دنیا شاید ایک ایسے دور کے دروازے پر کھڑی ہے جہاں انسان آہستہ آہستہ انسانوں سے زیادہ مشینوں اور روبوٹس پر اعتماد کرنے لگے گا۔ یہ بات بظاہر کسی سائنسی فلم کا منظر لگتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے آثار ابھی سے ہماری روزمرہ زندگی میں نظر آنے لگے ہیں۔
انسانی تعلقات میں خلوص کم ہوتا جا رہا ہے۔ خود پسندی، لالچ، مقابلہ بازی، طاقت کی ہوس اور ذاتی مفادات نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف اس بات سے خوفزدہ نہیں کہ باہر کی دنیا غیر محفوظ ہے، بلکہ انہیں یہ خوف بھی ہے کہ شاید وہ کسی دوسرے انسان پر اپنی جان، عزت، بچوں یا مستقبل کے حوالے سے اعتماد ہی نہ کر سکیں۔
اسی لیے آنے والے برسوں میں شاید انسان ایک محدود اور بند دائرے میں زندگی گزارنے کو ترجیح دے۔ ایک ایسا دائرہ جہاں صرف اس کی اپنی فیملی ہو، چند قابلِ اعتماد لوگ ہوں، اور باقی دنیا سے ایک فاصلہ رکھا جائے۔ لوگ کم میل جول رکھیں گے، کم تعلقات بنائیں گے، اور زیادہ تر زندگی گھروں کے اندر گزارنے کی کوشش کریں گے تاکہ خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ منظر کسی حد تک انسانی تاریخ کے ابتدائی ادوار سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔ جب انسان جنگلی درندوں سے بچنے کے لیے غاروں میں پناہ لیتا تھا، اپنے بچوں کو اپنی نگرانی میں رکھتا تھا، اور ہر اجنبی خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُس وقت خطرہ جنگل کے درندے تھے، اور آج خطرہ انسان کے اندر چھپا ہوا عدمِ توازن، لالچ اور بےحسی ہے۔
شاید ایک وقت ایسا آئے کہ لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے روایتی سکولوں پر مکمل انحصار نہ کریں۔ والدین یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو کس ذہن، کس ماحول اور کن لوگوں کے سپرد کر رہے ہیں۔ اسی طرح صحت کے میدان میں بھی لوگ مصنوعی ذہانت، گھریلو علاج، یا automated medical systems پر زیادہ اعتماد کرنے لگیں گے کیونکہ انسانی غفلت یا لاپرواہی سے خوف بڑھے گا۔
یہاں تک کہ روزمرہ سفر بھی ایک ذہنی دباؤ بن جائے گا۔ ایک والدین یہ سوچ کر پریشان ہوں گے کہ وہ اپنے بچے کی جان کسی ڈرائیور، بس والے یا اجنبی نظام کے حوالے کیسے کریں۔ نتیجتاً انسان کی زندگی مزید محدود، محتاط اور تنہا ہوتی جائے گی۔
مگر اس تمام تبدیلی کے باوجود ایک سوال ہمیشہ باقی رہے گا.
کیا مشینیں انسان کی جگہ لے سکتی ہیں؟
روبوٹس غلطیاں کم کر سکتے ہیں، فیصلے تیز کر سکتے ہیں، اور شاید زیادہ منظم بھی ہوں، مگر وہ محبت، ہمدردی، قربانی اور جذباتی تعلق پیدا نہیں کر سکتے۔ اگر انسان انسان پر اعتماد کھو دے، تو اصل بحران ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ انسانیت کے زوال کا ہوگا۔
شاید آنے والے بیس پچیس سال دنیا کو ایک نئی شکل میں ڈھال دیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں لوگ پہلے سے زیادہ محفوظ ہوں، مگر پہلے سے زیادہ تنہا بھی۔ جہاں سہولتیں زیادہ ہوں، مگر تعلقات کمزور۔ اور جہاں ترقی اپنی انتہا کو پہنچ کر انسان کو دوبارہ ایک خاموش، محدود اور خوفزدہ زندگی کی طرف لے جائے۔
کیونکہ انسان کی سب سے بڑی طاقت ذہانت نہیں، بلکہ اعتماد بنانے کی صلاحیت تھی۔ تہذیب اسی پر کھڑی ہوئی تھی۔ جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو لوگ دیواریں اونچی کرتے ہیں، دروازے بند کرتے ہیں، اور دل چھوٹے ہو جاتے ہیں۔