وادی کشمیر میں 20دن،مشاہدات اور یادیں

21اگست سے 11ستمبر2017تک وادی کشمیر کا بس سروس شروع ہونے کے بعد یہ میرا دسواں دورہ تھا۔ہماری طرف ہر سفر پر میں نے بہتری دیکھی جبکہ2015کے بعد دوسری طرف سے کوئی خاطرخواہ سہولت دیکھنے میں نہیں آئی محسوس ہوتا ہے کہ وہ اسکو ناکام بنانا چاھتے ہیں جیساکہ راولاکوٹ کی طرف سے ہو گیا ہے۔ اب کی بار خوف مایوسی اور غم وغصہ کی کیفیت فضا میں چھلکتی نظر آئی۔

نریندرمودی کے ہندوستان کا وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستانی فوج اور ہندوستانی اداروں کے روئیے وہ نہیں لگتے جو اٹل بہاری واجپائی اور من موہن سنگھ کے دور میں تھے لیکن عام کشمیری کا حوصلہ،ہمت اور کامیابی پر یقین پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس ہوا۔ظلم و جبر حوصلے و ہمت کو جنم اور طاقت دیتا ہے یہی کیفیت کشمیر میں دیکھنے میں آئی۔فوج کے گلی گلی ۔محلے اور گاؤں گاؤں موجودگی اس بات کی گواہ ہے کہ ہندوستانی فوج کشمیر کے ہر زرے پر بذور طاقت قابض ہے لیکن ان کے جذبات ، محبت اور خوش نودی حاصل نہیں کر سکی اور نہ کر سکتی ہے۔میں نے پونچھ اورراجوری سے کپواڑہ اور کرناہ تک کے سفر کے دوران ہر گاؤں کی پہاڑی کے اوپر فوجی کیمپ دیکھا جو ہر ہر فرد کے اوپر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن لوگوں کی زندگی نارمل اورفوج کے خلاف نفرت بہ درجہ اتم دیکھی۔ فوج نے اب اپنی حکمت بدل لی ہے،جب تک ان کو نہ چھیڑیں وہ عوامی ردعمل سے بچنے کے لئے نہیں چھیڑتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج نے اپنے جاسوسی کے نظام کو اس قدر مربوط اور مضبوط کر لیا ہے کہ جان با زوں کے قیام گاہ کی بالکل صحیح اطلاع پالیتی ہے اور فوجی ایکشن براہ راست اسی گھر یا زیادہ سے زیادہ اسی محلے یاگاؤں تک محدود رہتا ہے جو ان کی پناہ گاہ ہے۔

مقامی لوگوں کو Territorial ArmyجسےTAکہتے ہیں میں بھرتی کر کے قومی فوج کا حصہ بنایا گیا ہے،جو عام لوگوں سے ربط و ضبط رکھتے ہیں،جن کی وردی ہندوستانی لیکن دل کشمیری ہیں ,تاہم وہ کام وہی کرتی ہے جو ان کو قومی فوج کہتی ہے۔لوگوں کو بارڈر سیکورٹی فورس ،سی ۔آر۔پی ۔ایف میں بھرتی کر کے زہن وضمیر کو بدلنے کی شعوری کو شش کی جا رہی ہے۔ کشمیر ی نوجوانوں کو ہزاروں کی تعداد میں تعلیم اور ٹرینگ کے لئے ہندوستان کی یونیورسٹیوں اورٹیکنیکل اداروں میں سرکاری وضائف پر تعلیم اور ٹرینگ دے کر ہندوستان میں نوکریاں دے کر ان کے ذہن کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔میرے نزدیک آبادی کے تناسب کو ہندوآباد کاری کے علاوہ اسطرح بدلنے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔اگر ہندوستان اس میں کامیاب ہو گیا تو غیر مسلموں کو کشمیر میں آباد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

