ناک کو ناک ہی کہتے ہیں نا!

یہ اپنی خوب صورت وادئ سوات کی ایک جاں فزا صبح کی کہانی ہے۔ 1994ء کے او ائل میں مَیں نے اپنے ایک قریبی دوست کے ساتھ مل کر ایک نجی تعلیمی ادارے کی بنیاد ڈالی۔ ہم دونوں دوست بہت محنت کرتے تھے۔ تعلیم کے مشنری جذبے سے سرشار تھے۔ دن بھر زیرتعلیم بچوں کو خوب پڑھاتے تھے اور شام ہوتے ہی محلے کے حجروں اور بیٹھکوں میں جا کر تعلیم کی افادیت کی تبلیغ کرتے تھے۔ لیکن ساتھ ساتھ تنگیِ معاش سے نکلنے کے لیے اپنے سکول کی انفرادیت پر روشنی بھی ڈالتے تاکہ والدین کو یہ باور کرائیں کہ ہمارا سکول ہی سب سے اعلیٰ اور بہتر ہے۔

رات گئے تک سکول کی پبلسٹی کمپین کے بعد تھوڑی سی نیند نصیب ہوتی تو میں اگلی صبح سویرے اٹھتا۔ تب سب سے پہلے جھاڑو دے کر صفائی کرتا، پھر کپڑے تبدیل کرتا اور گھنٹی بجا کرپرنسپل کی کرسی پر بیٹھ جاتا۔ سکول کی لان میں درخت پر آویزاں تانبے کی گھنٹی کے ساتھ تو میرا ہمیشہ سے ایک جذباتی لگاؤ رہا ہے لیکن ان دنوں دروازے کی گھنٹی کی آواز بھی یہ امید لے کر کانوں میں رَس گھولتی تھی کہ اب کوئی مہربان والد اپنے بچے کو سکول میں داخل کرانے کے لیے نمودار ہوجائیں گے۔

ایسے ہی ایک صبح ایک والد اپنے بچے کو دور واقع کسی سکول سے نکال کر نزدیک ہمارے سکول لے آئے۔ انٹری ٹیسٹ کے طور پر میں نے اس کا زبانی امتحان لینا شروع کیا۔ آگے لکھنے سے پہلے واضح کردوں کہ یہ چھوٹا سا امتحان کسی بچے کے داخلے میں کبھی رکاوٹ نہیں بنتا تھا۔ (کیوں کہ داخلے جاری ہیں کا بینر سارا سال کئی کھمبوں پہ آویزاں رہتا)، اس ٹیسٹ کے ذریعے محض یہ تعین کرنا تھا کہ بچے کو کون سی موزوں جماعت میں داخلہ دیا جائے۔ حسب معمول چند تعارفی سوالات کے بعد بچے کی انگریزی زبان کی فہم کو جانچنے کے لیے اس سے پوچھتا کہ بیٹے یا بیٹی ذرا یہ بتاؤ کہ سر کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔ جواب ملتا ہیڈ اور یا بچہ خاموش رہتا۔ اس طرح دوسرے معروف جسمانی اعضاء کے بارے میں بھی پوچھتا کہ انھیں انگریزی میں کیا کہا جاتا ہے۔لیکن اس صبح میرا واسطہ جس بچے سے پڑا تھا، وہ بڑا استاد تھا۔ اس نے اَن جانے میں مجھے وہ کچھ سکھایا جو میں نے کسی استاد سے سنا تھا اور نہ کسی کتاب میں پڑھا تھا۔ میں نے پوچھا: ’’بچیہ پوزے تہ سہ وائی‘‘ یعنی بیٹے ناک کو کیا کہتے ہیں؟ اس نے معصومیت کے ساتھ برجستہ جواب دیا کہ: ’’پوزے تہ پوزہ وائی کنہ‘‘ مطلب ناک کو ناک کہتے ہیں نا۔ یہ جواب سن کر میں ششدر رہ گیا۔ تھوڑا سا نروس ہونے کے باوجود میں نے بچے کو خوب داد دی۔ لیکن اندر ہی اندر مجھے اپنی کم فہمی کا گہرا احساس ہوا۔ اس دن کے بعد میں نے پھر کبھی کسی بچے سے نہیں پوچھا کہ ہاتھ، پاؤں، چہرے اور سر کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں بلکہ اپنے ہاتھ، سر، ناک یا دفتر میں موجود معروف چیزوں پر ہاتھ رکھ کر پشتو ہی میں اس کا نام پوچھتا۔ بچہ پشتو ہی میں جواب دیتا تھا اور جواب ہمیشہ درست ہوتا تھا۔

نئے آنے والے بچوں کے لیے زبانی امتحان یا تعارفی ملاقات کا یہ طریقۂ کار بہت کامیاب اور خوش گوار تھا۔ اس طرزِ عمل سے نہ مجھے سبکی ہوتی تھی، نہ والدین پہلے ہی دن اپنے بچے سے مایوس ہوتے اور نہ ہی ننھے منے بچے کی حوصلہ شکنی ہوتی۔ یوں ایک فطری انداز میں بچے کے سکول میں پہلے دن کا آغاز ہوتا۔

اس چھوٹی سی کہانی سے یہ بڑی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ بچوں کی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور انھیں پروان چڑھانے کے لیے ابتدائی تعلیم کا مادری زبان میں ہونا کتنا اہم ہے۔ اور یا کم از کم کچی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک مادری زبان کو بہ طور لازمی مضمون پڑھانا کتنا ناگزیر ہے۔

میرے کچھ دوست آج کے بچوں کو اپنے سے زیادہ اس لیے خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ان کو شروع ہی سے تمام مضامین انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی نئی نسل کی اس بد نصیبی اور پس ماندگی پر ماتم نہیں کرتا کہ ایک طرف تو وہ اپنی مادری زبانوں کی لکھت پڑھت سے محروم رہتی ہے اور دوسری جانب انگریزی پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم کو سمجھنے میں سخت دشواری سے گزرتی ہے۔

بذاتِ خود میں نے اپنے آبائی گاؤں شاہ پور کے سرکاری سکول میں پانچویں جماعت سے انگریزی سیکھنا شروع کی تھی اور آگے جاکر انگریزی ادب میں ماسٹر بھی کیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ آج مجھے مارلو، شیکسپئر، جان ملٹن، جین آنسٹن اور ورڈز ورتھ کے ناموں کے علاوہ کچھ زیادہ یاد نہیں۔ میں خود کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک پشتو زبان کو بطور ایک مضمون پڑھا۔ پشتو پڑھنا، لکھنا سیکھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں آج خوشحال خان خٹک، رحمان بابا، حمید بابا، حافظ الپورئی، حمزہ بابا اور غنی خان جیسے عظیم شعرا، صوفیا اور فلسفیوں کے فیض سے محروم رہتا۔

ہم سکولوں میں بچوں کو ان کی مادری زبان کے سیکھنے سے محروم رکھ کر ان پر بڑا جبر کرتے ہیں۔ یہ جبر ریاستی بھی ہے اور معاشرتی بھی۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں نہ ہونے کی وجہ سے اور یا مادری زبان کو نصاب میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں سوکھی اور بنجر رہتی ہیں۔ فکر و نظر کے چشمے اپنی ہی زبان میں سوچنے اور سمجھنے سے پھو ٹتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2006ء میں سوات کی سول سوسائٹی اور پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی کوششوں سے ہم نے جب چند نجی تعلیمی اداروں میں پشتو کو بطورِ لازمی مضمون پڑھانا شروع کیا تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ بچے سب سے زیادہ پشتو کی کلاس کا انتظار کرتے اور سب سے زیادہ پشتو ہی کی کلاس میں خوش رہتے۔

پاکستان کے ہر پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، ہندکی اور پشتون بچے کا بنیادی حق ہے کہ ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان ہی میں حاصل کرے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اردو یا انگریزی کو نصاب سے نکال دیں یا نظر انداز کردیں۔ اردو اب قریباً پورے ساؤتھ ایشیا کے رابطے کی زبان ہے اور انگریزی پوری دنیا کی زبان ہے۔ ان کی اہمیت مُسلّم ہے۔ لیکن پاکستان کے تناظر میں مادری زبانوں کو ان دونوں زبانوں کی بھینٹ چڑھانا انتہائی غیر فطری اور نامعقول رویہ ہے۔

ہماری ریاست اگر فرسودہ اور ناکام بیانیہ کی تبدیلی میں مخلص ہے تو سب سے پہلے قوموں کی مادری زبانوں کے حوالے سے معاندانہ اور خوف کا رویہ چھوڑ دے۔ مادری زبانوں کی نشرو اشاعت اور ترویج نہ صرف ان زبانوں کے بولنے والوں کی قوموں کی تہذیبی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ عظیم تر پاکستان کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ آج کی دنیا میں عظیم قوموں اور بڑے ممالک کے شہری بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ We are a multi cultured and diverse society یعنی ہم ایک کثیر الثقافتی اور متنوع معاشرہ ہیں۔ کاش یہ چھوٹی اور سادہ سی بات جس پر مہذب دنیا متفق ہے، میاں شہباز شریف، ثنا اللہ زہری اور ہمارے اپنے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سمجھ میں آجائے اور وہ بھی صوبہ سندھ کے نقشِ قدم پر چل کر کل سے نرسری سے لے کر جماعت دہم تک بچوں کی مادری زبانوں کو کورس میں بطورِ لازمی مضمون شامل کردیں اور متعلقہ محکمہ تعلیم کو یہ ٹاسک دیں کہ پرائمری تعلیم مادری زبانوں میں رائج کردی جائے۔

د بل ژبہ زدہ کول کہ لوئ کمال دے

خپلہ ژبہ ہیرول بے کمالی دہ

[pullquote]ضیاالدین یوسف زئی[/pullquote]

ضیا الدین سف زئی ماہرِتعلیم، سوشل ورکر اور دانش ور ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے والد ہیں۔ ضیا الدین یوسف زئی اقوام متحدہ سے مشیر برائے گلوبل ایجوکیشن کی حیثیت سے بھی وابستہ ہیں۔اس وقت کونسلیٹ آف پاکستان برمنگھم (برطانیہ) میں ایجوکیشن اتاشی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

(کسی پرائی زبان کو سیکھنا اگرچہ بڑے کمال کی بات ہے لیکن اپنی زبان کو نظر انداز کرنے کا ملطب ہے کہ آپ میں کوئی کمال نہیں۔)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے