افغانستان میں پاکستان کے خلاف جنگ

انڈیا افغانستان میں دریائے کابل پر 13 ڈیم بنا رہا ہے جن کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے لیے اس دریا میں پانی کی مقدار نہ ہونے کے برابر رہ جائیگی!

پاکستان کے کم از کم 20 شہر دریائے کابل پر کسی نہ کسی طرح انحصار کرتے ہیں جن میں سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے تین بڑے شہروں کی زراعت کا کل انحصار ہی صرف اسی دریا پر ہے۔

پشاور 80 فیصد، نوشہرہ 47 فیصد اور ضلع چارسدہ کی 84 فیصد زراعت اس دریا کے مرہون منت ہے۔ ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد ان شہروں کی زراعت بہت حد تک تباہ ہوجائیگی۔ ایوب خان نے 1960 میں اس دریا پر ورسک ڈیم بنایا تھا جو 343 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے اور خیبر پختونخواہ کی بجلی کی کم از کم 25 فیصد ضروریات اس ڈیم سے پوری ہوتی ہیں۔ دریائے کابل سوکھنے کی صورت میں صوبہ اس سستی بجلی سے بھی محروم ہوجایگا!

یہ سارا معاملہ بارہا منتخب جمہوری حکومت کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے لیکن وہ اس پر ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں (فلحال وہ دن رات ایک کر کے اپنی آف شور کمپنیاں بچانے میں مصروف ہے) دوسری طرف پشتونوں کے سب سے بڑے "خیرخواہ” اسفند یار ولی نے تو باقاعدہ ان انڈین ڈیموں کی حمایت کر دی ہے۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ اسفند یار ولی کا تعلق ضلع چارسدہ سے ہے جو ان ڈیموں سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور اسکی زراعت مکمل طور پر تباہ ہوجائیگی!

یہ اسفند یارولی کالاباغ ڈیم کا سب سے بڑا مخالف ہے جس سے صوبہ خیبرپختنواہ کی 8 لاکھ ایکڑ بنجر زمین سیراب ہوگی اور صوبے میں زرعی انقلاب آجائیگا۔ ( یہ کافی افسوسناک امر ہے کہ محض ایک خاندان کی ہٹ دھرمی کی بدولت پشتنونوں سمیت 20 کروڑ آبادی بجلی اور پانی کے بحرانوں سے دوچار ہے )

دنیا بھر میں پانیوں پر ممالک کے درمیان معاہدے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہئے۔ سنا ہے کچھ لوگوں نے اس معاملے میں افغانستان سے سرسری سی بات کی تو انہوں نے معاملے پر بات کرنے سے ہی انکار کردیا اور کہا کہ اس پر ابھی ہماری پالیسی نہیں بنی۔ اس صورت میں پاکستان کو ہر صورت میں ان ڈیموں پر کام رکوا دینا چاہئے کیونکہ اس دریا کا پانی صرف افغانستان کا نہیں ہے۔ اس طرح افغانستان کو بھی ٹائم مل جائیگا کہ وہ آرام سے بیٹھ کر پالیسی بنا سکے!

ان ڈیموں کے حوالے سے آجکل سوشل میڈیا پر یہ پرپیگینڈا بھی کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کا اصل خیر خواہ انڈیا ہے نہ کہ پاکستان۔ انڈیا افغانستان میں ڈیم بنا رہا ہے جبکہ پاکستان وہاں دہشت گرد بھیج رہا ہے۔

تو جناب عرض یہ ہے کہ افغانستان ماچس کی تیلی سے لے کر آٹا، گھی، چینی، سیمنٹ، ادویات غرض ضروریات زندگی کی تقریباً ہر چیز پاکستان سے حاصل کرتا ہے جسکے بدلے میں اٖفغانستان سے پاکستان صرف اسلحہ، ہیروئن اور افغان پناہ گزین ہی آرہے ہیں۔

پاکستان میں 40 لاکھ افغانی پناہ گزین ہیں جنکا صرف ایک سال کا خرچہ ہی اس جیسے 100 ڈیموں کے خرچے کے برابر ہے ( انڈیا خیر خواہ ہے تو صرف ان اٖفغان پناہ گزینوں کو پناہ دے کر دکھا دے)

افغانستان وہ واحد ملک ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ سردار داوؤد کے دور سے پاکستان میں دہشت گردی اور بغاوتوں کو افغانستان ہی سپورٹ کرتا رہا ہے جس نے پاکستان میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔ فضل اللہ سمیت دہشت گردوں کے تمام سرپرست افغان حکومت کی پناہ میں ہیں۔

پاکستان نے روس کے خلاف بے سروسامانی کے باوجود اٖفغانستان کی مدد کی۔

آج اگر واقعی پاکستان امریکہ کے خلاف مجاہدین کی مدد کر رہا ہے تو ایک غیرت مند افغانی اس پر ناراض کیسے ہو سکتا ہے ؟؟
امریکہ کی قائم کردہ کٹھ پتلی حکومت پورے افغانستان کی ترجمان کیسے ہوسکتی ہے جس کے منہ میں یہ ڈال دیاگیا ہے کہ ” امریکہ افغانستان میں تا قیامت رہے ” ؟؟؟

اور سب سے بڑھ کا انڈیا کی افغانستان سے محبت ” حب علی ” نہیں بلکہ ” بغض معاویہ ” والا معاملہ ہے۔ وہ پاکستان کی نفرت میں افغانستان پر مہربان ہو رہا ہے۔ یہ نفرت نہ ہو تو ہندو کو مسلمان سے جو تاریخی عناد ہے اس کے پیش نظر انڈیا افغانستان کو زہر بھی نہ دے !
ایک طرح سے انڈیا افغانستان میں جو سرمایہ کاری کر رہا ہے اس کے لیے بھی اسے پاکستان ہی کا شکر گزار ہونا چاہئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے