چہرے: ایک حیرت انگیز تحقیق کی دلچسپ تفصیلات

اس سچ کو جھٹلا نہیں سکتے کہ انسان ہمیشہ سے خوبصورتی اور دلکشی کے رازوں کا متلاشی رہا ہے۔ کبھی دیر تک آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ہی عکس میں چھپی حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی دوسروں کے چہروں میں جھلکتی دلآویز مسکراہٹوں، پرکشش آنکھوں کی چمک اور تاثرات کی نرم و ملائم لہروں میں کسی پوشیدہ دلکشی کی تلاش میں کھو جاتا ہے۔ یہ سوال کہ جمالیاتی ذوق آخر ہے کیا، ہر دور میں مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے۔ کہیں اسے تناسب اور توازن سے جوڑا گیا، تو کہیں جذبات اور احساسات سے اور کہیں سماجی قبولیت کے پیمانوں سے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی چہرہ جسمانی ساخت ادراک، احساس اور ذہنی تاثر کا ایک پیچیدہ امتزاج سمجھا جاتا ہے، جسے ہر دیکھنے والا اپنے انداز سے پرکھتا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک عالمی تحقیق نے اسی پرانے مگر ہمیشہ تازہ رہنے والے موضوع کو ایک نئے زاویے سے روشنی میں رکھا ہے، جس نے سماجی، نفسیاتی اور حیاتیاتی پہلوؤں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اس تحقیق میں مختلف ممالک، ثقافتوں اور عمر کے طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی آراء کو اکٹھا کیا گیا۔ مجموعی طور پر 76 ممالک سے حاصل کردہ 52 مختلف مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں تقریباً 17 ہزار چہروں اور 30 ہزار سے زائد افراد کی درجہ بندی شامل تھی۔ نتائج نے ایک عمومی رجحان کی طرف اشارہ کیا کہ خواتین کے چہرے مجموعی طور پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش سمجھے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک اوسط خاتون کے چہرے کو مردوں کے چہروں کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد زیادہ دلکشی کا حامل قرار دیا گیا۔ تاہم یہ نتیجہ کسی سادہ یا سطحی فیصلے کی پیداوار نہ تھا، اس کے پیچھے مختلف جمالیاتی، نفسیاتی اور ثقافتی عوامل کارفرما تھے۔

تحقیق میں یہ بات بھی نمایاں ہوئی کہ نرم خد و خال، متوازن ساخت اور نسبتاً گول نقوش انسانی ذہن پر زیادہ خوشگوار اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو عمومی طور پر نسوانی چہرے میں زیادہ نمایاں پائے جاتے ہیں۔ جب انہی خصوصیات کو ڈیجیٹل یا تجرباتی طور پر کم کیا گیا تو کشش کی درجہ بندی میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ مرد کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی دیگر خواتین کے چہروں کو زیادہ دلکش قرار دیا۔ یہ پہلو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی ادراکِ حسن محض رجحان تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک مشترکہ جمالیاتی فہم بھی شامل ہوتی ہے جو ماحول اور تجربات کے ساتھ تشکیل پاتی ہے۔

عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق بتدریج کم ہوتا جاتا ہے، کیونکہ وقت کے اثرات چہرے کے نمایاں خطوط اور جلد کی ساخت کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کشش پیدائشی ساخت پر منحصر نہیں رہتی ہے۔ زندگی کے تجربات اور وقت کی روانی بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ ماہرین اس تحقیق کو ایک وسیع تر حقیقت کا حصہ قرار دیتے ہیں، جس کے مطابق انسانی خوبصورتی کے تصور میں سماجی رویے، ثقافتی ترجیحات اور ذہنی وابستگیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مختلف معاشروں میں خوبصورتی کے معیار بدلتے رہتے ہیں اور یہی تنوع اس تصور کو مزید پیچیدہ مگر دلچسپ بنا دیتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر عمومی رجحان کے مطابق نسوانی چہرے زیادہ دلکش سمجھے جاتے ہیں تو پھر جدید معاشروں میں میک اپ اور کاسمیٹکس کی صنعت اتنی وسعت کیوں اختیار کر گئی ہے؟ اس کا جواب خوبصورتی کی کمی یا زیادتی میں تلاش کرنا درست نہیں ہوگا۔ میک اپ دراصل نہ خامیوں کو چھپانے کا ذریعہ ہے یہ خود اظہار، اعتماد اور سماجی پیشکش کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ بہت سی خواتین کے لیے یہ ایک فن ہے جس کے ذریعے وہ اپنی شخصیت کے مختلف پہلو اجاگر کرتی ہیں۔ کچھ کے لیے یہ پیشہ ورانہ ضرورت ہے کچھ کے لیے ثقافتی روایت اور کچھ کے لیے محض ایک تخلیقی سرگرمی۔

یہ کہنا بھی سادہ پن ہوگا کہ خواتین میک اپ کے بغیر خوبصورت نہیں ہوتیں۔ حقیقت اس کے برعکس زیادہ متوازن ہے۔ انسانی چہرہ اپنی قدرتی حالت میں بھی ایک مکمل جمالیاتی نظام رکھتا ہے، جس میں جلد کا رنگ، آنکھوں کی چمک، اور تاثرات کی حرارت اپنی الگ دلکشی پیدا کرتے ہیں۔ میک اپ اس فطری حسن کو بدلنے کے بجائے بعض اوقات اسے نمایاں کرنے کا کام کرتا ہے، مگر یہ کسی بھی صورت بنیادی خوبصورتی کا متبادل نہیں ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ تحقیق ہمیں کسی ایک حتمی نتیجے تک نہیں پہنچاتی ہے یہ باور کراتی ہے کہ خوبصورتی ایک متحرک تصور ہے، جو وقت، معاشرہ اور انسانی ذہن کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی بھی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے