کیسی ماں تھی ، عجیب استاد تھا

24جون 2015 کو اُستانی پردہ دار نے لکھا تھا کہ

میرا ایک شاگرد ہے اسے لکھنے کا بے حد شوق ہے اور اسکا دل چاہتا ہے وہ دنوں میں اچھا لکھاری بن جائے لیکن ابھی اسے بہت محنت کی ضرورت ہے. اسے میں نے ایک عنوان پر لکھنے کے لیے کہا ہے . اسے جیسا لکھنا آتا تھا، لکھ ڈالا ،،، غلطیاں کافی تھیں ،،، میں نے اس کی تحریر کو بہتر بنانے میں مدد کی ،،، وہ تحریر کیا تھی ، آئیے آپ بھی پڑھیں .

یہ کہانی درحقیقت میری زندگی کی ہے .

یہ 2007 کی بات ہے جب میں ایک مدرسے کا طالب علم تھا . ہمارے استاد بہت سخت تھے اور کلاس میں دیر سے آنے پر وہ ڈانٹنے کے ساتھ ساتھ مار پیٹ بھی کر تے تھے . دسمبر کا مہینہ چل رہا تھا اور شدید سردی کی وجہ سے میں صبح جلدی جاگ نہیں سکا . میری والدہ مجھے روزانہ صبح جگا کر مدرسے بھیجتی تھیں . اس روز والدہ بھی نہ جاگ سکیں جس کی وجہ سے میں بھی نہ جاگا .

والدہ نے جب مجھے جگایا تو کافی دیر ہو چکی تھی اور مجھے علم تھا کہ اب استاد صاحب ڈانٹ کے ساتھ ساتھ پٹائی بھی کریں گے . میں نے اس وجہ سے اپنی والدہ کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی اور جلدی جلدی مدرسے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا .

بچوں کے نزدیک استاد ایک ظالم اور جابر انسان ہوتا ہے جس کا کام تشدد کرنا ہی ہوتا ہے ۔۔ مدرسے پہنچا تو میں نے ڈرتے ہوئے کلاس کا دروازہ کھولا. استاد صاحب نے دیکھ کر ڈانتے ہوئے کلاس سے باہر کھڑے ہونے کا حکم دیا .انکا لہجہ اتنا رعب دار تها کہ میں ڈر گیا اور وہیں کھڑا رہا ۔۔

استاد صاحب میرے پاس آئے اور دیر سے آنے کی وجہ پوچھی

میں نے ایک ایک لفظ سچ بتا دیا کہ کیسے میں لیٹ ہوا،،، میں نے استاد جی کو بتایا کہ امی نے آج مجهے دیر سے جگایا اور میں نے اس بات پر ان سے غصیلی زبان میں گفت گو بھی کی کہ میرے استاد بہت سخت ہیں ، آپ نے مجھے وقت پر کیوں نہیں جگایا .

اتنا سننا تها کہ سر میرا منہ تکتے رہ گئے اور بولے جنید آپ گهر جاؤ کیونکہ تم یہاں کچھ نہیں سیکھ سکتے.

آپ تو اپنی والدہ کا ادب کرنا نہیں جانتے ،،، کیا میں نے آپکو آج تک یہ پڑهایا؟

انہوں نے مجھے کہا کہ گھر جاؤ اور بے ادبی کرنے پر اپنی امی سے معافی ما نگو ۔۔ تم اپنی امی کا دل دکھا کر آئے ہو اس لیے تم کامیاب نہیں ہوسکتے .

انہوں نے مجھے کہا کہ تمھیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے جب تم نے بے ادب ہی رہنا ہے. گهر جاو اور جاکر سو جاؤ …

سر کے الفاظ مجھے شرمندہ کرتے گئے اور میں موقع ملتے ہیں گھر کی جانب بھاگ کھڑا ہوا . گهر پہنچاتو والدہ نے دروازہ کهولا. مجھے مسکراتے ہوئے گلے لگایا . یہ دیکھ کر میں انکے قدموں سے لپٹ گیا اور رو رو کر صبح کی گستاخی کی معافی مانگی .

انہوں نے میرے ہاتھوں پر بوسہ دیا اور کہا مائیں اپنے بچوں کی غلطیاں اسی وقت معاف کردیتی ہیں . میں تو خوش ہوں کہ میرے بیٹے کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا… یہی وہ وقت تھا جب میرے اندر خوشگوار احساسات رقص کر رہے تھے .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے