پاکستان کا اقوام متحدہ سے اہم مطالبہ

نیویارک(محمد نعمان خان): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کو مزید مضبوط، مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن مشنز میں اصلاحات کا مقصد ان کے مینڈیٹ کو کمزور یا محدود کرنا نہیں بلکہ ان کی کارکردگی اور مؤثر عمل درآمد کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے اقوام متحدہ کی مختلف اقسام کی امن کارروائیوں کے مستقبل کے جائزے پر بریفنگ کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تنازعات کی تعداد اور پیچیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کو محدود وسائل، بڑھتی ہوئی توقعات اور مسلسل اصلاحات کی ضرورت کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی امن کاری کا ایک طویل عرصے سے نمایاں حامی ہے اور اسے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام اور تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کا اہم ترین ذریعہ سمجھتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد کے مطابق اقوام متحدہ کی امن کاری سیاسی عمل کا متبادل نہیں، تاہم مختلف تنازعات میں امن مشنز نے جنگ بندی میں معاونت، شہریوں کے تحفظ اور نازک امن انتظامات کی نگرانی کے ذریعے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن میں سیاسی حل کی جانب پیش رفت ممکن ہوئی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں امن سازی، تنازعات کی روک تھام اور تنازعات کے پرامن حل پر دی جانے والی اہمیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول اقوام متحدہ کے منشور کے باب ششم میں واضح طور پر موجود ہیں۔ ان کے بقول امن کاری اور امن سازی کو ایک دوسرے کے معاون اور باہم تقویت دینے والے عناصر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستانی سفیر نے ان حالات میں، جہاں سیاسی عمل تعطل کا شکار ہو، سیکریٹری جنرل کی مساعیِ خیر، سلامتی کونسل کی فعال شمولیت اور دیگر سفارتی کوششوں کو مزید فوری اور مؤثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ امن اور سیاسی تصفیے کی جانب پیش رفت بحال کی جا سکے۔

رپورٹ کی سفارشات کے حوالے سے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ انہیں بنیادی طور پر اقوام متحدہ کی کارروائیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے مقصد سے دیکھا جانا چاہیے اور ایسی من پسند تشریحات سے گریز کیا جانا چاہیے جو امن مشنز کے مینڈیٹ کو کمزور کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ "معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مینڈیٹ کس طرح کم کیے جا سکتے ہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ان کی کارکردگی کیسے بہتر بنائی اور ان پر عمل درآمد کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "اصلاحات کا مقصد امن کارروائیوں کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، انہیں کھوکھلا کرنا نہیں۔”

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن مشنز کی کارکردگی بہتر بنانے اور غیر ضروری تکرار کو کم کرنے کی ضرورت ہے، تاہم اخراجات میں کمی کو اصلاحات کی بنیادی منطق نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق امن کاری عالمی سطح پر ایک اجتماعی مفاد ہے، جس کے لیے مناسب وسائل اور سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت کی مستقل سیاسی حمایت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی امن کارروائیاں ایک اجتماعی ذمہ داری ہیں، جن کے لیے سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور اس کی خصوصی کمیٹی C34، اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ، میزبان ممالک، فوجی و پولیس دستے فراہم کرنے والے ممالک اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان قریبی مشاورت، مؤثر رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے خلاف جرائم پر جوابدہی کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر بھی رپورٹ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 پر عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے