روس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تقویت دینے کے لیے خفیہ طور پر کام کیا

روسی حکام کی جانب سے ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی گئی ہے. امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ روس نے صدارتی انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو تقویت دینے کے لیے خفیہ طور پر کام کیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں ’وثوق سے’ کہہ سکتی ہیں کہ روس نے امریکہ کے حالیہ انتخاب میں ہیکنگ کی ہے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں اسی طرح کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ‘ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے۔’ ادھر روسی حکام کی جانب سے ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے جعمے کو امریکہ کے صدارتی انتخاب کے دنوں میں ہونے والے سلسلہ وار سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ ان حملوں کا الزام روس پر عائد کیا جاتا ہے۔ ہیکروں نے ڈیموکریٹک پارٹی اور صدراتی امید وار ہیلری کلنٹن کی ای میلز کو نشانہ بنایا تھا۔
اکتوبر میں امریکی حکام کی جانب سے روس کی جانب انگلی اٹھائی گئی تھی اور اس پر امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سینئیر انتظامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس کے ہیکروں نے رپبلکن نیشنل کمیٹی اور رپبلکن پارٹی کے کمپیوٹر سسٹم کو ہیک کر لیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ روس کے ہیکروں نے ان دستاویزات کو وکی لیکس کے حوالے کیا۔ خیال رہے کہ ڈیموکریٹس نے اس وقت انتہائی ناراضی کا اظہار کیا تھا جب ہیکروں نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈیسٹا کے ای میل اکاؤئنٹس تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ پوڈیسٹا کی ای میلز تک وکی لیکس کی رسائی ہو گئی تھی اور انھیں آن لائن پوسٹ کر دیا گیا تھا۔

ڈیموکریٹس نے اس وقت انتہائی ناراضی کا اظہار کیا تھا جب ہیکرز نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈسٹا کے ای میل اکاؤٹس تک رسائی حاصل کر لی تھی. واشنگٹن پوسٹ نے نام لیے بغیر ایک سینئیر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ‘انٹیلیجنس ایجنسیوں’ نے ایسے ‘افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے روسی حکومت سے تعلقات تھے اور روس نے ہزاروں ای میلز وکی لیکس کے حوالے کیں۔

ایک موقعے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کا نام لیتے ہوئے ہیکروں کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز ‘تلاش’ کریں، تاہم اس بات پر شدید ردعمل آنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ طنز کر رہے تھے۔ ڈیموکریٹس کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیکنگ ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایرک شلز کا کہنا ہے ‘صدر اوباما اپنے دورِ اقتدار ہی میں اس بارے میں تحقیقات کروانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔’ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس تحقیقاتی جائزے کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے