عیدِ قرباں، مہنگائی اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں

عیدالاضحیٰ اسلامی دنیا کا ایک عظیم، بابرکت اور روحانی تہوار ہے جو ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال اطاعت، صبر، ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مکمل تسلیم و رضا کا درس دیتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسم یا خوشی کا موقع نہیں بلکہ ایک مکمل فکری، اخلاقی اور سماجی پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس میں قربانی کے ساتھ ساتھ قرب، ہمدردی، مساوات اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ بھی شامل ہے۔

موجودہ دور میں جہاں ایک طرف معاشی مشکلات اور مہنگائی نے عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، وہیں عیدِ قرباں کے موقع پر یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ، چارے اور نقل و حمل کے اخراجات، اور مجموعی معاشی حالات نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے اس سنتِ ابراہیمیؑ کو ادا کرنا نسبتاً مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں صاحبِ حیثیت افراد پر یہ اخلاقی اور سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمزور، نادار اور مستحق افراد کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل کریں، کیونکہ قربانی کا حقیقی فلسفہ ہی ایثار، اشتراک اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا ہے۔

دوسری جانب عیدِ قرباں کے دوران صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کا مسئلہ ہر سال ایک سنگین صورتحال اختیار کر لیتا ہے۔ بدقسمتی سے دیکھا جاتا ہے کہ قربانی کے بعد آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے بجائے کھلے مقامات، گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف بدبو اور تعفن پیدا ہوتا ہے بلکہ مچھروں، مکھیوں اور مختلف وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ ایک مہذب اور باشعور معاشرے کی بنیادی اخلاقیات سے بھی متصادم ہے۔

اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم قربانی کے بعد آلائشوں کو فوری طور پر مناسب اور مقررہ مقامات پر منتقل کریں، بلدیاتی اداروں اور صفائی کے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف، محفوظ اور صحت مند بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔

مزید برآں، عیدِ قرباں ہمیں یہ بھی سبق دیتی ہے کہ عبادات صرف ظاہری عمل کا نام نہیں بلکہ ان کے ساتھ ذمہ داری، نظم و ضبط اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی لازم ہے۔ اگر ہم اپنی خوشیوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی فلاح، صفائی، اور اجتماعی بہتری کو بھی ترجیح دیں تو یہی ایک مثالی اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔

عیدِ قرباں ہمیں صرف خوشی اور قربانی کا موقع نہیں دیتی بلکہ یہ ہمیں ایک ذمہ دار شہری، باشعور انسان اور ہمدرد فرد بننے کا پیغام بھی دیتی ہے۔ اگر ہم مہنگائی کے اس دور میں ایثار کو زندہ رکھیں، مستحقین کا خیال کریں اور صفائی و نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں تو ہماری عید نہ صرف بابرکت ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی صحت مند، پاکیزہ اور پرامن بن سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے