کردار کی سیاست

سیاست بنیادی طور پر معاشرے کی فلاح، نظریات کی جنگ اور عوامی خدمت کا دوسرا نام ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی کرسیاں فانی ہیں اور عہدے عارضی ہوتے ہیں۔ ایوانوں کی چمک دمک اور اقتدار کا ہما ہر دور میں مختلف سروں پر بیٹھتا رہا ہے، لیکن جو چیز کسی سیاستدان کو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رکھتی ہے، وہ اس کا سیاسی کردار، وقار اور عوام کا لازوال اعتماد ہے۔

بدقسمتی سے معاصر سیاست میں اخلاقی اقدار، شائستگی اور باہمی احترام کا عنصر تیزی سے ناپید ہو رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کو دشمن تصور کرنے کی روش نے جمہوری روایات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے سنگین اور تاریک حالات میں پنجاب کی سر زمین پر کچھ ایسے چراغ بھی روشن ہیں جو تیز آندھیوں کے باوجود اپنے مروجہ اصولوں، شائستگی اور برداشت پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ انھی چند نمایاں اور معتبر ناموں میں سے ایک نام ملک محمد احمد خان کا ہے۔

ملک محمد احمد خان کا تعلق پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی شہر قصور سے ہے، جو بابا بلھے شاہ جیسے صوفی بزرگ کی تمدنی روایات کا امین ہے۔ اس زرخیز مٹی نے ہمیشہ ایسے دماغ پیدا کیے ہیں جنھوں نے معاشرے کو جوڑنے کا کام کیا۔ ملک محمد احمد خان نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز اسی مٹی سے کیا اور نہایت مختصر عرصے میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کا تعلق ایک ایسے معزز خاندان سے ہے جس کی جڑیں عوامی خدمت میں پیوست ہیں۔

وہ محض روایتی سیاست کے دھارے میں بہنے والے رہنما نہیں ہیں، بلکہ انھوں نے سیاست کو ایک علم، ایک فن اور ایک سماجی ذمہ داری کے طور پر اپنایا ہے۔ ان کی آواز میں دلیل کی کاٹ، لہجے میں شائستگی کا رس اور طرزِ سیاست میں برداشت کی گہرائی ان کو اپنے ہم عصروں سے یکسر ممتاز کرتی ہے۔

کسی بھی جمہوریت کی خوبصورتی اس کے پارلیمانی ایوانوں کی کارکردگی اور وہاں ہونے والی بحث و تکرار سے ظاہر ہوتی ہے۔ ملک محمد احمد خان جب پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کا اندازِ گفتگو کسی عام سیاستدان جیسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ماہرِ قانون اور دور اندیش دانشور کی طرح بات کرتے ہیں۔

ان کی ہر بات کا محور آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ اسمبلی کا ایوان ذاتی حملوں اور الزام تراشی کی آماجگاہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے عوامی مسائل کے ٹھوس حل اور تعمیری قانون سازی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کی قانون دانی اور آئینی باریکیوں پر گہری گرفت کا اعتراف خود ان کے سخت ترین سیاسی مخالفین بھی کھلے دل سے کرتے ہیں۔

آج کا دور سیاسی ہیجانیت اور عدم برداشت کا دور بن چکا ہے، جہاں اختلافِ رائے کو غداری اور ذاتی دشمنی پر محمول کیا جاتا ہے۔ ٹی وی ٹاک شوز سے لے کر عوامی جلسوں تک، زبان کی کاٹ اور تلخی عروج پر ہے۔ ایسے دم گھٹتے ہوئے ماحول میں ملک محمد احمد خان کا وجود ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوتا ہے۔

وہ شدید ترین تنقید اور سیاسی ہنگاموں کے دوران بھی اپنے چہرے کی مسکراہٹ اور لہجے کا دھیما پن نہیں کھوتے۔ ان کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ سیاست میں اصل طاقت چیخنے چلانے یا بدزبانی میں نہیں، بلکہ اپنے مؤقف کو مضبوط دلائل اور پروقار انداز میں پیش کرنے میں پوشیدہ ہے۔ وہ سیاسی مخالفت کو ذاتیات پر لانے کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کا کارکن اور رہنما ان کی عزت کرتا ہے۔

جب ملک محمد احمد خان کو پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کا منصب سونپا گیا، تو یہ ان کی سیاسی زندگی کا ایک بڑا امتحان تھا، کیونکہ ایوان میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان خلیج بہت گہری تھی۔ لیکن انھوں نے اس معزز اور غیر جانبدار کرسی کا وقار برقرار رکھتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو جس تدبر اور حکمتِ عملی سے چلایا، وہ پارلیمانی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ انھوں نے حکومتی بنچوں کو جہاں نظم و ضبط کا پابند بنایا، وہاں اپوزیشن کو بھی بھرپور وقت اور احترام دیا تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رہ سکے۔ ان کی صدارت میں ہونے والے اجلاسوں میں شور شرابے کے باوجود ہمیشہ مکالمے کا راستہ کھلا رہا، جو ایک سچے جمہوری رہنما کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

ملک محمد احمد خان محض ایک فرد یا ایک حلقے کے نمائندے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ اس دور میں ایک سیاسی مکتبِ فکر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا طرزِ عمل نوجوان نسل کے لیے، جو سیاست میں قدم رکھ رہی ہے، ایک بہترین عملی نمونہ ہے۔ وہ اپنی ذات سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ سیاست کا اصل مقصد معاشرے میں انتشار پھیلانا یا مخالف کو صفحہ ہستی سے مٹانا نہیں، بلکہ معاشرے کو جوڑنا، لوگوں کو امید دینا اور پائیدار ترقی کے راستے تلاش کرنا ہے۔

قصور کی گلیوں سے لے کر لاہور کے ایوانِ اقتدار تک، ان کی شناخت ان کے عہدے سے کہیں بڑھ کر ان کے اعلیٰ کردار، شاندار اقدار اور بے داغ سیاسی وقار کی بدولت ہے۔ آنے والے وقتوں میں جب بھی پنجاب کی پارلیمانی تاریخ لکھی جائے گی، ملک محمد احمد خان کا نام شائستگی، تدبر اور برداشت کے ایک روشن استعارے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے