"شام کا دکھ جب مجھے محسوس ہوا”

ان کا نام کیا تھا ،حسرت کہہ لیں یا یاس ۔۔۔۔.
عربوں کی اس یونیورسٹی میں مجھے چند ماہ ہوئے تھے کہ اک غیر اختیاری مضمون لے لیا کہ چھٹیوں میں بھی پڑھ لوں ۔کلاس لگی تو پہلے دن میں اکیلا تھا ،دروازے سے ایک پچپن ساٹھ سالہ بزرگ داخل ہوئے ۔ہاتھ میں علی طنطاوی کی کتاب تھی ۔
کہا تم اکیلے ہی ہو ،عرض کیا ہاں ۔تین گھنٹے پڑھایا ،جب تھگ گئے تو کہا باقی کل پڑھیں گے ۔
پوچھا آپ نئے ہیں یہاں ،پہلے نھیں دیکھا ! کہا : ہاں چند دن ہوئے آیا ہوں ۔
کہاں رہ رہے ہیں ؟ بولے پاس ہی ۔میں نے کہا شام کو بھی پڑھنا چاہتا ہوں ،کہا آجانا ۔
شام ڈھلی کے ان کی راہ چل دیا ،ایک دکان کے اوپر کرائے کہ چھوٹے سے کمرے میں مقیم تھے ،کتاب پڑھائی ،تو میں نے کہا آپ یہاں کیسے رہ رہے ہیں یہ آپ کے رہنے کی جگہ نھیں ۔میرے اپارٹمنٹ میں ایک کمرا خالی ہے چلیں وہاں آجائیں ۔۔سامان اٹھایا اور اپنے گھر لے آیا ۔
لاتے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا تھا یہ میرے اس کشادہ گھر میں کمرہ پا کر کتنے خوش ہونگے ،اوپر لایا ،انھیں ان کا کمرہ دکھایا اور بڑی خوشی سے کہا :بڑا
اپارٹمنت ہے اور یہ رہا آپ کا کمرا یہاں رہیں ،
انھوں نے میری طرف دیکھا اور کہا ،ہاں بڑا تو ہے ،لیکن میرے گھوڑوں کا اسطبل اس سے بڑا تھا ۔ سامان رکھ کر بیٹھ گئے
مجھےذرا حیرت ہوئی ،میں نے کہا سمجھا نھیں ،کچھ بتائیں !
بولے شام سے تعلق ہے ،پوری زندگی وہاں گزری ۔جدی پشتی زمیندار ہیں ، ایکڑوں میں زمین تھیں ،وہاں باغات تھے ،پھل لگتے تھے ۔مجھے ادب سے دلچسپی تھی ،درس و تدریس سے وابستہ ہوگیا ،کاروبار کی آمدن تھی ،پوری زندگی پڑھا پڑھایا ،اک عالیشان سا گھر تھا ۔لائبریری تھی ۔گھوڑوں کا شوق تھا ۔درجنوں گھوڑے تھے ۔تالاب تھا ۔ملازم تھے ،حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو کبھی کبھی صبح پڑھانے چلا جاتا کہ ایک دن ایک دوست کا فون آیا گھر مت آنا ،انھوں نے تمھارے باغات جلا دیئے ہیں ،گھر کا سامان بھی لوٹ لیا ہے اور لائبریری کو بھی آگ لگا دی ہے ۔میری لائبریری جس میں ہزاروں کتابیں تھیں ۔۔دوست نے بتایا ،بچوں اور بیوی کو ہم نے نکال لیا تھا ،انھیں منتقل کر دیا ہے وہئیں آجاو فورا۔
کہا میرے قدموں تلے زمین نکل گئی ،بھاگا کہ بچوں کے پاس پہنچوں ۔دوست نے انہیں کہیں چھپا رکھا تھا ،بچے ملے تو دوست نے کہا ،پورے علاقے میں شدید جنگ شروع ہو گئی ہے ۔تم انھیں لے کر کہیں چلے جاو ۔
کہاں جاوں ،اس نے گاڑی دی اور کچھ پیسے کے ترکی کی سرحد کی طرف چلے جاو ،بچے دیکھ کر شاید ترکی جانے دیں ۔
جب سرحد پر پہنچے تو محافظوں نے آنے دیا ،اور سرحد کے پاس ایک کیمپ میں پناہ دے دی ،
وہ رات زندگی کی پہلی رات تھی جو کسی خیمے میں یوں گزری ہو۔۔۔
پھر عادت ہوگئی سوچا کیا کروں ،اس عمر میں نوکری تلاش کی تو یہاں مل گئی ۔بچوں کو وہاں چھوڑ کر یہاں آگیا ہوں ،کچھ پیسے جمع ہوگئے تو واپس جا کر کہیں کرائے کا مکان لے کر دے آؤں گا ۔
ان کی باتیں جاری تھیں لیکن سفید داڑھی تر ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
کہا اب چھوٹے بڑے کمروں سے فرق نھیں پڑتا ۔ بہر حال تمھارا شکریہ ۔۔
اس کے بعد وہ کئی ماہ میرے ساتھ رہے اور بڑی شفقت اور محبت سے پڑھایا سیکھایا کہ اک دن مجھے فون آیا کہاں ہو؟،
میں شہر سے باہر تھا ،
کہا:میں واپس جا رہا ہوں کیمپ میں مقیم بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے۔
ان کے آخری الفاظ تھے :یا حسن ساراکم فی الاخرہ ،اب آخرت میں ملاقات ہوگئی ۔۔۔
چند دنوں بعد پاکستان جانا ہوا ، خاندان کی ایک مجلس میں شریک تھا ،اور علما آپس میں ہم کلام تھے ،
شام میں شیعوں کی بڑی پٹائی ہو رہی ہے ۔
دوسرے بولے ،ان خبیثوں کو اب پتا چلے گا،کہیں سے آواز آئی ،سنیوں کا بھی تو نقصان ہو رہا ہے ،تو کوئی بولا قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے ۔۔۔۔
میں خاموشی سے لوٹ آیا ۔۔۔۔
اور سوچتا رہا ۔۔۔
ہاں قیمت تو ادا کرنی پڑتی ہے ۔۔۔۔
لیکن کسی اور کو !!!!!!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے