آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل انتقال کر گئے

سبوخ سید

اسلام آباد

۔ ۔ ۔ ۔

 

ghg

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کو ہفتے کی شام برین ہیمرج ہو گیا تھا ۔

انہیں بے ہوشی کی حالت میں فوری طور پر سی ایم ایچ مری میں داخل کیا گیا تھا تاہم ان کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی ۔

انہیں گذشتہ کچھ روز سے ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ مری گئے تھے جہاں ان کے دماغ شریان پھٹ گئی تھی  ۔

جنرل حمید گل کی عمر 80 برس سے زائد تھی  اور جنرل حمید گل 20 نومبر 1936 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے ۔

انہوں نے گورنمینٹ کالج یونی ورسٹی لاہور سے تعلیم حاصل کی ۔

حمید گل کے خاندان کا تعلق سوات سے تھا آپ معروف قبیلے یوسفزئی سے تعلق رکھتے تھے۔

آپ کے دادا فیض خان جمعیت المجاہدین کے رکن تھے،شاہ اسماعیل شہید جب سوات سے گزرے تو ان کے ساتھ مل گئے اور پھر شاہ اسماعیل کی شہادت کے بعد لاہور آگئے۔

کچھ سال بعد ان کے دادا کو سرگودھا میں زمین ملی اور وہاں آباد ہوگئے۔

جنرل حمید گل معروف ہائی رینکنگ پاکستانی فوجی آفیسر تھے۔ وہ ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی ملٹری  آپریشنز بھی رہے۔

آپ نے 1965 اور 1971 کی جنگیں  بھی لڑیں ۔1965 میں چونڈہ کے محاذ پر ٹینک کمانڈر تھے ۔

آپ 1972 سے لیکر 1976 تک بٹالین کمانڈر رہے

جنرل حمید گل کو 1978 میں برگیڈئر کے عہدے پر ترقی دی گئی

آپ کو1980 میں کور کمانڈر ملتان مقرر کیا گیا

جنرل حمید گل نے 1989 میں ضرب مومن مشقوں کا آغاز کیا

آپ کو اعلیٰ خدمات پرستارہ امتیاز،ستارہ  بسالت اور  ہلا ل امتیاز ملٹری عطا کیا گیا

جنرل ضیاالحق نے جنرل اختر عبدالرحمان کے بعد آپ کو ڈی جی آئی ایس آئی( بین الخدماتی مخابرات) کا سربراہ بھی مقرر کیا ۔

آپ 1957 سے 1992 تک پاک فوج میں رہے اور1992 میں جنرل آصف نواز سے اختلافات کی بنیاد پر فوج سے استعفیٰ دے دیا ۔

جنرل حمید گل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ  آئی جی آئی اور طالبان کے بانیوں میں سے تھے اور وہ اس کا کریڈٹ بھی لیتے تھے ۔

دو ہفتے قبل انہوں نے افغان طالبان کے درمیان ملا اختر منصور کے حوالے صلح کی بھی کوشش کی تھی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔

جنرل حمید گل کی وفات پر صدر ممنون حسین ، وزیر اعظم  نواز شریف ، صدر و وزیر اعظم آزاد کشمیر ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ،پاک فوج کےسربراہ جنرل راحیل شریف ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر،مولانا فضل الرحمان،مولانا سمیع الحق، مولانا محمد احمد لدھیانوی، علامہ طاہر القادری، جاوید ہاشمی ، قاری محمد حنیف جالندھری،مولانا سلیم اللہ خان، اعجاز الحق ،شیخ رشید احمد ، پروفیسر حافظ سعید احمد،سیینٹر ساجد میر ،ایڈ مرل افتخار احمد سروہی ،ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر ، سراج الحق ،منور حسن، پیر ناصر جمیل ہاشمی،میجر محمد عامر، راجا ظفر الحق،عبدالرافع ایڈوکیٹ سمیت کئی اہم مذہبی اور سیاسی شخصیات نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے