چکوال، پوٹھوہار کے دل میں بسا ہوا ایک شہر، جہاں کی فضا میں علم و ادب کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہ خطہ اپنی علمی روایت، شعری ذوق اور ادبی فضا کے لیے مشہور ہے۔ اسی سرزمین نے ایک ایسے ادیب کو جنم دیا جس نے اپنی زندگی کو تاریخ شاعری اور سفرنامہ نگاری کے رنگوں سے بھر دیا۔ یہ ہیں جمیل یوسف۔
ابتدا میں جمیل ہمدم، مگر کالج کے زمانے میں والد محترم یوسف کے نام سے نسبت اختیار کرتے ہوئے انہوں نے اپنی مستقل شناخت جمیل یوسف کے طور پر قائم کی۔ اور پھر یہ نام ان کی زندگی بھر کا حوالہ بن گیا۔
ضلع چکوال کے نواحی گاؤں لِنگا میں 22 دسمبر 1938ء کو پیدا ہونے والے جمیل یوسف کے والدین شعبۂ تدریس سے وابستہ تھے۔ان کے دو بھائی اور دو بہنیں بھی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیوں میں تعلیم اور سماجی خدمت کو محور بنایا اور یہی خاندانی روایت ان کی شخصیت میں معنوی گہرائی اور وقار کا سبب بنی۔ بچپن چکوال ہی میں گزرا وہیں سے تعلیم کا آغاز ہوا، اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور اور گارڈن کالج راولپنڈی تک یہ سفر بڑھتا گیا۔ انہوں نے تاریخ اور اردو میں ایم اے کیا اور تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیقی و تخلیقی سرگرمیوں میں بھی نمایاں رہے۔
ایم اے کرنے کے بعد وہ کچھ عرصہ تدریس سے وابستہ رہے، جس کے بعد انھوں نے پبلک سروس کا باقاعدہ مقابلے کا امتحان پاس کیا اور راولپنڈی میں طویل عرصے تک رینٹ کنٹرولر اور دیگر انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ بیوروکریسی کے اس دفتری ماحول میں رہ کر جمیل یوسف نے جس طرح اپنی شاعرانہ حسیت کو برقرار رکھا، یہی وہ نکتہ ہے جس کا اعتراف ان کے ہم عصروں نے کیا۔
شاعری کی طرف ان کا رجحان بچپن ہی میں پیدا ہوا۔ آٹھویں جماعت میں ان کی پہلی غزل روزنامہ تعمیر راولپنڈی میں شائع ہوئی۔ استاد نور حسین وفا نے غالب کے دیوان کو معنی کے ساتھ پڑھنے کی طرف مائل کیا، اور یہی ذوق آگے چل کر ان کی شاعری کی بنیاد بنا۔ غالب کے اشعار آج بھی ان کے حافظے میں تازہ ہیں۔
جمیل یوسف کا ادبی سفر 1962ء میں اس وقت شروع ہوا جب ان کی پہلی نثری کتاب بابر سے ظفر تک شائع ہوئی۔ یہ کتاب مغلیہ تاریخ پر ایک اہم تصنیف تھی، جس میں ان کے تحقیقی ذوق کی جھلک نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کی تاریخ پر متعدد گراں قدر کتابیں تحریر کیں، جن میں تاریخِ اسلام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔سرسید احمد خان پر ان کی تحقیقی تصنیف سرسید احمد خان شخصیت اور فن اکادمی ادبیاتِ پاکستان نے شائع کی، جبکہ حفیظ جالندھری پر لکھی گئی کتاب مقتدرہ قومی زبان بعد ازاں ادارہ برائے فروغِ اردو نے طبع کی۔
جمیل یوسف کا شمار پاکستان کے معروف شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں جمالیات، فکری اور زندگی کے بارے میں گہری بصیرت پائی جاتی ہے۔ ان کے کلام میں رومانویت کے ساتھ ساتھ ایک فلسفیانہ کیفیت بھی کارفرما ہے۔ اور غالب کے اثرات نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔ان کے شعری مجموعوں میں موجِ صدا، گریزاں، غزل اور شہرِ گمان شامل ہیں۔ ان کے کلام کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ وہ جذبات کی شدت کو بہت ہی خوبصورت اور سادہ پیرائے میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا لافانی شعر اس کا ثبوت ہے
آدمی اپنی ذات میں تنہا
عالمِ شش جہات میں تنہا
اے خدا تو ہی بے مثال نہیں
میں بھی ہوں کائنات میں تنہا
مجھ کو ہر ایک بات کا غم ہے
میں ہوں ہر ایک بات میں تنہا
گھر کے دامِ فریب میں بے کل
شہر کے حادثات میں تنہا
سفرنامہ نگاری میں جمیل یوسف نے اردو ادب کو دو اہم کتابیں دیں جل پری کے دیس میں، جو ڈنمارک کے سفر پر مبنی ہے، اور اے اللہ میں حاضر ہوں، جو حجازِ مقدس کے سفر کی روحانی روداد ہے۔ ان سفرناموں میں نہ صرف مناظر کی تصویریں ہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور ایمان کی گہرائی بھی جھلکتی ہے۔
دونوں سفرنامے محض سفر کی روداد نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور روحانیت کی کی عکاسی ہیں۔ ایک میں یورپ کی جدیدیت اور خوابوں کی دنیا ہے، دوسرے میں ایمان اور عقیدت کی شدت۔ یہی امتزاج ان کے سفرناموں کو اردو ادب میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
یہ اقتباس کتاب سے لیا گیا ہے۔
–
جل پری کے دیس میں
ڈنمارک کے ساحل پر کھڑی جل پری کا مجسمہ محض پتھر نہیں، بلکہ ایک خواب ہے جو سمندر کی لہروں کے ساتھ سانس لیتا ہے۔ میں نے جب اسے دیکھا تو یوں لگا جیسے داستانوں کی دنیا حقیقت کا روپ دھار کر میرے سامنے آ گئی ہو۔ اس مجسمے کے گرد سیاحوں کا ہجوم تھا، مگر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اور وہ جل پری ایک دوسرے سے خاموش گفتگو کر رہے ہوں۔ سمندر کی لہروں کی سرگوشیاں، سرد ہوا کا لمس اور اس پتھر کی خاموشی یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بنا رہے تھے جو محض دیکھنے کا نہیں بلکہ محسوس کرنے کا تھا۔
اے اللہ میں حاضر ہوں
کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دل کی کیفیت لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ آنکھوں سے بہتے آنسو، دل کی دھڑکن اور زبان پر جاری دعا یہ سب مل کر ایک ایسی روحانی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں انسان اپنی حقیقت کو پہچان لیتا ہے۔ جب پہلی بار نظر کعبہ پر پڑی تو دل نے گویا کہا یہ وہ مقام ہے جہاں زمین اور آسمان کے فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔ یہاں ہر انسان برابر ہے، ہر دل ایک ہی سمت جھک رہا ہے، اور ہر زبان ایک ہی نام پکار رہی ہے۔
جمیل یوسف کی تخلیقات پر علمی دنیا نے بھی بھرپور توجہ دی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ان کی شاعری پر ایم فل سطح پر تحقیقی مقالہ لکھا گیا، جبکہ پنجاب یونیورسٹی میں ان کی نثر نگاری پر ایم فل مقالہ تحریر کیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا ادبی سرمایہ محض تخلیقی نہیں بلکہ علمی و تحقیقی دنیا میں بھی معتبر حوالہ ہے۔
ڈاکٹر زاہد منیر عامر چیئرمین شعبہ اردو، پنجاب یونیورسٹی نے جمیل یوسف کی شاعری پر ایک تفصیلی تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے ۔ انہوں نے جمیل یوسف کے اندازِ بیاں کو انتہائی روشن اور واضح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے وقت کی بے رحمی اور لمحوں کے فرار گریزاں لمحوں کو اپنے شعری حسن میں اس طرح سمویا ہے کہ وہ قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
ڈاکٹر اعجاز راہی نے جمیل یوسف کی غزل کے اس خاص وصف کا ذکر کرتے ہیں جہاں انہوں نے روایتی غزل کے پیرائے میں جدید دور کے انسان کی تنہائی اور فکری انتشار کو کامیابی سے سمویا۔
منشا یاد کے بقول جمیل یوسف کا لہجہ دھیما اور بناوٹ سے پاک تھا، اور وہ ادبی گروہ بندیوں سے دور رہ کر صرف خالص تخلیقی کام پر یقین رکھتے تھے۔
ڈاکٹر رشید امجد نے اپنی خودنوشت عاشقی صبر طلب میں لکھتے ہیں کہ جمیل یوسف کا گھر اور دفتر راولپنڈی کے ادیبوں کے لیے ایک پناہ گاہ اور بیٹھک کی مانند تھی، جہاں وہ تمام ہم عصروں کی دل کھول کر میزبانی کرتے تھے۔
ڈاکٹر رحمت جمالکے مطابق جمیل یوسف کے مجموعے عشقِ حقیقی، فلسفیانہ فکر اور باطن و کائنات کے تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق جمیل یوسف کی غزل فکری گہرائی اور تخلیقی توانائی کے امتزاج سے اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
سید ضمیر جعفری کے مطابق جمیل یوسف ایک باوقار، دوست نواز اور فنکارانہ مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں، جن کی زندگی اخلاقی اقدار اور جمالیاتی شعور سے معمور ہے۔
مشفق خواجہ کے مطابق جمیل یوسف کی غزل جدید ادب اور حسنِ شاعری کا امتزاج ہے۔
پروفیسرفتح محمد ملک کے مطابق ان کی فکر انسان، خدا اور کائنات کے مثلث سے جنم لیتی ہے۔
پروفیسر خورشید رضوی کے مطابق ان کے کلام میں وقت کی بے کراں وسعت کا احساس جھلکتا ہے۔
پروفیسر توصیف تبسم کے مطابق شاعر کا منصب حسن کو پہچان دینا اور انسانیت کو وحدت تک پہنچانا ہے۔
ڈاکٹر ممتاز حسین کے مطابق ان کے محبوب کو کائنات میں زندگی عطا کرنے والا قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ برق کے مطابق ان کے نزدیک محبوب کی روحانی معنویت ہی اصل مرکز ہے۔
ڈاکٹر نذر زیدیکے مطابق جمیل یوسف کی غزل محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک تخلیقی و فکری تجربہ ہے۔
ڈاکٹر نذیر تبسم کے مطابق جمیل یوسف نے غزل کو جذباتی حرارت اور فکری گہرائی کے ساتھ نیا رنگ دیا۔ ان کے کلام میں روحانی جستجو اور کائناتی شعور کی جھلک نمایاں ہے۔
مشفق خواجہ کے مطابق جمیل یوسف کی غزل جدیدیت اور جمالیات دونوں کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اسے اردو غزل کی نئی جہتوں کا مظہر قرار دیتے ہیں۔
جمیل یوسف نے اپنی تحریروں میں علامہ اقبال، مرزا غالب فیض احمد فیض، احمد فراز، منیر نیازی، ڈاکٹر وزیر آغا احمد ندیم قاسمی، حفیظ جالندھری، اختر شیرانی اور مجید امجد جیسی عظیم شخصیات کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت کے اندرونی جوہر کو بہت ہی آسانی سے قاری تک پہنچا دیتے ہیں۔
جمیل یوسف کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کے ادبی روابط ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا، احمد ندیم قاسمی، عبد الحمید عدم حفیظ جالندھری اور احمد فراز جیسے بڑے شعرا و ادبا سے ان کے قریبی تعلقات رہے۔ سرگودھا اور لاہور میں قیام کے دوران یہ روابط مزید گہرے ہوئے۔ ان ملاقاتوں اور تعلقات نے نہ صرف ان کے ادبی شعور کو وسعت دی بلکہ ان کی شخصیت کو بھی نکھارا۔
روزنامہ جنگ اور نوائے وقت سمیت مختلف قومی اخبارات میں وہ باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف فکری گہرائی تھی بلکہ معاشرتی مسائل پر عملی تجاویز بھی شامل ہوتیں۔ اسلام آباد میں سی ڈی اے کے حوالے سے ان کا ایک کالم اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ ادارے کو مجبوراً پارکوں اور سبزہ زاروں کی حالت بہتر بنانے پر توجہ دینی پڑی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ قلم کی طاقت اگر خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کی جائے تو وہ عملی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ان کے کالموں میں سماجی فکر، شہری مسائل اور عوامی بہبود کے پہلو نمایاں ہوتے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ایک لکھاری کا اصل کردار صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کے حل کی طرف رہنمائی کرنا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں قاری کو سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے پر آمادہ کرتی تھیں۔
ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو یہ ہےکہ وہ صرف لکھنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ خود بھی عمل کے میدان میں قدم رکھتے۔ اپنے گھر کے سامنے انہوں نے ذاتی طور پر درخت لگا کر ماحول دوست رویے کو عملی رنگ دیا۔ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ وہ محض ناقد نہیں بلکہ ایک فعال شہری تھے، جو اپنی تحریروں کو اپنی زندگی کے عمل سے جوڑتے تھے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ دراز عطا کرے، ان کے قلم کو ہمیشہ تازگی اور قوت بخشے، اور وہ صحت و عافیت کے ساتھ مزید لکھتے رہیں۔ ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بنیں، اور ان کا قلم ہمیشہ اردو ادب کی خدمت کرتا رہے۔
ان کے چند اشعار
تیری آہٹ کے تعاقب میں ہوں صدیوں سے رواں
راستوں کے پیچ و خم میں ٹھوکریں کھاتا ہوا
–
جنت میں آپ ڈھونڈیے خور و قصور کو
جنت مرے لیے ہے زیارت حضور کی
–
سحر نہیں ہے، سحر کا مجھے فریب تو دو
شعاعِ روزنِ در کا مجھے فریب تو دو
کوئی چمک ہی نظر آئے جگنوں کی طرح
چراغِ راہ گزر کا مجھے فریب تو دو
ہوا ایک پھول ہی موجِ ہوا کے ہاتھوں میں
بہارِ شعبدہ گر کا مجھے فریب تو دو
یہ جانتا ہوں اندھیروں نے مجھ کو گھیر ا ہے
کسی طرح سے سحر کا مجھے فریب تو دو