قصہ دو پاکستانیوں کا

کئی سال پہلے جب میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھاتو  امتحانات کی وجہ سے ایک ہفتے تک گائوں اپنے گھر نہ جاسکا، جمعہ کے روز پیپر دے کر جب میں اپنے فلیٹ پر پہنچا تھوڑی دیر آرام کیا پھر جمعہ نماز ادا کرنے کےلئے ساتھ والی مسجد میں گیا واپسی پر دیکھا تو کچھ لوگ مل کر ایک معصوم سی شکل والے 15 یا 16 سال کے لڑکے کو مار رہے تھے پہلے تو میں نے اس معاملہ کو نظرانداز کرنا چاہا پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اس جانب چلا گیا تاکہ پتہ لگایا جاسکےآخر اس لڑکے کو لوگ کیوں مار رہے تھے،،

جب اس ہجوم میں گیا تو پتہ چلا کہ وہ لڑکا ایک نمازی کا سائیکل چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا،پہلے پہل تو میرا دل بھی یہی کررہا تھا کہ اس زلیل لڑکے کو دو چار لگا کر ثواب حاصل کرلوں کیونکہ مسجد میں آنے کی بجائے نمازیوں کی چیزیں چوری کرتا ہے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا،  چپ چاپ وہیں رک کر اس ہجوم کو دیکھتا رہا دس سے پندرہ منٹ کے بعد جب اس لڑکے کی حالت غیر ہونے لگی تو میں نے مداخلت کی اور اس ہجوم کو بچے پر مزید تشدد کرنے سے روکا،اسی اثناء میں پولیس اہلکار جو مسجد کی سیکورٹی کےلئے آیا ہوا تھا وہ بھی وہاں پہنچ گیا تو لوگوں نے لڑکے کو پولیس اہلکار کے حوالے کرکے چلا گیا،

اتفاق سے وہ پولیس اہلکار میرے گائوں کا نکلا میں نے اسے کہا کہ لڑکے کو تھانہ مت لے جائو اسے کچھ دیر کےلئے میرے فلیٹ پر لے چلتے ہیں وہ مان گیا ہم اسے لیکر فلیٹ میں پہنچ گئے جہاں لڑکے کو پانی پلایا کچھ دیر بعد اس کی حالت بہتر ہوگئی تو پوچھا کون ہو اور کیوں چوری کی؟ اس نے بتایا کہ ماں باپ نہیں ہیں ایک چھوٹا بھائی اور میں ہوں، گاڑیوں کی ورکشاپ پر کام سیکھتا ہوں استاد  پچاس روپے دن کے دیتا ہے لیکن دو  دن سے پیسے نہیں دیئے اور رات سے ہم دونوں نے روٹی نہیں کھائی کچھ نہیں تھا کھانے کو تو یہ سائیکل چوری کرنے کی کوشش کی اور وہ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، میرے دوست نے اس سے ورکشاپ کا پتہ پوچھا اور کنفرم کیا تو پتہ چلا واقعی وہ لڑکا سچ بول رہا تھا،ہم نے اسے کھانا کھلایا،کچھ پیسے دئے اور گھر چھوڑ آئے،،

یہ واقعہ لگ بھگ آٹھ سال پہلے کا ہے جب میں بھاولپور میں تھا، کل اس وقت یاد آیا جب پاکستان کے پسماندہ ترین صوبے بلوچستان سے ایک خبر آئی کہ صوبائی سیکرٹری خزانہ کے گھر اور گاڑی سے لگ بھگ 63 کروڑ روپے نیب نے چھاپہ مار کر برآمد کئے ہیں،جس کے بعدنیشنل پارٹی کے صوبائی مشیر خزانہ نے استعفی دیدیا ہے اور سابق وزیر اعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے بھی خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے،سنا ہے برآمد ہونے والے پیسے کو گننے کےلئے سات گھنٹے لگے وہ بھی مشینوں کے ذریعے،سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے یہ پیسہ تو وہ تھا جو صرف گھر سے برآمد ہوا ہے لازمی کچھ کسی اور کے نام پر بنک اکاؤنٹس بھی ہونگے کسی کے گھر میں پیسے چھپائے گئے ہونگے،

پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کسی بالی ووڈ کی فلم سے یکسر مختلف نہیں ہیں،یہاں منی لانڈرنگ پکڑنے والا اہلکار قتل کردیا جاتا ہے،پانامہ میں سب کچھ منظر عام پر آنے کے باوجود کوئی کمیشن نہیں بنایا جا سکا،جن کی ایماء پر ماڈل ٹائون لاہور میں مظاہرین پر گولیاں برسا دی جاتیں ہیں انکو وزارت کا قلمدان سونپ دیا جاتا ہے،حکمرانوں کے پروٹوکول اور سیکورٹی کی وجہ سے ہسپتال بند کر دیئے جاتے ہیں چاہے ہسپتالوں کے باہر بچے ہی کیوں نہ باپ کے ہاتھوں میں مر جائیں، دھاندلی کے خاتمے کی بجائے دھاندلی کرنے والوں کو بچانے کےلئے لوگ اکھٹے ہو جاتے ہیں، مگر کوئی نہیں پوچھتا،، ایسے میں اگر خزانہ کا چوکیدارچوری کرتے پکڑا جائے تو کون سا قیامت آگئی ہے،،

کل پاکستانیت سے متعلق دو بڑے واقعات ہوئے ایک بڑے عہدے پر فائز پاکستانی صوبائی سیکرٹری خزانہ سے اتنی بڑی رقم کا برآمد ہونا اور دوسرا پاکستانی صادق خان کا لندن کی میئر شپ حاصل کرنا،بجائے شرم کے ڈوب مرنے کے پورا پاکستان کل سے اس بات پر خوشی منا رہاہے کہ لندن کا میئر ایک مسلمان پاکستانی بن گیا ہے،جیسے مسلمانوں نے لندن فتح کر لیاہو،،کتنا بے حس، بزدل اور بے ضمیر معاشرہ ہے ہمارا ایک سائیکل چوری کرنے والے کو مارنے کی مار دیتے ہیں لیکن خزانہ کی رکھوالی چوروں کے سپرد کردیتے ہیں،مجھے کل رات سے بحیثیت پاکستانی بہت شرمندگی محسوس ہورہی ہے معلوم نہیں کسی اور کو بھی ہوئی ہے یا نہیں؟ 

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے