا۔
آج سوشل میڈیا پوسٹیں زیادہ مضبوط ہیں اور تکنیک کمزور۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کھلاڑیوں کو صرف کور ڈرائیو نہیں، کردار بھی سکھایا جائے۔
میڈیا ہینڈلنگ، اخلاقیات، نظم و ضبط… یہ سب بھی کرکٹ کا حصہ ہیں۔
ورنہ کبھی حیدر علی کا قصہ، کبھی کسی اور کا تنازعہ، کبھی ڈسپلن ایشو…
ہر چند ماہ بعد پاکستان کرکٹ نئی شرمندگی تیار کر دیتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہماری کرکٹ بھی اسی قوم کی تصویر بن چکی ہے۔
اوپر نااہلی، نیچے بےبسی، درمیان میں شور۔
لیکن ابھی بھی وقت ہے۔
آئی سی یو سے مریض واپس بھی آتے ہیں… اگر ڈاکٹر سنجیدہ ہوں۔
اگر میرٹ آ جائے، اگر کرکٹ کرکٹرز کے حوالے کر دی جائے، اگر فیصلے سفارش کے بجائے صلاحیت پر ہوں، اگر نچلی سطح پر اکیڈمیاں مضبوط ہوں، اگر کھلاڑیوں کو تحفظ اور اعتماد دیا جائے… تو پاکستان کرکٹ دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے بچوں کو بیٹھ کر قصے سنایا کریں گے:
“بیٹا… ایک زمانہ تھا جب وسیم اکرم نام کا جادوگر ہوتا تھا…
اور ایک شعیب اختر تھا…
جو گیند نہیں، آگ پھینکتا تھا…”
پھر بچے پوچھیں گے:
“ابو! پاکستان کبھی واقعی اچھی کرکٹ بھی کھیلتا تھا؟”
اور ہم خاموش ہو جائیں گے۔
اللہ ہماری قوم، ہمارے کھیلوں اور خاص طور پر پاکستان کرکٹ کو ان نااہل کمپاؤنڈروں سے بچائے جو خود کو ڈاکٹر سمجھ بیٹھے ہیں۔
پاکستان پائندہ باد۔
پاکستان کرکٹ زندہ باد۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے