یادِ حسینؑ: گیارہویں محرم اور اس کے بعد

آج میں نے اس قسط کا عنوان اسفارِ حسینؑ نہیں رکھا کیونکہ آج کا مضمون گیارہویں محرم اور اس کے بعد کے واقعات کی روداد ہے، اور جن واقعات کا ذکر کرنا ہے وہ میرے قلم اور میرے دل کی برداشت سے باہر ہیں۔ اسفارِ حسینؑ لکھنے کی ہمت نہیں ہوتی جب تک خود کو سنبھال نہ لوں۔

اسفارِ حسینؑ: قسط نمبر ۶

مجھے یقین ہے اور یہ یقین ایمان کا حصہ ہے کہ حسینؑ کا نام قیامت کے بعد بھی چمکتا دمکتا رہے گا۔ کیونکہ وہ جنت کے سردار ہیں اور جنت میں انبیاء سمیت سب جوان ہوں گے۔ کاش ہمیں حسینؑ کی عظمت کا اندازہ ہو جائے، کاش ہم سمجھ جائیں کہ تاریخِ انسانیت میں ان کا کتنا بڑا رتبہ ہے اور اللہ کے نزدیک کتنا عظیم مقام ہے۔

حضرت امام حسینؑ جب شہید ہوئے تو احادیث میں آتا ہے کہ نبیِ کریم ﷺ یومِ عاشورا کے اس تمام واقعے سے بے خبر نہیں تھے۔¹

سفارِ حسین: قسط نمبر ۵

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: "میں دوپہر کے وقت، گرمی کے موسم میں، سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں اللہ کے رسول ﷺ کو دیکھا۔ آپ ﷺ کھڑے تھے، آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرہ و جسم غبار آلود تھا، جیسے کوئی انسان تھکا ہارا سفر سے آیا ہو۔ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی جس میں کوئی چیز بھری ہوئی تھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ کیا چیز ہے؟ حضور نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا: یہ حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج صبح سے کربلا کے میدان سے جمع کر رہا ہوں۔”

اسفارِ حسین ؛ قسط نمبر 4

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں اس خواب کی وجہ سے بہت گھبرا کر اٹھا۔ میں نے اس دن اور اس وقت کو لکھ کر یاد رکھ لیا۔ بعد میں جب مدینہ منورہ میں کربلا کے واقعے کی خبر پہنچی تو حساب لگانے پر پتہ چلا کہ امام حسینؑ ٹھیک اسی دن اور اسی وقت شہید کیے گئے تھے جب میں نے حضور ﷺ کو خواب میں خون جمع کرتے دیکھا تھا۔

جیسا کہ پچھلی قسط میں ذکر ہوا تھا، بات عاشورا کے دن ختم نہیں ہوئی تھی۔ دنیا کربلا کے واقعے کے بعد بدل گئی تھی۔

اسفارِ حسینؑ: حق کے مسافر کا شاہراہِ عام پر سفر (قسط نمبر ۳)

حسین ابنِ علیؑ جیسی شخصیت کا اس دنیا سے جانا، اصل میں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھا۔ کب آئے گی، یہ تو اللہ جانتا ہے، مگر حسین ابنِ علیؑ نے یزید کی بیعت سے انکار یوں ہی نہیں کیا تھا۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ جب مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ نے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو حضرت امام حسینؑ نے اسے قبول نہ کیا۔ متعدد مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ یزید کے کردار، طرزِ زندگی اور طرزِ حکومت پر سنگین اعتراضات موجود تھے، اور امام حسینؑ اسے امتِ مسلمہ کی قیادت کے منصب کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔²

یزید کا طرزِ عمل جب لوگوں پر عیاں ہوا اور غمِ حسینؑ کی خبر جب دنیا کے کناروں تک پہنچی تو یزید نے مدینہ میں احتجاج کرنے والوں پر حملہ کر دیا۔³ روایت میں آتا ہے کہ اس کی افواج نے مسجدِ نبویؐ کی حرمت پامال کی اور واقعۂ حرہ تاریخِ اسلام کے المناک ترین واقعات میں شمار ہوا۔

اسفارِ حسینؑ: تاریخ جس کی ہم سفر ہے (قسطِ دوم)

پھر مکہ مکرمہ اور کعبۃ اللہ پر حملہ آور ہوئے۔⁴ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اقتدار باقی نہ رہ سکا، مگر کربلا کی یاد اور حسینؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔

اسفارِ حسین علیہ السلام قسط : 1

میں پھر معذرت خواہ ہوں حضرت زینبؓ سلام اللہ علیہا اور شہدائے کربلا کے اجسامِ مبارک کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، وہ میرے قلم اور میرے دل کی برداشت سے باہر ہے۔ مگر اللہ پاک نے غمِ حسینؑ کو زبانِ عام کرنا تھا، اور وہ ہو کر رہا۔ آج دنیا بھر میں لوگ شہادتِ حسینؑ کو یاد کرتے ہیں اور اس سے سبق حاصل کرتے ہیں۔

حسینؑ کا نام مٹانے کے لیے بنا ہی نہیں، تو کربلا کی جنگ اور کردار سے گرے ہوئے لوگ کیا مٹائیں گے؟

ہاں، البتہ یزیدی سوچ آج بھی جگہ جگہ پروان چڑھتی ہے، مگر اسفارِ حسینؑ کے رحیم ہر وقت اس کا مقابلہ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر سرخرو ہمیشہ حق ہی ہوتا ہے۔

کربلا کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ حق کی خاطر کھڑے ہونے والوں کی تعداد نہیں دیکھی جاتی، ان کی نیت اور استقامت دیکھی جاتی ہے۔ حسینؑ نے ہمیں سکھایا کہ بعض اوقات ایک انسان کا موقف صدیوں کی تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے، اور بعض اوقات خاموشی سے بڑا گناہ کوئی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک جنگ نہیں، بلکہ حق، انصاف، اصول اور انسانی وقار کا دائمی استعارہ بن چکی ہے۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو مختار ثقفی نے حسینؑ کے خلاف جرم میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا تھا۔⁵ جو باقی ماندہ رہ گئے تھے، انہیں رب العزت نے کسی اور ترتیب سے نشانۂ عبرت بنایا۔ حکومت کا خاتمہ بھی جلد ہو گیا اور عباسی حکومت قائم ہوئی۔

اللہ نے اہلِ بیتؑ کے باقی خاندان سے پھر سعادت کا ایک سلسلہ جاری فرمایا اور آنے والے ائمہؑ نے حسینؑ کا درس اور کربلا سے حاصل ہونے والا سبق رہتی دنیا تک پہنچانے کا عملی اور علمی ثبوت دیا۔⁶

حسین ابنِ علیؑ کا دیا تا قیامت روشن رہے گا، کبھی بجھ نہیں سکتا کیونکہ اس چراغ کو روشن رکھا جاتا ہے خون سے، نہ کہ تیل سے۔

واقعۂ کربلا کو صرف مسلمانوں نے نہیں، بلکہ غیر مسلم مغربی مؤرخین اور علماء نے بھی گہری نظر سے دیکھا اور اس کی عالمگیر اہمیت کا اعتراف کیا۔ انگریز مؤرخ ایڈورڈ گبن، جو مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے تھے، اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف میں لکھتے ہیں کہ دور دراز زمانے اور خطے میں بھی حسینؑ کے المناک واقعۂ شہادت کا منظر سرد سے سرد دل قاری کو بھی ہلا کر رکھ دے گا۔ اسی طرح کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈورڈ جی براؤن نے لکھا کہ کربلا کے خون آلود میدان کی یاد — جہاں رسولؐ کا نواسہ تشنگی کی اذیت میں اپنے شہید عزیزوں کے درمیان گرا — آج بھی سرد دل میں گہری تڑپ، شدید حزن، اور ایسی روحانی بلندی پیدا کر دیتی ہے جس کے سامنے درد، خطر اور موت سب ہیچ ہو جاتے ہیں۔
اسکاٹ لینڈ کے معروف مستشرق اور سیاستدان سر ولیم میور نے اپنی تحقیق میں قلمبند کیا کہ کربلا کے سانحے نے نہ صرف خلافت کے مستقبل کا فیصلہ کیا بلکہ خلافت کے زوال کے طویل عرصے بعد بھی اسلامی سلطنتوں کو متاثر کرتا رہا۔ ہنگری کے یہودی مستشرق اگناز گولڈزیہر نے مشاہدہ کیا کہ اہلِ بیتؑ پر ہونے والے مظالم پر گریہ و سوگ ان کے وفاداروں کا طریقہ بن گیا اور عربی میں یہ ضرب المثل مشہور ہو گئی کہ شیعوں کے آنسوؤں سے زیادہ دل کو چھونے والی کوئی چیز نہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسرِ عربی سائمن اوکلے نے امام حسینؑ کے وہ الفاظ تاریخ میں محفوظ کیے جو آپؑ نے میدانِ کربلا میں ارشاد فرمائے کہ میں نے سچ کے سوا کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ہر اس ظالم سے جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا، خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ تمام گواہیاں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ کربلا کوئی فرقہ وارانہ واقعہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی آواز ہے جو ہر زبان اور ہر مذہب کے باضمیر انسانوں تک پہنچی۔

اگرچہ میں نے خط و کتابت کا سلسلہ اپنے اسفار اور تجربات کے لیے شروع کیا تھا، مگر اپنے قلم پر فخر ہوتا ہے کہ اس علی شان رب نے حسینؑ کے بارے میں لکھنے کی توفیق دی۔

میں اپنے اسفارِ حسینؑ کی یہ اقساط یہاں اس لیے تمام کر رہا ہوں کہ میرے اسفارِ حسینؑ میں اگر حسینؑ کا سفر نہ ہو تو وہ اسفار ہی نہیں۔ اور جن واقعات کا ذکر آج درکار تھا، انہیں قلم کی جگہ صرف دل بیان کر سکتا ہے اور وہ بھی اشک بن کر۔

میں نے سرِ مبارکِ حسینؑ کی زیارت محض زیارت کے طور پر نہیں بلکہ عشق و عقیدت کے ساتھ مسجدِ حسین، قاہرہ میں کی ہے، اور شہدائے کربلا کے ساتھ کربلا اور بغداد میں بھی وقت گزرا ہے۔ سچ پوچھیں تو زندگی کا سرمایہ یہی اوقات ہیں۔ باقی اسفار پر اللہ کا شکر، مگر حسین ابنِ علیؑ و فاطمہؓ کے ساتھ نسبت رکھنے والے مقامات پر گزرا وقت زندگی کے بیش قیمت لمحات میں سے ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ جب بھی بروزِ قیامت یا اس رہتی دنیا میں نام آئے تو حسینؑ کے ساتھ آئے، ان کے اسفار میں ذکرِ خیر ہو، قیامت کے دن بھی انہی کے پیچھے صفوں میں کھڑے ہوں، اور جب نبیِ کریم ﷺ سے ملاقات ہو تو ہم حسینؑ کے عاشقوں میں سے ہوں۔

اللہ سے دعا ہے کہ جو کچھ حسین ابنِ علیؑ کے بارے میں پڑھا اور لکھا ہے، اس پر عمل کی توفیق بھی عطا فرمائے اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی سعادت بھی نصیب فرمائے۔

میرا عشق، آپ فقط آپ سمجھتے ہو حسینؑ
ميری رگون میں، مېرے خون میں بہتے ہو حسینؑ

حواشی

مسند احمد بن حنبل، حدیثِ ابن عباسؓ؛ المستدرک للحاکم، باب مناقب الحسینؑ۔

² تاریخ الطبری، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)، الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر) — بیعتِ یزید کے موقع پر حضرت امام حسینؑ کے موقف اور انکارِ بیعت کے واقعات۔

³ واقعۂ حرہ: تاریخ الطبری، البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)۔

⁴مکہ مکرمہ کے محاصرے اور کعبۃ اللہ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں: تاریخ الطبری، الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر)۔

⁵ مختار ثقفی کی تحریک اور قاتلانِ حسینؑ کے خلاف کارروائیوں کے لیے: تاریخ الطبری، مروج الذہب (مسعودی)۔

⁶ ائمہ اہلِ بیتؑ کے علمی و اصلاحی کردار کے حوالے سے: سیر اعلام النبلاء (امام ذہبی)، الارشاد (شیخ مفید)۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے