نیویارک : مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ عالمی خطرات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہم بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
رائٹرز کے مطابق اجلاس میں اوپن اے آئی (OpenAI)، اینتھروپک (Anthropic) اور ہگنگ فیس (Hugging Face) سے وابستہ رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس کے عالمی سطح پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سلامتی کونسل کو بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران ماہرین نے حکومتوں پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے۔
اینتھروپک (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو اموڈی (Dario Amodei) نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ٹیکنالوجی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
بریفنگ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سکیورٹی، نگرانی، عالمی ضابطہ کاری اور انسانی تحفظ جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ماہرین کے مطابق AI ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر اس کے فوائد کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات پر بھی عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
مصنوعی ذہانت گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کرنے والی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شامل ہو چکی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور عالمی سطح پر ضابطہ کاری سے متعلق بحث میں بھی اضافہ ہوا ہے۔