حریت کی قیادت، کاروباری شخصیات،اور بااثر لوگوں کو ہندوستان مرکزی اداروں کی قانونی گرفت میں لارہا ہے ،جن میںCentral Beuro of investigation(CBI)،National Investigating Agency(NIA)سرفہرست ہیں۔ان لوگوں کو دہلی میں اپنے ماحول سے باہر اجنبی لوگوں ،اجنبی جگہوں میں لے جا کر ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ان کے نام مبینہ طور کروڑوں بلکہ اربوں روپے مالیت کی جائیداد بنانے کادستاویزی ثبوت کے ساتھ الزام لگا کر ان کی وضاحت مانگی جا رہی ہے۔جس سے یہ لوگ انکاری ہیں لیکن اسطرح ان لیڈروں اور ان کے عزیزوں کو عام لوگوں کی نظروں سے گرایا ،بے وقار اوربے توقیر کیا جا رہا ہے۔حیرانگی کا مقام یہ ہے کہ عام لوگ ان کی پکڑ دھکڑ سے لا تعلق ہو گئے ہیں۔عام لوگ ان کی ہمدردی میں دو بول بھی نہیں بولتے۔ان کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑکر عام لوگوں کی ہمدردیوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔

حریت کے لیڈر مرکزی حکومت کے نمائندوں سے ہندوستانی آئین کے تحت بات کرنے کو تیار نہیں نہ ہی مرکز کے دیگر سیاسی لیڈروں اور پارلیمانی وفود سے ملنے کو تیار ہیں۔ عسکریت کا آزادی کی تحریکوں میں ایک رول ہوتا ہے لیکن بات چیت کے دروازے بھی بند نہیں ہونے چاہیں۔دنیا کی ساری آزادی کی تحریکیں مزاحمت اور گفت وشنید کو ساتھ لیکرچلتی ہیں ۔کشمیر کی قیادت آئین کی دفعہ 370اور اس کی ذیلی دفعہ35Aکو بحال رکھنے کی اگرمانگ کرتی ہے، تو انہی دفعات کے تحت بات چیت کرنے میں بھی کوئی امرمانع نہیں ہونا چاہئے۔ان دفعات کی بنیاد مہا راجہ کشمیر کے الحاق نامے پر ہے اور الحاق کی منظوری اور جوازیت رائے شماری سے مشروط ہے ،اس کو بنیاد بنا کر بات چیت کرنے میں کیا امر مانع ہے؟نوجوان اپنا کام کرتے رہیں۔تحریک نوجوان اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں اور یہ نسل

درنسل منتقل ہو تی جارہی ہے ۔نوجوان آزادی سے کم کسی چیز کو ماننے کو تیار نہیں اور آزادی سے ان کا مطلب ’’لغوی اور معنوی طور آزادی ‘‘ہے اور کچھ نہیں۔پاکستان زندہ باد ،پاکستانی جھنڈا اور پاکستانی ترانہ ان کا ماٹو ہے جس سے ان لوگوں کی پاکستان سے محبت سے بڑھ کر ہندوستان کے خلاف شدید نفرت

اور چڑ کا اظہارہے۔ ان کا یہی رویہ ہندوستان کے غیظ وغضب کو دعوت دیتا ہے۔

ہندوستانی فوجی اورباقی دنیا ان کے خود مختاری کے نعرے سے نہیں پاکستان سے محبت کے رویہ کو

 

تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اس کے لئے حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے۔پونچھ سے واپسی پر شوپیاں کے ایک گاؤں سے گذر تے ہوئے ایک پڑھی لکھی با شعور خاتون نے اگلے گاؤں میں جانے کے لئے ہم سے گاڑی میں لفٹ مانگی ۔ہم نے اسے ساتھ بٹھایا۔ اس خاتون سے جب میں نے پوچھا کہ آپ لوگ نمائندے منتخب کرنے کے لئے ووٹ بھی ڈالتے ہیں،ان کی بنائی ہوئی حکومت کے خلاف مظاہرے بھی کرتے ہیں۔حریت لیڈروں کی درخواست پر ہڑتال اور ماردھاڑ بھی کرتے ہیں،پاکستان زندہ باد بھی کہتے ہیں ، خودمختاری کا نعرہ اور جذبہ بھی رکھتے ہیں ،یہ کیا تضادہیں؟اس کا جواب تھا ’’ووٹ ہم اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لئے دیتے ہیں ،پاکستان ہمارے دل میں آباد ہے،خود مختاری ہماری منزل ہے‘‘،پاکستان کے ساتھ الحاق؟ میں نے پوچھا ،اس کا جواب تھا’’ہم جلدی میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے کہ اپنے دل میں بسنے والے کے ساتھ خدانخواستہ وہی کچھ کرنا پڑے جو شیخ عبداللہ کی جلد بازی کے باعث کرنا پڑرہا ہے۔’’بدقسمتی سے اس کا گاؤں قریب آگیا اور وہ اتر گئی ورنہ اس سے اور بہت کچھ پوچھنا تھا۔

40سال تک کی عمر کے نوجوانوں کی اکژیت کے یہی جذبات ہیں۔اگر یہ کبھی ممکن ہوا تو ہمیں ذہنی طور پر اسے قبول کرنے کو تیار رہنا چاھئے۔کشمیری پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ،دہشت گردی اورسفارتی تنہائی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ہرنوجوان اور صاحب فکر یہی کہتا ہے اپنے مسائل حل کریں۔میرے خیال میں یہی پریشانی ان کو خودمختاری کی طرف لے جا رہی ہے۔اس کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان کو ’’آزادکشمیرکو آزادی کے ایک ماڈل کے طور پیش کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ ہمارے نوجوان بھی اس ماڈل کوہی قبول کریں گے جو وہاں کے نوجوان پیش کریں گے۔ جو ہمارے لیے مشکل ترین حالت ہو گی۔مودی حکومت کے نزدیک کشمیر ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر ہے تو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان ہے۔ان کے لیڈروں کے بیانات ،الیکڑانک میڈیا اور سرکار ی ایجنسیاں’’کشمیر کے مسئلہ ‘‘کا نام سننا پسند نہیں کرتے بلکہ اس کو جرم اور گناہ سمجھتے ہیں ۔اس کی ایک مثال یوں ہے کہ جب مجھے پونچھ کی بار ایسوسیشن نے استقبالیہ دیا جس میں بار کے جنرل سیکرٹری جس کا تعلقRSSسے تھا نے، پاکستان کے قیام ،کشمیر کی تحریک،حریت کے لیڈروں اور پاکستانی فوج کے خلاف زہر اگلا،جس پر بار میں موجود ہندو اور مسلمان وکیلوں نے اس کو منع بھی کیا،برابھلا بھی کہا،لیکن اس نے مودی اور اس کے قبیل کے باقی لوگوں کی زبان نہیں بدلی ۔

مہمان کی حیثیت سے مجھ پر میزبان ملک کے قانونی ذمہ دایاں عائد تھیں،لیکن جذبات بھی غالب تھے۔میں نے صرف اتنا کہا کہ’’ ہندوستان کے بٹوارے کو مہاتما گاندھی نے گاؤ ماتا کے بٹوارے کے برابر قراردینے کے باوجود اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا،قائداعظم نے بٹوارے کے مطالبے سے پہلے تین کنفڈریشنل یونٹس کے قیام کی تجویز دی تھی جس کو نہ مانا گیا جس بناء پر ہندوستان کے بٹوارے کا مطالبہ کیا اور کرایا بھی، ہندوستان کی ساری سیاسی جماعتوں نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے اپنا اپنا فارمولہ پیش کیا ہے،ہندوستانی آئین میں ریاستوں کے مسائل اور بین الاقوامی مسائل کے حل کے لئے رہنما اصول دئے ہیں اور کشمیر کے بارے میں تو بالخصوص ایک دفعہ ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مفاہمتی سمجھوتے اور معاہدے ہوئے ہیں جن کے تحت دونوں ملکوں کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں‘‘۔

میری صرف ان بے ضرر باتوں پر میرے گھر واپس پہنچنے تک بیسوں ایجنسیوں نے فون پر ہل چل مچا دیا۔اگلی صبح ایک بکتر بند گاڑی میں سوار پولیس آفیسر معہ پولیس کے سرینگر میر ے گھر پہنچے اورمرکزی وزارت داخلہ کا پیغام دیا کہ’’آپ اپنے آپ اور حکومت کو مشکل میں نہ ڈالیں کہ سخت فیصلے کرنے پڑیں جن میں سے کم ازکم آپ کو واپس کر کے دوبارہ کشمیر آنے کی اجازت بھی نہ دی جائے‘‘چونکہ پولیس آفیسرمسلمان تھا اور اس کے جذبات بھی باقی کشمیریوں کی طرح کے تھے اس نے کچھ اور باتیں بھی کہیں جن کا یہاں تذکرہ کرنا نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی ضروری ۔ اس کے بعد مجھے آبائی گاؤں کرناہ جانے کے لئے ڈپٹی کمشنر کپواڑہ سے اجازت لینا تھی،جس کے لئے میرے کزن نے درخواست دی۔ڈپٹی کمشنر اور ایس۔ایس۔پی نے وہی بات دہرائی جو مجھے سرینگر میںConveyکی گئی تھی ۔میرے کزن سے ، جو وہاں ڈسٹرکٹ آفیسر ہے ، سے یہ ضمانت چاہی کہ جج صاحب وہ باتیں نہیں دھرائیں گے جو پونچھ میں کی تھیں۔مجھے بتایا گیا کہ ہندوستانی حکومت کشمیر نام کی کوئی بات سننا پسند نہیں کرتی۔کشمیرمیں انڈین سروس کے سارے لوگ مقامی کشمیری حکومت کے بجائے مرکزی وزارت داخلہ سے احکامات اور ہدایات لیتے ہیں یا مقامی حکومت میں شامل BJPکے بااثر لوگوں اورIBسے ۔

دفعہ370اور اس کے تحت بنائے گئے دفعہ35A کے بحال رہنیپر مقامی ہندوستان نواز اور آزادی پسند جماعتیں ہم خیال پائی جاتی ہیں ۔ تحریک کا محور صرف وادی کشمیر ہے۔خانہ پری کے لئے پیر پنجال اورچناب وادی کے مسلمانوں کی اکا دکا آوازیں سنائی دیتی ہیں۔گوکہ ان کے دل کشمیریوں کی آواز کے ساتھ دھٹرکتے ہیں لیکن ہندوستانی فوج کے غلبے اوران کے زیر سرپرستی (VDC)Village Defence Committesکے مسلحہ جھتوں کے ہوتے ہوئے کشمیر جیسی تحریک چلانا ان کی جان کی قیمت پر ہی ہو سکتا ہے۔اس لئے وہاں خواہش ہے،تحریک نہیں۔بدقسمتی سے کشمیر ی اور غیر کشمیری،گوجر اورپہاڑی کی تفریق کی دراڑیں ڈالی اور بڑھائی جاری ہیں لیکن یہ مفادات کے سمیٹنے کی حد تک ہیں،ہندوستان کے خلاف جذبات میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔نہ تو ہندوستان ان پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی ان لوگوں کا ہندوستان پر اعتماد ہے۔

گذشتہ سال ہڑتالوں اور کرفیو نے سیاحت، میوہ جات اور فصل کے موسم میں لوگوں کا اربوں کا نقصان ہوا۔ہٹرتال کی کال،ٹورسٹ اورفصل پکائی کے موسم میں دینی بھی نہیں چاھئے جس سے لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔کشمیری قیادت کو اس کا ادراک ہونا چاھئے۔ٹوراز م سے وابسطہ لوگوں کا بہت نقصان ہو رہا ہے،اب لوگ لداخ اور گوا وغیرہ کا رخ کر رہے ہیں۔ عالی شان مکانات ،گاڑیوں کی بھرمار اور شادی بیاہ میں بے تحاشا اخراجات سے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں آزادی کی تحریک چل رہی ہے، عوام اور فوج برسرپیکار ہیں۔بارہمولہ سے شوپیاتک قصبے اورشہر عالی شان مکانیت سے جڑ گئے ہیں جو خوشحالی کی علامت ہے۔عام مزدوری،کشمیریوں نے ہندوستان سے آئے ہوئے بہاریوں کے سپر کردی ہے۔مستری ،مزدور،ترکھان ،فصل کٹائی،ڈھلائی،حکومت اور پنچائیتوں کے زہر اھتمام ترقیاتی کام بہاری لوگ کرتے ہیں۔ان کی اکژیت مسلمان ہے اس لئے کشمیری اپنے گھروں میں ملازم بھی انہیں ہی رکھتے ہیں۔یہ کام بھی کشمیری کو اپنے ہاتھ میں لینا پڑے گاورنہ آبادی کے تناسب کو یہ بھی متاثر کرے گا۔

عرصہ قیام کے دوران مجھے چنددلچسپ واقعات زندگی بھر یاد رہیں گئے۔ایک تو پونچھ بار ایسوسی سئیشن میں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے میرے ہم عمر ایک وکیل نے مجھے پوچھا کہ علی گڑھ میں زیر تعلیم ایک کلاس فیلو پاکستان چلا گیا تھا جس کا نام جیلانی تھا اس کا کوئی اتا پتا چل سکتا ہے۔جب میں نے اس سے پوچھا کہ کس سال کا واقعہ ہے اس نے کہا1970اور وہ سرسید ہاسٹل میں رہتا تھا۔میر ے تحت شعور میں اچانک خیال آیا کہ یہ شخض بخشی تو نہیں ؟میں نے اس سے پوچھا آپ آفتاب ہال میں رہتے تھے؟میں نے دوسرا سوال پوچھا آپ کا نام بخشی تو نہیں؟اس پر وہ میرے گلے لگا،ماحول جذباتی ہو گیا۔ تالیوں اور نعروں کی گونجھ میں پورا بارروم اور ملحقہ بازار جشن میں بدل گیا۔ہندوستانی اخباروں اور الیکڑانک میڈیا نے اس واقعہ کو بھر پور رپورٹ کیا اور ایک افسانوی اوردیومالائی کہانی کے طور پر پیش کیاگیا کہ 47سال پہلے کے کلاس فیلو ڈرامائی انداز میں ملے۔

1976میں آزادکشمیر میں آباد ہونے کے بعد میں نے پہلی بار بقر عید اپنے گاؤں اور اپنے مکان میں منائی ۔قربانی کے گوشت کے تین مسنوں حصوں’’اقربا،غربا اور اپنے آپ کے لئے‘‘کو میں نے اپنی تشریح وتعبیر کر کے سب کو ایک ساتھ پلاؤ کی دیگ پکا کر خود ، اپنے رشتہ داروں ،محلے والوں اور راہ گیروں کے ساتھ مل کر کھایا‘‘یہ میری اور میرے اہل محلہ اور رشتہ داروں کی عید یعنی’’خوشی‘‘ کی انتہاتھی۔دوسرا اہم واقعہ تین عزیزوں کی شادیوں میں بے شمار واقف،ناواقف اور بھولے بسرے لوگوں سے ملاقات کا موقعہ اور وہاں کےسیاسی،سماجی،اقتصادی حالات اور لوگوں کے جذبات خواہشات اور زمینی حقائق سے آگاہی ہوئی۔

تیسرا اہم ترین واقعہ مغل روڈ کے ذریعہ سرینگر،بڈگام ،پلوامہ ،شوپیاں،پیرکی گل،بفلیاز سے ہوتے ہوئے پونچھ اور راجوری شہر جانا تھا۔پیر کی گلی کی اونچائی11,500فٹ ہے جہاں سے یہ سٹرک گذرتی ہے۔اسی سٹرک کی وجہ سے سرینگر سے پونچھ کا فاصلہ 588کلومیڑ سے کم ہو کر126کلو میٹراور25گھنٹے کا سفر کم ہو کر6گھنٹے رہ گیا ہے اور سرینگر سے راجوری کا فاصلہ کم ہو کر91کلومیڑ رہ گیا ہے۔مغل روڈ اس راستے کو کہتے ہیں جو،شہنشاہ اکبر نے کشمیر فتح کرنے کے لئے دریافت کیا تھا راستے میں اب بھی مغل سرائے کے نشانات موجود ہیں۔فاروق عبداللہ ،مفتی محمد سعید مرحوم کی کشمیری مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑا تحفہ ہے کہ وادی پیر پنجال کے مسلمانوں کو انہوں نے وادی کے مسلمانوں تک پہنچنے کا مختصر ترین راستہ فراہم کیا۔ایسا ہی مختصر راستہ وادی چناب کے لوگوں لئے ککڑ ناگ اور سمتھن پاس سے ہوتے ہوئے ڈوڈہ،بھدرواہ اور کشتواڑ کے مسلمانوں کو وادی کے مسلمانوں کے لئے فراہم کیا ہے۔اس سے ان علاقوں کا جموں سے الگ اور وادی کشمیر سے پیوست ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔میں مستقبل میں کشمیر کا حل ان ہی خطوط پر دیکھ رہا ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے