صادق خان کی جیت ! خوشی یا ندامت

گزشتہ روز ہم بہت خوش تھے، خوشی کیوں نہ ہوتی لندن کا میئر ایک پاکستانی بس ڈرائیور کا بیٹا بن گیا۔ دیگر اہل وطن کی طرح ہم بھی جشن بنا رہے تھے کہ ایک سیلف میڈ پاکستانی اپنی محنت کے بل بوتے پر انگریزوں کو شکست دے کر بڑے منصب پر جا بیٹھا۔ انگریزوں نے ہمیں تقریباً 3 صدیوں سے زائد غلام بنائے رکھا۔ صادق خان نے الیکشن جیت کر انگریزوں سے غلامی کا بدلہ لے لیا۔ ووٹ کی طاقت کے ذریعے انہیں وہ مار دی کہ ان کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہماری محفل میں مٹھائیاں چل رہی تھیں دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہو رہی تھی سب خوشی سے سرشار تھے کہ ہمارا جگری یار کرمو شاہ محفل میں آ ٹپکا۔ اس نے آتے ہی اپنا فلسفہ جھاڑنا شروع کر دیا۔ ہم سے پوچھا آج یہ جشن کاہے کا؟ ہم نے جواب دیا لندن کا میئر ایک پاکستانی بنا تم بھی خوشی میں شریک ہو جاؤ ۔ تم کہیں عمران خان کے چاہنے والے تو نہیں جو یہودی ایجنٹ ہے وہی عمران خان جو اپنے سابقہ سالے زیک گولڈ سمتھ کی انتخابی مہم چلانے کیلئے لندن گیا تھا۔ ہماری کڑولی کسیلی سننے کے بعد شاہ جی بولے آپ میرے سوالوں کے جواب دیجیئے میں آپ کے ساتھ خوش یمیں شریک ہو جاؤں گا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کوئی ایسا شخص بتا دیں کہ جس کا تعلق چھوٹے قبیلے سے ہو۔ اپنے اسلام آباد کا میئر کیا کوئی خاکروب ، مالی ، ہاری یا کسی بس ڈرائیور کا بیٹا بنا؟ نہیں نہ کیونکہ اسلام آباد کا میئر وہ بنا جو سرمایہ دار تھا یہ کیونکر کسی غریب کو اس منصب پر بٹھاتے یہ جو تم خوشیاں منا رہے ہو یہ بے سود ہیں۔ برطانیہ کی جمہوریت میں الیکشن کمیشن، عدالتیں اور وہ تمام نظام جو انتخابات پر اثرانداز ہوتا ہے پاکستان کا ہوتا تو صادق خان انتخابات جیت کر دکھاتا تو میں آپ کے ساتھ رقص کرتا۔

شاہ جی نے قدرے توقف کے بعد ایک واقعہ سنایا کہ جنوبی پنجاب کے غریب خاندان کا خواب تھا کہ ان کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معاشرے کا اچھا شہری بنے۔ وہ اس کی خدمت کرے ، بوڑھے والدین کسی جاگیردار کے ہاں ملازم تھے انہوں نے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کی خاطر شہر کا رخ کیا۔ بوڑھے والد نے اپنے سپنوں کو سچ ثابت کرنے کیلئے ریڑھی لگا لی والدہ امیروں کے گھروں میں برتن مانجھ کر بچے کی فیس پوری کرتی ، بچہ بھی ذہین تھا اس نے اپنے والدین کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے تمام تر توانائیاں تعلیم پر لگا دیں۔دن ، مہینوں اور مہینے سالوں میں گزر گئے ہونہار ’’پوت‘‘ نے ایف ایس سی اعلیٰ نمبروں سے پاس کر کے میڈیکل میں داخلہ لے لیا ، میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوا کہ معاشرے کی خدمت کر سکے وہ نوکری کیلئے مختلف ہسپتالوں اور دفاتر کے چکر کاٹنے لگا ہر جگہ اسے دھتکارہ گیا اس لئے کہ اس کے پاس نہ سرمایہ تھا نہ تگڑی سفارش۔ تھک ہار کر اس نے پاکستان چھوڑ دیا اور لندن چلا گیا۔ وہاں جا کر میڈیکل سے متعلق مزید تعلیم حاصل کی ایک دن اخبار میں ایک خالی آسامی کیلئے اشتہار آیا نوجوان نے بہت سوچا کہ ملازمت کیلئے اپلائی کرے یا نہ کرے اس کا ذہن ماضی میں چلا گیا کہ نہ میرے پاس سرمایہ ہے نہ سفارش۔ کیا کروں۔ سوچتے سوچتے اس نے اپنے والد کو پاکستان کال کی اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا باپ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد بیٹے کو کہا کہ درخواست دے دو، کال لیٹر آیا اور وہ انٹرویو دینے چلا گیا یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں امریکہ ، لندن اور دوسری مغرب کی اعلیٰ درسگاہوں سے پڑھے لکھے امیدوار بھی ہیں۔ بہرحال اعتماد سے اس نے انٹرویو دیا اور جب میرٹ بنا تو میرٹ لسٹ پر اس کا نام سب سے اوپر جگمگا رہا تھا۔ اسے ہی نوکری دی گئی۔ خوشی سے سرشار اس نے اپنے والد کو فون کیا اور پوچھ بیٹھا کہ ابا جی آپ نے کس یقین کی بنیاد پر مجھے کہا تھا کہ میں نوکری کیلئے اپلائی کر دوں تو باپ نے جواب دیا کہ بیٹا اس ملک میں نہ سفارش چلتی ہے نہ سرمایہ۔ اہل کو نوکری دی جاتی ہے اور یہ چیز آج سچ ثابت ہو گئی۔

شاہ جی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہاں کا نظام کسی کو روکتا نہیں چاہے وہ خاکروب کا بیٹا ہو یا مالی کا۔ اپنی محنت سے وہ اپنا مقام بنا لیتا ہے۔ تم تو اس طرح خوشیاں منا رہے ہو کہ جیسے کراچی یا لاہور کا میئر کسی ہاری کا بیٹا بنا۔ اگر صادق خان پاکستان میں ہوتا تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ وہ آج بھی یہاں اپنے باپ کی طرح ڈرائیور ہوتا نہ کہ لندن کا میئر بنتا۔ تم تو ایک بوسیدہ اور گلے سڑے نظام میں رہ رہے ہو اگر یہی الیکشن پاکستان میں ہوتا تو زیک گولڈ سمتھ پیسوں کے بل بوتے پر کامیاب ہو جاتا وہ الیکشن کمیشن سمیت ہر اس نظام کو خرید لیتا جو انتخابات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ تم خوشی کی بجائے ماتم کرو ۔اگر تم نے بوسیدہ نظام بدلنے کی کوشش نہ کی تو تم پر شریفوں ، بلاولوں ،نیازیوں، قریشیوں، ترینیوں، ٹوانوں ، لغاریوں ، مزاریوں اور جاکھرانیوں کی صورت میں آپ پر مسلط رہیں گے۔شاہ جی اپنا فلسفہ جھاڑ کر چلے گئے اور ہم اپنا سا منہ بنا کر رہ گئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے