موسمیاتی تبدیلیاں اور اسلام آباد میں سیلاب

پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ اثرات کا شکار ہیں جرمن واچ (Germanwatch) کے گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق، پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر سب سے کم گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج (1% سے بھی کم) کرنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو پاکستان میں اوسط درجہ حرارت 2047 تک 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے، جس سے گلیشیئرز پگھلنے اور ناگہانی بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوگا۔گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان کا اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

جہاں ملک کے دہی اور نشیبی علاقے سیلاب کی زد میں رہتے ہیں، 2022کے ملک گیر تباہ کن سیلاب کے دوران بھی پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑاوہیں اب دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر بھی شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور اربن فلڈنگ (Urban Flooding) کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر کی بنیادی ساخت اور شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

اسلام آباد، جسے اپنی منفرد شہری منصوبہ بندی، سرسبز و شاداب مارگلہ کی پہاڑیوں اور معتدل موسم کی وجہ سے ملک کے سب سے محفوظ اور خوبصورت شہروں میں شمار کیا جاتا تھا، اب ہر مون سون میں ایک عجیب خوف اور بے یقینی کے سایہ تلے آ جاتا ہے۔ وہ شہر جو کبھی ہلکی پھلکی بونداباندی اور خوشگوار ہوائیں پیش کرتا تھا، اب چند گھنٹوں کی تباہ کن بارشوں اور "اربن فلڈنگ” (شہری سیلاب) کے خوفناک مناظر کا مرکز بن چکا ہے۔

اسلام آباد کے باشندے اب خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شہر کا موسم اب وہ نہیں رہا جو دو دہائیاں پہلے تھا۔ گرمیوں کا دورانیہ طویل ہو چکا ہے اور حبس و شدید گرمی کے دن بڑھ گئے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج مون سون کے دوران شدید اور یکدم ہونے والی بارشیں ہیں۔اسلام آباد میں بھی گرمیوں کا دورانیہ اور شدت دونوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔اسلام آباد میں مون سون کے دوران اب چند گھنتوں میں ریکارڈ توڑ بارش کا رجحان عام ہو چکا ہے۔

کئی سالوں میں شہر میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش صرف چند گھنٹوں میں ریکارڈ کی گئی، جولائی 2021 میں اسلام آباد کے سیکٹر E-11 میں صرف 4 گھنٹوں کے دوران 330 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس نے اربن فلڈنگ کی خوفناک صورتحال پیدا کی اور مالی و جانی نقصان کا باعث بنی۔اسلام آباد میں تیزی سے کنکریٹ کےجال بچھائے گئے ہیں۔ قدرتی نالوں اور پکی زمین پر تعمیرات کی وجہ سے بارش کا پانی جذب ہونے کے بجائے سڑکوں پر بہہ نکلتا ہےاور آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے نالوں کے اردگرد غیر قانونی تعمیرات اور کچی آبادیوں کی وجہ سے پانی کا قدرتی بہاؤ رک جاتا ہے جس سے نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔پرانا یا ناکافی ڈینميج سسٹم بھاری بارشوں کے بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر ہےسونے پہ سہاگا نالوں میں پلاسٹک کے تھیلے اور کچرا پھینکنے سے پانی کی نکاسی کا عمل رک جاتا ہے، جس سے سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔

اچانک آنے والے سیلاب سے سیکٹرز (بالخصوص نالوں کے قریب ایچ 13، ای 11 اور کچی آبادیوں) میں گھروں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔اہم شاہراہیں زیرِ آب آنے سے نظامِ زندگی معطل ہو جاتا ہے۔کھڑے پانی کی وجہ سے مچھروں کی افزائش اور وبائی امراض (جیسے ڈینگی اور ہیضہ) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے سڑکیں بیٹھ جاتی ہیں، بجلی اور گیس کی معطلی سے نظامِ زندگی گھنٹوں بلکہ دنوں کے لیے مفلوج ہو جاتا ہے۔

ہمیں جلد از جلد عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہےمارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کو کنٹرول کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز اور آبی ذخائر کو بہتر بنایا جانا چاہیے نالوں کے دونوں طرف مقررہ حدود میں تعمیرات پر سختی سے پابندی ہونہ چاہیے سب سے زیادی نقصان بھی انہیں تعمیرات کو ہوتا ہے کنکریٹ کی عمارتوں اور سڑکوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہو کر سیلابی شکل اختیار کر لیتا ہے شہر کے قدرتی حسن کو بحال رکھنے اور درجہ حرارت کو اعتدال میں لانے کے لیے وسیع پیمانے پر شجرکاری کی اشد ضرورت ہے شہر میں ایسے باغات، پارکنگ ایریاز اور گراؤنڈز تیار کیے جائیں جو بارش کے پانی کو جذب کر کے زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھا سکیں محکمہ موسمیات کے ساتھ مل کر اربن فلڈنگ کے لیے ابتدائی خبردار کرنے کا نظام مزید فعال کیا جائے اسلام آباد کا ڈرینیج سسٹم اس دور کی آبادی اور موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا تھا جب شہر کی آبادی چند لاکھ تھی۔ اب جب آبادی لاکھوں سے تجاوز کر چکی ہے، نکاسیِ آب کا پرانا نظام اس اضافی بوجھ کو اٹھانے سے قاصر ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں اب کوئی ایسا غیر یقینی یا دور دراز کا خطرہ نہیں رہیں جس پر صرف بین الاقوامی کانفرنسوں میں بحث کی جائے۔ یہ ہمارے روزمرہ کے ماحول، ہماری سڑکوں اور ہمارے گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہیںموسمیاتی تبدیلی اب ایک مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ہمارے حال کی تلخ حقیقت ہے۔ اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور پائیدار موسمیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد ناگزیر ہے ،یہ اب ایک فرضی خطرہ نہیں بلکہ حقیقت بن چکی ہے۔ اسلام آباد کو پائیدار ترقی اور ماحولیاتی حکمتِ عملی اپنا کر ہی ایک محفوظ اور سرسبز شہر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے