قارون کا خزانہ اور افسر شاہی

فرمان الہی ہے کہ زر،زن اور زمین فساد کی جڑ ہیں۔ مگر افسوس کہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کے بعد اگر دنیا کے کسی کونے میں بھی چلے جائیں فساد اور جھگڑے کی بنیادی وجہ یہ عوامل ہی کارفرما ہوتے ہیں ناجانے کب ہمیں دین کامل کی باتوں کی اہمیت اور حقانیت کا یقین ہو گا۔ بعض اللہ والوں کو کہتے سنا ہےکہ ،، نا ہم کسی کے نا کوئی ہمارا ، ہم سب اسی کے وہی بس ہمارا۔ سمجھنے والے شاید اللہ کی یاد کو دل میں رچا کر دنیا کو تو ساتھ رکھتے ہیں مگر دنیا والوں کی بجائے مانتے صرف اللہ کی ہی ہیں اور وہی کامیاب ہوتے ہیں ۔

جناب قصے کہانیوں میں تو بچپن سے قارون کے خزانے کا سنتے آئے مگر دو روز قبل بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کے ایک بابو کے گھر جو منظر ٹی وی سکرینوں نے دیکھائے وہ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے میڈیا میں اپنی مثال آپ رہے اور ہر جگہ موضوع گفتگو رہے ۔ عوام کے ٹیکسوں پر پالنے والے افراد جو اپنے آپ کو ناجانے کہاں کی مخلوق قرار دیتے نہیں تھکتے اور خود کو تو پارسا قرار دیتے ہیں مگر سوسائٹی کے دیگر افراد کو ناجانے کیا کیا القابات دیتے ہیں انکے پیٹی بھائی کی کارستانی ملک کی سب سے بڑی خبر بنی اور ایک عرصے بعد اس نے پانامہ لیکس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ صوبہ بلوچستان کو اللہ نے ویسے تو معدنی وسائل سے مالا مال کیا ہے مگر جس طرح خزانے کی حفاظت کرنے والے سیکرٹری بہادر کے گھر سے خزانے کی شعاعیں نکلیں کہ اس نے کرپشن کے اندھیرے میں اجالا کر دیا۔ مگر دیکھنا اب یہ ہے کہ اس خزانے کے نکلنے کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں بھی کوئی ہل چل ہو گی کیوںکہ ہمارے ملک کی بدقسمتی رہی ہے کہ جو جتنا کرپٹ ہوا وہ اسی قدر عزت پاتا رہا۔

پاکستان میں جمہوریت اور آمریت دونوں کی عمریں تقریبا 34 سال ہیں گو آزادی کے بعد دونوں کی اننگر تقریبا برابری کی سطح پر چل رہی ہیں اگر ملک میں جمہوریت قائم رہی تو جلد وہ آمریت کو شکست دے گی مگر کبھی کسی نے یہ سوچا کہ آمریت کی سیاہ رات میں جمہوری چہرے تو چھپا دیئے جاتے ہیں مگر جمہوریت کے دنوں میں جو انتظامی چہرے اتنے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور آمریت کے آتے ہی یہ اپنا قبلہ تبدیل کرتے ہیں انکے خلاف بھی پانامہ لیکس منظر عام پر کیوں نہیں لائی جاتی۔ جناب آمریت کے سہولتکار تو دراصل یہ ہی قارون کے خزانے والے افسر ہیں جو جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کے ساتھ اتنی جلدی رنگ تبدیل کرتے ہیں کہ اتنی جلد تو گرگٹ بھی رنگ نہ بدل سکے۔

اصل میں تو سہولت کار یہ ہیں جہنوں نے میرٹ کا خون کیا جنہوں نے کرپشن کی انتہا کی مگر اس کے باوجود یہی نادیدہ قوتیں ملکی نظام میں ایسے اپنی جڑیں گاڑ چکیں ہیں کہ جمہوری افراد پر تو سب بات کر لیں گے مگر ان فرشتوں پر کوئی لب کشائی نہیں کرے گا کیونکہ انہیں اپنا معاملہ سلجھانے کا سلیقہ آتاہے اور سیاستدانوں کی کمزوریوں کو کیسے استعمال کرنا ہے اس کا گر بھی یہ خوب جانتے ہیں اگر آج سیاسی کارکن اتنے ذہین ہوتے تو پھر کوئی بابو سہولتکار نہ بن سکتا ۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ سی ڈی اے ،ایل ڈی اے، میگا پاور پراجکٹس ، سستی روٹی،پیلی ٹیکسی، سبز ٹریکٹر سمیت متعدد ایسے معاملات ہیں کہ جن کے پیچھے بھی انہیں بابووں کے نام آتے ہیں۔ مگر انکے اختیارت کی طاقت اور ملی بھگت کے باعث کوئی انکا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔بیورو کریسی میں چہیتےجب بھرتی ہوں گے تو پھر مشتاق رئیسانی جیسے چہرے سامنے آئیں گے ۔ جب سیاستدانوں کی جی میں جی اور ہاں میں ہاں ہو گی تو پھر بیوروکریٹ وہی کرے گا جو اسکا دل چاہے گا۔جب نظام اتنا کرپٹ ہو جائے کہ رشوت ،کمشن کو کوئی برائی نہ گردانے تو پھر بلوچستان جیسے واقعات تو سامنے آئیں گے ہی ۔ سیاسی دباو اور سیاسی مداخلت کو جب کوئی افسر میرٹ پر روکے گا تو پھر دیکھیں کیسے کرپشن کو ہوا ملے ۔

یہاں تو ہر بات پر جی حضوری نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا کیونکہ سچ کو سننا اور میرٹ کا گلا دبانے کے لیے یہ بابو ہی کافی ہیں۔رہی بات مشتاق رئیسانی کی تو سنجیدہ حلقے کہتے ہیں انکا بھی کچھ نہیں ہو گا کیونکہ جب گروپنگ مضبوط ہوتو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ عوام کے وسائل پراستعمال ہونے والے 65کروڑ سے زائد پیسے کو گھر میں رکھنا کیسے اور کہاں سے آئے یہ تو آنے والی دنوں میں تحقیقات سے سامنے آئے گا کیونکہ اتنا پیسہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ کسی افسر کے گھر سے ایسے نکل سکتا ہے ۔ ویسے تو سندھ حکومت کی اعلی شخصیات کے گھر سے بھی ایسا معاملہ ہوا مگر انکی گڈ مینجمنٹ نے اس بات کو دبا دیا اور وہ خود ساختہ جلاوطنی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ یہاں پر ڈی جی نیب بلوچستان مبارکباد کے مستحق ہیں مگر اس کے ساتھ ان پر مزید ذمہ داریاں بھی عائد ہوتیں ہیں کہ اب وہ کرپشن کے اس بت کو ناصرف پاش پاش کریں بلکہ اسکی جڑوں کو بھی صاف کر کے بلوچستان کو تحفہ دیں تاکہ آئندہ کوئی افسر اپنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کر کے قوم کے پیسوں کو لوٹنے کی کوشش کا سوچ بھی نہ سکے اب ایسا نہ ہو کہ دولت کی چکا چوند انصاف کو سراب کی ماند کر دیں کیونکہ یہاں تو نوٹوں کی زبان کو پہیے لگے ہوتے ہیں ناجانے کیوں مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ اب کی بار دیگر صوبوں کے بابو بھی قانون کی نظر سے نہیں بچ سکیں گے کیونکہ اگرملک کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنانا ہے تو خدارا اب حکمرانوں کو آنکھیں کھولنا ہوں گی خدارا ملک سے محبت کےلیے اب کرپٹ عناصر کو اپنی صفوں سے نکال دو کیونکہ اب بھی اگر آغاز نہ ہوا تو پھر قارون کا خزانہ ہو یا پاکستان کا سب خاک ہو جائے گا۔ کیونکہ دنیا تو ہے ہی سراب۔

بقول شاعر
گذشتہ عہد ،گزرنے ہی میں، نہیں آتا
یہ حادثہ بھی لکھو،معجزوں کے خانے میں
جو رد ہوئے تھے جہاں میں، کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں، اس زمانے میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے