بڑا مرکز بنا پھرتا ہے۔۔۔

عاشر عظیم کا ڈارمہ دھواں دیکھا تو میں اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا قائل ہوگیا، جب ایف بی آر میں انگار وادی کے خالق رؤف خالد کے دفتر میں عاشر عظیم سے ملاقات ہوئی ۔۔ تو معذرت کے ساتھ، یوں محسوس ہوا جیسے پی ٹی وی کے کامیاب ڈرامہ سیریل کا رائٹر عاشر نہیں ہو سکتا۔۔ بہرحال رؤف خالد نے اپنے کسٹم کے اس افسر کی بہت تعریف کی جس پر میں شرمندہ ہو گیا۔ کیونکہ واقعی ڈرامہ بہت شاندار تھا، بندہ اپنی گپ شپ میں بھی متاثر کن نہ ہو تو کوئی بات نہیں۔

کافی عرصہ بعد میں نے اخبار میں اشتہار دیکھا فلم مالک کا۔۔ فلم بائی عاشر عظیم۔۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔۔ اشتیاق تھا کہ فلم دیکھوں۔۔ لمبی مدت سے کوئی فلم نہیں دیکھ پایا کہ بچے ساتھ ہوتے ہیں تو ہمیشہ کڈز مووی دیکھ کے واپس آنا پڑتا ہے۔

اچانک خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ مالک فلم پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، صبح بھی ایک خبر پڑھ چکا تھا کہ سندھ میں اس فلم پر پابندی لگائی گئی اور پھر فوراً واپس لے لی گئی۔۔ یعنی پھر سے فلم کی نمائش کی اجازت مل گئی، کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ شام کو جونہی خبریں چلنا شروع ہوئیں تو میں نے چیئرمین مرکزی فلم سنسر بورڈ کو فون کیا، انہوں نے بتایا موشن پکچر آرڈی ننس کے تحت فلم کو سنسر سرٹیفکیٹ کے باوجود اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے سرکاری قسم کی وجوہات بتائیں۔۔ جس پر ظاہر ہے ایک صحافی کو یقین نہیں آتا اس لیے سوشل میڈیا پر مختلف گروپس کھنگالنا شروع کردیئے۔ بالآخر ایک گروپ میں ہمارے دوست نے فلم کے خدوخال بیان کیے۔۔

اس دوست سے بات ہوئی تو اس کا کہنا ہے اس فلم میں تمام سیاستدانوں کو کرپٹ دکھایا گیا ہے۔۔ تو یہ بات سچ ہے اس میں برا منانے کی کیا بات ہے، یہ سارے کے سارے کرپٹ ہیں، ایک نہیں بلکہ کئی سارے پانامہ پیپرز ختم ہو جائیں تو بھی ان کے کارنامے ختم نہیں ہوتے۔

دوست کہنے لگا : زیادہ مبشر لقمان یا حسن نثار بننے کی کوشش نہ کیا کرو۔۔ میں نے جھٹ سے کہا تو پھر کیا عرفان صدیقی یا عطاالحق قاسمی بن جاؤں۔۔؟
کہنے لگا ۔۔ بھائی صاحب اس فلم میں ایک سیکورٹی گارڈ اپنے وزیر اعلیٰ کو گولی مارتا ہے۔۔ اوہو۔۔ تو یہ ہے کہانی۔۔ جی ہاں۔ اور پھر اس میں مذہبی انتہاپسندوں کو اچھے کردار میں دکھایا گیا ہے۔

ایک سین میں وزیر اعلیٰ کی سیکورٹی کے لیے جب سیکورٹی کمپنی کے مالک سابق جنرل کو فون کیا جاتا ہے تو وہ بہت زیادہ معاوضہ طلب کرتا ہے، استفسار پر کہتے ہیں جناب ہم عام لوگ نہیں ایس ایس جی ہیں۔ایک اور سین ملاحظہ کیجئے جس سے پرانی بھارتی فلم شہنشاہ کی یاد تازہ ہوتی ہے کہ جناب فلم کے ہیرو سابق جنرل صاحب ایک اندھیری رات میں سنسان راہوں پر سے گزرتے ہوئے ایک جج صاحب کو تڑی لگانے پہنچتے ہیں۔۔ اگر تم نے یہ فیصلہ نہ کیا تو پھر تمہاری ایسی کی تیسی۔۔

ٹھیک ہے ۔ آگے چلئے ، اور بتایئے۔۔ میں نے پوچھا تو دوست کہنے لگا یہ فلم آئی ایس پی آر کی تخلیق ہے اسی لیے اس کا فلم کا نام مالک ہے۔اس میں گاڑیاں بھی ایف سی اور فوج کی استعمال کی گئی ہیں یعنی ایک سابق جنرل صاحب اگر سیکورٹی کمپنی بنائیں تو انہیں گاڑیاں ایف سی اور فوج سے ملتی ہیں۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔ پھر تو یہ بالکل ناانصافی ہے کہ فلم پر پابندی لگائی جائے۔۔ یہ فلم سچی ہوگی۔۔ اس کے سارے کردار بھی ٹھیک ہیں۔۔ ہاں یہ دیکھو۔۔ میں سچ کہتا تھا ناں۔۔ یہ دیکھو ابھی ابھی پی ٹی آئی نے فلم پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف رد عمل دیا ہے ۔۔ میرے کپتان کی پارٹی کا ترجمان کہتا ہے کہ حکومت کرپشن کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینا چاہتی ہے۔

جی مگر مجھے یہ بتاؤ گے کہ آئی ایس پی آر کا ایسی فلم کے ساتھ کیا تعلق ہو سکتا ہے جو اپنے ملک کے سیاسی مسائل پر بنائی گئی ہو، اگر اس کا حقیقت سے تعلق ہے بھی تو کیا ایک دفاعی ادارے کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایسی فلم بنائے جس میں عدلیہ ،حکومت اورپارلیمنٹ سب کو ہدف تنقید بنایا جائے۔ پھر ایک عام شہری کو یہ سبق دیا جائے کہ آپ جس کو غلط سمجھو (چاہے آپ غلط سمجھے ہوں پھر بھی) اس کو گولی سے اڑا دو۔۔ آپ قومی ہیرو کہلاؤ گے، حالانکہ اگر اس کو درست مان لیا جائے تو پھر وزیرستان میں آپریشن کی کیا ضرورت ہے؟ وہ بھی تو جس کو غلط سمجھتے ہیں اسے گولی نہیں بم سے اڑاتے ہیں، پھر وہ غلط کیوں ہیں۔۔

سوچنے کا مقام ہے ۔۔ہم سب کے لیے۔۔ اور سب سے زیادہ سوچنے کی بات کیا ہے؟۔۔ وہ پھر پارلیمنٹ کے خلاف جاتی ہے کہ جناب اٹھارہویں ترمیم کے بعد مرکزی فلم سنسر بورڈ کی پابندی صرف اسلام آباد اور کینٹ ایریاز میں ہے ، باقی صوبائی سنسر بورڈز کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔۔یعنی پابندی اسلام آباد کے ایک سینما کے علاوہ صرف کینٹ ایریاز میں ہوگی۔۔ یعنی پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں ایک نہیں پانچ سنسر بورڈ ہیں، ہر صوبہ کا اپنا سنسر بورڈ۔۔ اور دیکھئے خیبر پختونخوا حکومت نے فلم مالک پر عائد پابندی کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے یعنی کرپشن کے خلاف جہاد جاری رہے گا۔۔۔ اب سمجھے۔۔ بڑا مرکز بنا پھرتا ہے۔۔۔صوبوں سے جو ڈرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے