اسفارِ حسینؑ ؛ قسط ۸ -یومِ عاشور: خطباتِ حسینؑ اور شہادتِ کربلا

اسلامی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ میں دسویں محرم الحرام کا دن سب سے زیادہ المناک اور روح کو جھنجھوڑنے والا دن ہے۔ اس دن کا تذکرہ کرتے ہوئے قلم تھرتھراتا ہے، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، اور الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں پاتا کہ کربلا کے اس دردناک منظر کی منظر کشی کر سکوں کہ خیموں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادے کی کیفیت بیان کر سکوں، یا اس لمحے کو لفظوں میں ڈھال سکوں جب نواسۂ رسولؐ کے گھوڑے کی باگ تھامنے والا کوئی نہ رہا۔

اسفارِ حسینؑ: قسط نمبر ۶

اللہ تبارک وتعالیٰ نے توفیق دی کہ بہت بھاری دل کے ساتھ اسفارِ حسین کی گزشتہ قسطوں میں یکم سے نہم محرم تک کے واقعات کو قلم بند کر سکا۔ لیکن جب عاشور کا موڑ آیا تو یہ حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ سامنے آئی کہ یہ مرحلہ قلم کی طاقت سے باہر ہے۔ بہرحال کوشش کرتا ہوں کہ ان بہتّر ہستیوں کی شجاعت پر روشنی ڈالوں، اور خصوصاً ان خطبات کو زیرِ قلم لاؤں جو امام حسینؑ نے کربلا کے اس سانحے کے موقع پر اپنوں کے سامنے اور صفِ دشمن کے روبرو ارشاد فرمائے تھے۔

سفارِ حسین: قسط نمبر ۵

مجھے دمشق کی وہ ساعت یاد آتی ہے جب دربارِ یزید میں زین العابدین علیہ السلام کے خطبے کے بعد جب مؤذن نے اذان میں ‘‘اشھد ان محمداً رسول اللہ’’ کے کلمات بلند کیے، تو اس ولیِ خدا نے فرمایا: ‘‘بتاؤ کس کا نام باقی ہے؟ یقیناً محمدؐ کا، اور باقی رہے گا ان کی آل کا۔’’ کربلا نے اسلام کو زندہ رکھا۔ حسینؑ نے اپنے خون سے دین کی تحریر کو ناقابلِ مٹائی بنا دیا۔

یومِ عاشور کی صبح

دسویں محرم سن اکسٹھ ہجری کربلا کی سرزمین پر فجر کی نماز کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو اپنے گرد جمع کیا اور شہادت سے پیشتر آخری خطبہ ارشاد فرمایا۔ ابن سعد کا لشکر مقابل صف آراء تھا تیس ہزار سے زائد جنگجو، اور سامنے صرف بہتّر سر فداہ۔ لیکن اس چھوٹی سی جماعت کے دلوں میں ایمان کا ایسا سورج روشن تھا جسے کوئی لشکر بجھا نہ سکتا تھا۔

اسفارِ حسین ؛ قسط نمبر 4

روایات میں آتا ہے کہ جب امام حسینؑ کے اصحاب صف بستہ ہوئے تو ان کی تعداد قلیل تھی، لیکن ابنِ سعد کے سپہ سالاروں کا دل دھڑک رہا تھا۔ عمرو بن حجاج کو ابنِ سعد نے میمنہ کا قائد بنایا تھا اور وہ کُوفہ کے قریب لوگوں کو پانی سے روکنے والا بھی تھا۔ جب اصحابِ حسینؑ نے دریائے فرات کا رخ کیا تو انھیں روک دیا گیا۔ لیکن آج صبح میدان میں جو ثابت قدمی دکھائی دی، اس نے دشمن کے پاؤں تلے زمین کھینچ لی۔

امام حسین علیہ السلام گھوڑے پر سوار ہوئے اور دشمن کے لشکر کے قریب آکر ایک ایسے خطبے سے فضا کو گنجھلا دیا جس کی گونج آج بھی تاریخ کی وادیوں میں سنائی دیتی ہے۔ حضرت علی بن حسین زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

اسفارِ حسینؑ: حق کے مسافر کا شاہراہِ عام پر سفر (قسط نمبر ۳)

اے لوگو! اس بات پر غور کرو جو میں کہہ رہا ہوں، اور جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ میں تمہیں وہ نصیحت کر لوں جو تم پر لازم ہے، اور تم پر میری حجت پوری ہو جائے۔ پھر اگر تم نے انصاف کیا تو سعادت مند ہوگے، اور اگر انکار کیا تو تم پر وبالِ عمل ہے۔ گواہ ہے اللہ اور فرشتے۔
آپؑ نے اپنا نسبِ شریف بیان فرمایا کہ میں اس کا فرزند ہوں جس کے باپ نبیِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جس کی ماں فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا ہیں، جس کے نانا رسولِ خدا ہیں۔ پھر فرمایا: “پس کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کے نانا نبی ہوں؟ اگر نہیں، تو پھر مجھ پر تلوار کیوں؟”

اسفارِ حسینؑ: تاریخ جس کی ہم سفر ہے (قسطِ دوم)

لشکر پر سکوت چھا گیا۔ لیکن وہ سکوت شرم کا تھا، جواب کا نہیں۔ کُوفہ کے لوگ جانتے تھے کہ جو سامنے کھڑا ہے وہ کون ہے لیکن دنیا اور حکومت کی محبت نے ان کی آنکھیں اندھی کر دی تھیں۔

پھر امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا وہ کلمات جو بہادری اور ایمان کی تاریخ کا سب سے روشن باب ہیں:

میں موت کو سعادت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا، اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو ذلت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔

روایت ہے کہ جب آپؑ نے اہلِ کُوفہ پر اتمامِ حجت کیا اور ان کے خطوط کو یاد دلایا وہ خطوط جو انھوں نے آپؑ کو دعوت دیتے ہوئے لکھے تھے تو بعض نے آنکھیں جھکا لیں اور بعض نے منہ موڑ لیا۔ امام نے فرمایا: "اگر تم نہیں سمجھتے تو تمھاری آنکھیں بند ہیں، دل نہیں۔”
حُرّ بن یزید الریاحی جو صبح تک ابن سعد کے لشکر میں تھے جب انھوں نے امامؑ کا یہ خطبہ سنا، تو ان کے دل میں ہلچل مچ گئی۔ وہ اپنے گھوڑے کو موڑ کر امام حسینؑ کے قدموں میں آ گرے اور معافی مانگتے ہوئے کہا: “کیا میری توبہ قبول ہوگی؟” امامؑ نے فرمایا: “ہاں، اللہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔” اور حُرّ جو کبھی راستہ روکنے والا تھا کربلا کے آزاد مردوں میں شامل ہو گئے۔۲

بہتّر کی شجاعت ؛ ایمان کا معجزہ

جنگ شروع ہوئی اور اس جنگ میں صرف جسم نہیں لڑے، روحیں لڑیں۔ امام حسینؑ کے ہر صحابی نے ایک ایسی شجاعت کا مظاہرہ کیا جو تاریخ نے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ علی اکبرؑ میدان میں اترے تو رسولِ خداؐ کی سیرت آنکھوں کے سامنے آ گئی ان کا چہرہ، ان کی آواز، ان کی چال سب نبیؐ کی یاد دلاتی تھی۔

اسفارِ حسین علیہ السلام

حضرت عباس علمدارؑ نے بھائی کی پیاسی فوج کے لیے پانی لانے کی کوشش میں وہ بازو گنوا دیے جو کربلا کے نقشے پر ایمان کی علامت بن گئے۔ اور جب ان کے ہاتھ کٹ گئے تو علَم کو دانتوں سے تھام لیا یہ ہے وہ استقامت جو انبیاء کے گھرانے ہی پیدا کر سکتے ہیں۔

ابن مسلم بن عقیل، حبیب بن مظاہر، مسلم بن عوسجہ، زہیر بن قین یہ وہ نام ہیں جو کربلا کی فہرستِ سربلندی میں سرِ فہرست ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے امام حسینؑ کی اجازت مانگ کر میدان میں قدم رکھا اور جامِ شہادت نوش کیا اور ہر ایک کا رخصت ہونا امامؑ کے دل پر ایک اور زخم تھا۔

3.سیّدہ زینبؑ – صبر کی تصویر

جب اصحاب کے جسم گرنے لگے، خیمے آگ کی لپیٹ میں آنے لگے، اور بچوں کی پکاریں بلند ہوئیں اس وقت بھی حضرت زینبؑ کا صبر پہاڑ کی طرح قائم رہا۔ وہ خیموں میں موجود تھیں، یتیموں کو سنبھال رہی تھیں، زین العابدینؑ کی تیمارداری کر رہی تھیں، اور ساتھ ہی بھائی کے حال پر آنسو بھی بہا رہی تھیں۔

جب ابنِ زیاد نے قید میں انہیں طعنہ دیا کہ “تم نے اپنے بھائیوں کو کیسا پایا؟” تو سیّدہ زینبؑ نے وہ جواب دیا جو تاریخ کا سب سے بلند الفاظ ہیں: "میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا۔” یہ وہ صبر ہے جو صرف اللہ کی خصوصی عنایت سے نصیب ہوتا ہے۔

کربلا کا پیغام ہر دور کے لیے

کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں یہ ہر دور کے مسلمان کے لیے ایک آئینہ ہے۔ امام حسینؑ نے جب فرمایا: "کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے روکا نہیں جا رہا؟” تو یہ کلمات آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے اس روز تھے۔

ابنِ زیاد، شِمر، عمر بن سعد یہ محض تاریخی نام نہیں، یہ ہر دور میں موجود رہنے والی اس ذہنیت کی علامتیں ہیں جو اقتدار کے لیے خدا اور رسولؐ کو فراموش کر دیتی ہے۔ جب تک مسلمان ان نفوس کو اپنے اندر پہچان کر ان سے آزاد نہیں ہوں گے، کربلا کا سبق ادھورا رہے گا۔

۴.امام حسینؑ کی شہادت نے اسلام کو وہ دوامی تحفظ دیا جو شاید لشکروں سے بھی نہ ملتا۔ شہادت نے ظلم کے چہرے سے نقاب اٹھا دی اور حقیقت کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔ تبھی تو زین العابدینؑ نے دمشق کے دربار میں کہا: "محمدؐ کا نام باقی ہے اور ان کی آل کا بھی۔”

میں اس قسط کو یہاں روکتا ہوں

مزید لکھنے کی ہمت نہیں۔ میں معذرت خواہ ہوں کہ اس سفر کا یہ مرحلہ میں پوری طرح قلم بند نہیں کر پایا۔ اللہ پاک درجات بلند فرمائے اپنی قدر و منزلت کے مطابق شہدائے کربلا کی آمین۔

اللهم صل على محمد وآل محمد وعجل فرجهم والعن أعداءهم أجمعين۔

اور میں اس لیے بھی ان تمام شہادتوں کا تذکرہ کرنے سے قاصر ہوں کہ میں خود آلِ محمدؐ سے ہوں اور واقعتاً حسینؑ سے، فاطمہ و علیؑ سے محبت کرتا ہوں، اور یہ محبت کہتی رہے گی۔

میں اس سلسلے کو یہاں منقطع نہیں کروں گا کوشش ہوگی کہ گیارہ محرم کے بعد کے واقعات کو بھی زیرِ قلم لاؤں۔ عاشور کے بعد کیا ہوا وہ اسیری، وہ سفر، وہ خطبات ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب بھی کربلا ہی کی داستان کے ایسے باب ہیں جن پر قلم اٹھانا فرضِ عین ہے۔

ہم پر یہ فرضِ عین ہے کہ عاشور کے بعد جو ہوا اسے بھی زیرِ قلم لائیں۔ لیکن غم یہ ہے کہ ان قسطوں کو “اسفارِ حسینؑ” کیا نام دوں گا .جب حسینؑ نہیں رہیں گے؟

حواشی

۱۔ شیخ مفید، الارشاد، جلد ۲، صفحہ ۹۶-۹۸؛ طبری، تاریخ الرسل والملوک، جلد ۵، صفحہ ۴۲۴-۴۲۶۔
۲۔ ابوُ مِخنَف، مقتلِ الحسین، روایتِ توبۂ حُرّ؛ ابنِ اثیر، الکامل فی التاریخ، جلد ۴، صفحہ ۵۹-۶۱۔
۳۔ ابنِ طاووس، اللہوف علی قتلی الطفوف، صفحہ ۱۱۲-۱۳۰؛ نفسِ المہموم، شیخ عباس قمی۔
۴۔ ذکرۃ الالباب ، مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور پاکستان، صفحہ ۳۱۲-۳۳۰۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے