طوطہ،اوریانیت اور خواتین کی کرکٹ

ممتاز مفتی لکھتے ہیں کہ ایک بزرگ سے گفتگو میں اسلامی نظام پر بحث چھڑ گئی ۔دلائل کے تھوڑے بہت تبا دلہ کے بعد بزرگ نے ٹھنڈے انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اسلا می نظام نافذ کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔مفتی جی اچھے بھلے پابند شرع بزرگ کا یہ رنگ دیکھ کر چکرا گئے اور پوچھا حضرات کوئی ضرورت نہ ہونے کی خاص وجہ؟اس استفسار پر ان بزرگ نے انوکھا جواب دیا یار یہاں تو پہلے ہی اسلامی نظام نافذ ہے جب صوفیاء نے یہاں کے لوگوں کو مسلمان کیا تو اللہ اور اس کے دین کے تصور کو ہمارے اذہان میں ایسا راسخ کر دیا جیسے پنجرہ میں کسی طوطے کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ۔اب ذرا غور کروہم میں سے نیک بد ہر قسم کا مسلمان اٹھتے بیٹھتے دھیان بے دھیانی میں اللہ کو یا دکرتا رہتا ہے،ہر بوڑھے بچے کی بات بات میں اللہ ، رسولﷺ اور اسلام سے محبت کا ذکر ہوتا ہے۔اسلام کے بارے میں جو ہماری حمیت بھی اچانک بیدار ہوتی ہے وہ بھی اس پنجرہ میں بند طوطے کا کرشمہ ہے۔بزرگ کی یہ گفتگو تومفتی جی کا دل جیت کر ان کی تحریروں کا حصہ بن گئی لیکن اس پنجرہ، طوطے اور اسلامی اقدار کے راسخ ہونے کے تصور (concept) کو سمجھنے کے لئے ہمیں سائنس کی دنیا میں جانا ہوگا۔

انسانی عقائد،رویے اور جن دماغی افعال(brain function) کی وجہ سے یہ وجود میں آتے ہیں ، یہ سب بہت عرصہ سے محققین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ہمارے کچھ رویے اور عقائد پیدائش سے پہلے اور کچھ اوئل عمری میں ایسے دماغ میں راسخ (hardwired) ہوتے ہیں کہ ساری عمر وہ شخصیت کا لازمی جزو بن جاتے ہیں ،دوسری جانب کچھ رویے اور عادات وقت کے ساتھ بنتی اور بدلتی رہتی ہیں ان کوسیکھنے اور بھو لنے (learning behavior) سے نتھی سمجھا جاتا ہے۔بزرگ نے پنجرہ میں جس طوطے کے بند ہونے کا ذکر کیا وہ ہمارے اندر اسلامی عقائد، شعائر اور ویلوز کا راسخ پنا (hardwiring) ہے۔جب ہمیں مختلف نئے خیالات، نظریات،رویوں اور طرز زندگی سے متعارف کرایا جاتا ہے تو ہماری (hardwiring)ایک خاص قسم کا رد عمل دیتی ہے۔اور کچھ ریسرچز کے مطابق انتہا پسند رویوں کے پیداہونے کی وجہ بعض اوقات ہماری کلچرل ویلوز اور راسخ عقائد اور رویوں کے خلاف تضحیک یا جبری مسلط کیا جانا ہوتا ہے ۔

پچھلے دنوں خواتین کی کرکٹ کے حوالے سے ایک اشتہار پر بحث زور وشور سے جاری تھی۔تنقید کرنے والے اس میں فحاشی اور خاندانی ویلوز پر ضرب کو نشانہ بنائے ہوئے تھے اور رد تنقید میں انھیں اوریانیت کے طعنوں سے نوازا جا رہا تھا۔میری رائے میں فحاشی اور دیگر الزامات جزوی تھے اصل ہدف تنقید نگاروں کا عورتوں کا پروفیشنل سپورٹس میں حصہ لینا اور اس کی مین سٹریم میڈیا پر پر موشن تھی۔اس ساری بحث کو پاکستانی کلچر کے زمینی حقائق اوراس معاملہ میں ہمارے راسخ رویوں کے تناظر میں دیکھنا بھی اس تصویر کے ایک دوسرے رخ کو واضح کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔

کھیل کا بنیادی مقصدتو جسمانی صحت میں اضافہ اور تفریح طبع ہے لیکن پچھلی ایک صدی کی کمرشلائزیشن نے اس کو بھی پروفیشن(profession) میں بدل دیا ہے۔ٹاپ پلئیرز کی لاکھوں کروڑوں میں آمدن اور سٹار ڈم (stardum) نے کھیل کو پوری دنیا میں گلی محلوں سے نکال کر بین لاقوامی کلچر بنا دیا ہے۔شروع میں اسکو مردوں تک ہی مخصوص رکھا گیا لیکن بتدریج اس میں عورتوں کی شمولیت کے بعد اب ہر قسم کی کھیلوں میں عورتوں کی نمائندگی بھی تقریبا برابر کی ہی ہوتی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سپورٹس کلچر پاکستانی معاشرے میں بھی امپورٹ ہوا اور بین الاقوامی سطح پر ہماری کرکٹ اور ہاکی کی ٹیموں نے دنیا میں بہت نام کمایا لیکن خواتین کی سپورٹس ہمارے ہاں زیا دہ ترقی نہیں کر سکیں جس کی وجہ ویمن سپورٹس کلچر کا ہمارے ہاں کے لوکل سماجی کلچر سے ٹکراؤ تھا۔یہ بحث الگ ہے کہ عورتوں کے بارے میں ہمارا کلچر صحیح ہے یا غلط لیکن زمینی حقیقت (ground reality) یہ ہیں کہ ہمارا معاشرے عورتوں کے بارے میں حفاظتی شعور (protective conscious) رکھتا ہے چاہے ان کے لباس کا معاملہ ہو یاتعلیم کا، شادی بیاہ ہو یا ان کی ملازمت ہماری اخلاقی قدریں ان مغربی معاشروں سے بہت مختلف ہیں جن کی نقالی کی ہم بہت کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں پیدائش سے لے کر موت تک عورت کے لئے چادر اور چار دیواری کا تقدس برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔تمام تر انڈسٹرلائزیشن اور مغربیت کے اثرونفوذ کے باوجود آج بھی لڑکیوں کا سکول ،کالج ،اور ملازمت کی جگہ یا مارکیٹ کے علاوہ کہیں بلا ضرورت نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح لباس کے معاملہ میں بھی پاکستانی معاشرہ دوسرے مسلم معاشروں کے مقابلہ میں دقیا نوس ثابت ہوا ہے ۔یہاں آج تک مغربی لباس کسی بھی لیول پر مقبولیت حاصل نہیں کرسکا ہے ۔ جس کی وجہ سے آج بھی ہمارا ہاں عورتوں کے ڈریس کوڈ ز(dress codes) مشرقی اور اسلامی اقدار سے زیادہ سے زیا دہ مطابقت رکھتا ہے۔

دوسری جانب جب ہم انٹرنیشنل سپورٹس کلچر کی طرف دیکھتے ہیں تویہ ہماری روایات سے بالکل متصادم ہے۔یہاں (out in the open) ٹریننگ کیمپس سے لے کرلوکل اور انٹرنیشنل ٹورز ،میڈیا، لائم لائٹ اور بہت سی ایسی کمرشل سرگرمیوں کا حصہ بننا پڑتا ہے جو ہمارے ہاں غیر اخلاقی سمجھی جاتی ہیں ۔اس کے علاوہ اب تقریبا ہر کھیل کی انٹرنیشنل باڈی کی طرف سے مخصوص ڈریس کوڈز کی پابندی لازمی قرار دے دی گئی ہیں جن میں اکثر میں تو برہنگی کوئی غیر معمولی امر نہیں سمجھا گیا ورنہ مغربی لباس تو خیر سب کاہی خاصہ ہے۔اب اس صورتحال میں ایک عام پاکستانی لڑکی کیونکر ان کھیلوں کا حصہ بن سکتی ،یہ آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔جب اس سپورٹس کلچر پر تنقید کی جاتی تو پاکستانی اور اسلامی کلچر کو سمجھے بغیردنیا کے ساتھ نہ چلنے اور دقیانوسی کے طعنہ دئے جاتے ہیں ۔لیکن معاملہ یہاں کلچرل تصادم کا ہے اسلئے اس ایشو کو ایڈریس کرنے کے لئے ہمیں دیکھنا بھی مغربی دنیا کی بجائے ان برادرکلچرز کی طرف چاہیے جو اس طرح کے تہذیبی مناقشوں(cultural conflicts) میں بیچ کی راہ نکالنے میں کامیاب رہے۔

ایران کی مثال اس معاملہ میں قابل توجہ ہے جہاں انقلاب کے بعد عورتوں کو اس طرح (facilitate) کیا گیا کہ ان کے کھیلوں کے لئے الگ میدان ،جمنیزئم اور سوئمنگ پول مختص کئے گئے جہاں وہ پرائیویسی کے ساتھ اپنا کھیل کا شوق جاری رکھ سکتی ہیں۔اگر ایران کی مثال کی تقلید نہیں کی جا سکتی تو کم از کم مین سڑیم میڈیا پر اس طرح کے پروموشنل اشتہاروں (promotional advertisement)کی حوصلہ اٖفزائی سے کم از کم گریز کرنا چاہیے جن میں قوم کی راسخ(hardwired) اخلاقیات کا مذاق اڑانے کے ساتھ خاندان اور سوسائٹی کے بندھنوں کو توڑنے والے متنازعہ تخلیقی سماجی کرداروں کو (success story) کے طور پر پرموٹ کیا جائے۔ جب اس طرح کے سٹنٹ کئے جاتے ہیں تو قدامت پرست طبقہ کی طر ف سے ایک زبردست ریکشن آتا وہ دراصل ہمارے اندر اسلامی اقدار کی پامالی پر فطری ریسپونس (response)ہے اور یہ اگر یہ بے ڈھنگا سلسلہ جاری رہا تو یہ ریکشن جلد یا بدیر ایگریشن (aggression) میں بدل کر مستقبل میں مزید انتہا پسندی پھیلانے کے علاوہ اور کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دے سکے گا ۔ لبرلزم کے حامیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان میں رہنا ہے تو پاکستانی اور اسلامی کلچر سے سرتابی پر اوریانیت کو برداشت کرنا پڑے گا ،کیونکہ ملا اور دہشتگردی کے متعلق ایشوز پر تو شاید آپ چمپئین بن جائیں لیکن ان راسخ (hardwired) اخلاقیات کے معاملہ میں آپ کی دال گلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے