ایلیسا کارسن ۔ ۔ جو مریخ سے کبھی واپس نہیں آئے گی ۔۔!!

رات کے دو بجے تھے۔ دنیا سو رہی تھی لیکن ایلیسا کارسن اپنی کھڑکی کے سامنے کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں ایک سرخ نقطے پر جمی تھیں۔

مریخ۔ وہی مریخ جس کا نام اس نے بچپن میں پہلی مرتبہ سنتے ھی سوچ لیا تھا کہ ایک دن وہ وہاں ضرور جائے گی۔ مگر آج رات معاملہ مختلف تھا۔ آج اس کے سامنے صرف ایک خواب نہیں بلکہ پوری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ تھا۔

کمرے کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا بیگ رکھا تھا۔ اس میں چند کپڑے، والد کی ایک پرانی تصویر اور زمین کی مٹی سے بھری ہوئی شیشی تھی۔ ایلیسا نے شیشی اٹھائی اور اسے دیر تک دیکھتی رہی۔

صبح چار بجے اسے خلائی مرکز پہنچنا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ مریخ زمین نہیں۔ وہاں سانس لینے کے لیے ہوا نہیں، پانی براہ راست استعمال نہیں کیا جا سکتا اور گرد کے طوفان اچانک پورے آسمان کو سرخ کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، واپسی کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

ایک سائنس دان نے آخری مرتبہ پوچھا، ’’اگر آپ نے غلط فیصلہ کیا تو؟‘‘

ایلیسا نے جواب دیا، ’’پھر بھی واپس نہیں آ سکوں گی۔ میں فیصلہ کر چکی ہوں۔‘‘

خلائی مرکز میں اس کے خاندان کے لوگ موجود تھے۔ شیشے کی دوسری طرف اس کے والد اسے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں فخر بھی تھا اور خوف بھی۔ ایلیسا نے ہاتھ ہلایا، والد نے بھی ہاتھ اٹھایا مگر پھر چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

چند لمحوں بعد ایلیسا خلائی جہاز کے اندر تھی۔

دروازہ بند ہوا۔

الٹی گنتی شروع ہوئی۔

دس۔

نو۔

آٹھ۔

ایلیسا نے آنکھیں بند کر لیں۔

تین۔

دو۔

ایک۔

راکٹ زمین سے بلند ہو گیا۔

چند منٹ بعد نیلی زمین اس کے نیچے ایک چھوٹی سی گیند بن چکی تھی۔ اس نے کھڑکی سے دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اتنی دور سے نہ کوئی ملک، نہ سرحد، نہ شہر نظر آتا تھا۔ صرف ایک چھوٹی سی نیلی دنیا۔

اس کا سفر کئی مہینوں پر محیط تھا۔

وہ روزانہ تجربات کرتی، مریخ کے ماحول کے اعداد و شمار جمع کرتی اور ایسے جراثیم کا مطالعہ کرتی جو انتہائی سخت ماحول میں زندہ رہ سکتے تھے۔ وہ پودوں کے بیجوں پر بھی تجربات کرتی۔

لیکن رات کے وقت اسے زمین یاد آتی۔

ایک رات اس نے والد کی تصویر سامنے رکھی۔

’’اگر میں واپس نہ آ سکی تو؟‘‘

اس نے تصویر کو سینے سے لگا لیا۔

’’تو میری آخری نظر بھی زمین ہی کی طرف ہوگی۔‘‘

پھر وہ دن آ گیا۔

مریخ جہاز کی کھڑکی سے اتنا بڑا دکھائی دے رہا تھا کہ ایلیسا کی سانس رک گئی۔ سرخ میدان، گہری وادیاں اور دور تک پھیلا ہوا بے رنگ افق۔

خلائی جہاز مریخ کے ماحول میں داخل ہوا۔

شدید جھٹکے لگے۔

الارم بجنے لگے۔

چند سیکنڈ کے لیے مواصلاتی نظام بند ہو گیا۔

ایلیسا نے آنکھیں بند کر لیں۔

’’خدا حافظ زمین۔‘‘

پھر رابطہ بحال ہو گیا۔

جہاز نیچے اترنے لگا۔

ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ مریخ کی سطح پر پہنچ گیا۔

کچھ دیر تک ایلیسا بالکل خاموش بیٹھی رہی۔

پھر اس نے اپنا خلائی لباس پہنا۔ آکسیجن چیک کی۔ دستانے مضبوط کیے اور دروازے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔

دروازہ کھلا۔

سامنے مریخ تھا۔

اس نے اپنا پہلا قدم سرخ مٹی پر رکھا۔

زمین سے لاکھوں میل دور ایک انسان پہلی مرتبہ اس خاموش دنیا میں کھڑا تھا۔

ایلیسا نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں زمین ایک معمولی سے روشن نقطے کی طرح نظر آ رہی تھی۔

اس نے ریڈیو کھولا۔

’’میں پہنچ گئی ہوں۔‘‘

زمین سے آواز آئی۔

’’ایلیسا، ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘

مگر اسی لمحے دور افق پر سرخ گرد کا ایک دیوہیکل بادل اٹھنے لگا۔ طوفان تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ فوراً رہائشی مرکز کی طرف بھاگی۔ چند لمحوں بعد پورا آسمان سرخ ہو چکا تھا اور رابطہ کمزور پڑ گیا۔

وہ زیر زمین مرکز میں بیٹھ گئی۔

اس کے سامنے زمین کی مٹی والی شیشی رکھی تھی۔

باہر مریخ کا طوفان چیخ رہا تھا۔

اندر مکمل خاموشی تھی۔

اس لمحے ایلیسا کو احساس ہوا کہ شاید مریخ پہنچنا سب سے بڑی کامیابی نہیں۔ اصل امتحان یہ تھا کہ انسان اتنی دور جا کر بھی اپنے اندر زمین کو زندہ رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

وہ کھڑکی کے پاس گئی۔

گرد کے پردے کے پیچھے زمین نظر نہیں آ رہی تھی۔

اس نے آہستہ سے کہا، ’’میں واپس آؤں گی۔‘‘

پھر خود ہی رک گئی۔

واپسی کا کوئی راستہ تھا ہی نہیں۔

مریخ خاموش تھا اور ایلیسا اس سرخ سیارے پر اکیلی کھڑی تھی۔

لیکن حقیقت اس کہانی سے مختلف ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کہ ایلیسا کارسن کو مریخ کے یک طرفہ مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے یا وہ وہاں جا کر کبھی واپس نہیں آئے گی۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ ایلیسا کارسن امریکہ کی ریاست لوزیانا کے شہر ہیمنڈ میں پیدا ہوئی، بیٹن روج میں پلی بڑھی اور اسے بچپن ہی سے مریخ اور خلائی تحقیق میں گہری دلچسپی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے