پشتو ادب اور تحقیق کی دنیا میں ایسے اہلِ قلم بہت کم نظر آتے ہیں جو اپنی شخصیت کی سادگی، علم کی گہرائی اور فکری بصیرت کی روشنی سے کسی بھی ادبی تخلیق کو ایک منفرد وقار اور معنوی خوبصورتی عطا کر سکیں۔ زیرِ نظر کتاب کے مصنف عثمان علی ہیں جن کا ادبی تخلص “ننگیالے” ہے۔ آپ کا تعلق ضلع صوابی کی تحصیل رزڑ کے خوبصورت گاؤں نوے کلے سے ہے، جہاں کی علمی و ادبی فضا نے آپ کی شخصیت اور فکر پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ تعلیمی اعتبار سے آپ نے پشتو ادب میں بی ایس اور ایم فل کی اعلیٰ منازل طے کی ہیں، جو آپ کے علمی ذوق اور تحقیق سے وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ اس وقت آپ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج صوابی میں بطور لیکچرر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور نوجوان نسل کی علمی رہنمائی میں مصروف عمل ہیں۔
عثمان ننگیال نہ ایک محقق اور استاد ہے ایک خوش مزاج، بااخلاق اور نرم گفتار شخصیت کے بھی حامل ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی اور رویے میں وقار نمایاں نظر آتا ہے، جو انہیں اپنے ہم عصروں میں ایک منفرد پہچان عطا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پشتو زبان کے ایک قادر الکلام شاعر بھی ہیں جن کی شاعری میں الفاظ کی خوبصورتی ہی نہیں ہے فکر کی تازگی اور احساس کی گہرائی بھی جھلکتی ہے۔ ان کے اشعار میں امن، محبت، ترقی اور خوشحالی کے روشن پیغامات کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کے لیے مثبت سوچ، تعمیری رویے اور کردار سازی کی واضح ترغیب ملتی ہے، جو ان کی شاعری کو ایک فکری تحریک بنا دیتی ہے۔
انہی علمی، ادبی اور فکری خوبیوں سے مزین شخصیت کے حامل عثمان ننگیال کی زیرِ نظر تحقیقی کاوش ان کی سنجیدہ علمی سوچ، گہری مشاہداتی صلاحیت اور فکری پختگی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس تحقیق میں انہوں نے پشتون تاریخ کی ایک اہم شخصیت کے مطالعے کو نہایت منظم، مدلل اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، جس سے نہ قاری کی علمی پیاس کی تسکین ہوتی ہے بلکہ تحقیق و مطالعے کا ایک نیا شعور بھی بیدار ہوتا ہے۔
اسی تحقیقی تسلسل کا ایک اہم پہلو وہ کتاب ہے جو پشتو ادب اور تاریخ کی دنیا میں ایک ادبی تصنیف ہے بلکہ ایک پورے عہد، فکری روایت اور قومی شعور کی نمائندگی کرتی ہے۔ “د روشن خان ژوند او زيار” بھی انہی اہم کتب میں شمار ہوتی ہے، جس میں عثمان ننگیال نے پشتون تاریخ کی معروف شخصیت خان روشن خان کی زندگی، فکری جہات، ادبی خدمات اور تاریخی کردار کا جامع اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔
یہ کتاب اب اشاعت کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور بہت جلد قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی۔ موجودہ دور میں جہاں تحقیق کے نام پر سطحی اور غیر مستند مواد عام ہوتا جا رہا ہے، وہاں عثمان ننګيال کی یہ کاوش یقیناً ایک سنجیدہ علمی اضافہ ثابت ہوگی۔ اس کتاب کی اشاعت پشتو ادب بلکہ پشتون تاریخ اور تحقیقی روایت کے لیے بھی خوش آئند پیش رفت ہے۔
مزید برآں، کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی بھی ہے کہ مصنف نے مواد کو منظم تحقیقی انداز میں ترتیب دیا ہے۔ پہلے باب میں خان روشن خان کی ذاتی زندگی، خاندانی پس منظر، تعلیم، سیاسی و سماجی حالات اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب سے اندازہ ہوتا ہے کہ روشن خان ایک مؤرخ نہیں تھے وہ اپنے ماحول اور قوم کے درد کو محسوس کرنے والے حساس انسان بھی تھے۔
دوسرا باب ان کی سیاسی اور ادبی جدوجہد پر مشتمل ہے۔ عثمان ننګيال نے اس حصے میں نہایت خوبصورتی سے واضح کیا ہے کہ خان روشن خان کا سیاست سے تعلق اقتدار یا شہرت کے لیے نہ تھا وہ عوامی خدمت اور قومی شعور کے لیے سرگرم رہے۔ “ويښ پښتون” جیسی تنظیم کا قیام ہو یا علمی و ادبی سرگرمیاں، ہر جگہ ان کی فکر میں قوم اور زبان کی محبت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
تیسرے باب میں مصنف نے خان روشن خان کے علمی و ادبی آثار کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ “د پښتنو اصليت”، “یوسفزی قوم کی سرگزشت” اور “ملکه سوات” جیسی کتابوں پر تحقیقی گفتگو کرتے ہوئے عثمان ننګيال نے ان کے موضوعات بیان کیے ہیں بلکہ ان کے فکری اور تاریخی پہلوؤں کا تنقیدی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔ خاص طور پر “ملکه سوات” کے حوالے سے پشتون تاریخ کے دردناک پہلوؤں کو جس انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ پڑھنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔
چوتھا باب پشتونوں کی اصل نسل سے متعلق نظریات پر مبنی ہے۔ اس باب میں بنی اسرائیلی اور آریائی نظریات پر علمی انداز میں بحث کی گئی ہے۔ مصنف نے ایک طرف خان روشن خان کے مؤقف کو بیان کیا ہے تو دوسری طرف جدید تحقیق، لسانیات اور تاریخ کی روشنی میں مختلف آراء کو بھی جگہ دی ہے۔ یہی متوازن رویہ اس کتاب کو ایک سنجیدہ تحقیقی مقام عطا کرتا ہے۔
پانچواں اور آخری باب اس کتاب کا شاید سب سے اہم حصہ ہے جس میں مختلف اہلِ علم اور محققین کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خنیف خلیل، پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسرت اور پروېش شاہین جیسے اہلِ علم کی گفتگو اس تحقیق کو مزید معتبر بناتی ہے۔ اختلافِ رائے کے باوجود علمی احترام اور مکالمے کی فضا اس باب کی نمایاں خصوصیت ہے۔
عثمان ننګيال کی اس کتاب کا ایک بڑا وصف یہ بھی ہے کہ انہوں نے خان روشن خان کی صرف تعریف نہیں کی ہے ان کے نظریات اور دلائل کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ یہی علمی دیانت ایک سچے محقق کی پہچان ہوتی ہے۔
“د روشن خان ژوند او زيار” دراصل ایک ایسے شخص کی علمی یادگار ہے جس نے پشتون تاریخ، شجرہ نویسی، قبائلی روایات اور قومی شعور کے تحفظ کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ اور عثمان ننګيال نے اپنی اس تحقیقی کاوش کے ذریعے نہ روشن خان کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے انہوں نے پشتو کی تاریخی اور ادبی تحقیق کے میدان میں ایک اہم اضافہ بھی کیا ہے۔