آئیے آپ سے دو خبریں شیئر کرتے ہیں۔
پہلی خبر یہ ہے کہ حکومت نے قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے لیے ہوائی جہازوں اور بعض متعلقہ شعبوں پر سیلز ٹیکس میں رعایت یا استثنا دینے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ ایوی ایشن کے شعبے کو سہولت مل سکے۔ (حوالہ: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، بجٹ 2026-27 کی نمایاں خصوصیات)
دوسری خبر یہ ہے کہ بچوں کے استعمال کی عام تعلیمی اشیاء، جیسے پینسل، ربڑ، شارپنر اور دیگر اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس عائد یا اس کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ (حوالہ: ڈان، دی نیوز، بجٹ 2026-27 کی رپورٹیں)
اب ذرا ان دونوں خبروں کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیے۔
واقعی، ٹھیک ہی تو ہے۔ ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے، اپنے بچوں کو آخر کب پڑھانا ہے؟ اپنے بچوں کو تو ہم نے ٹک ٹاکر بنانا ہے، یوٹیوبر بنانا ہے، شہرت کی دوڑ میں دھکیلنا ہے۔ اپنے بچوں کو ہم نے علم کی نہیں، وائرل ہونے کی خواہش دینی ہے۔ ان کے ہاتھ میں کتاب نہیں، موبائل دینا ہے۔ ان کے ذہن میں تحقیق کا شوق نہیں بلکہ لائکس اور فالوورز کا جنون بھرنا ہے۔
یہ کیسا انتظام ہے؟ یہ کیسا قانون ہے؟
اگر آپ ٹیلی ویژن کی سکرین پر بیٹھ کر، یوٹیوب پر بیٹھ کر یا ریڈیو پر بیٹھ کر کسی سیاست دان کی سیاست پر تنقید کریں تو فوراً مختلف قوانین حرکت میں آ جاتے ہیں۔ مقدمات بن جاتے ہیں، نوٹس جاری ہو جاتے ہیں، پروگرام بند ہو جاتے ہیں۔
لیکن اگر اسی سکرین پر بیٹھ کر، یوٹیوب پر بیٹھ کر یا ریڈیو پر بیٹھ کر فحش گفتگو کی جائے، عورتوں کے جسمانی اعضاء کو موضوعِ بحث بنایا جائے، یہ بتایا جائے کہ کہاں، کب اور کس انداز میں ڈانس کرنا ہے اور اس کے کتنے پیسے لینے ہیں، یا میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کو تفصیل سے عوامی تفریح کا سامان بنایا جائے، تو سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے۔
آخر کیوں؟ کیا یہی ہماری ترجیحات ہیں؟
کیا معاشرے کی اخلاقی بنیادیں سیاست سے کم اہم ہیں؟ کیا بچوں کے ذہنوں کی حفاظت کسی قانون کی ترجیح نہیں؟ کیا نوجوان نسل کے اخلاق، کردار اور سوچ کی تباہی کسی ادارے کی ذمہ داری نہیں؟
اگر سیاست پر گفتگو کے لیے قوانین موجود ہیں تو فحاشی، عریانی اور اخلاقی آلودگی پھیلانے والوں کے لیے مؤثر قوانین کیوں نہیں؟ اگر ریاست کے ادارے سیاسی جملوں پر متحرک ہو سکتے ہیں تو وہ اس مواد پر خاموش کیوں رہتے ہیں جو ہر روز لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھول رہا ہے؟
ایک طرف تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے، دوسری طرف بے مقصد تفریح اور اخلاقی انحطاط سستا اور آسان ہوتا جا رہا ہے۔ شاید اسی لیے کتابوں سے زیادہ موبائل فروخت ہو رہے ہیں، اور لائبریریوں سے زیادہ ویڈیو پلیٹ فارم آباد ہیں۔
قومیں اپنے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے بچوں کے ہاتھ میں قلم دیتی ہیں، جبکہ ہم ان کے تعلیمی سامان پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں اور ان کی سوچ، کردار اور اخلاق کو تباہ کرنے والے مواد کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں۔ اگر یہی ترجیحات برقرار رہیں تو آنے والی نسل سے ایک بہتر قوم کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