خواجہ اینڈ سن

میں ڈراما خواجہ اینڈ سن دیکھ رہا ہوں۔ کیا لاجواب اسکرپٹ ہے۔خوب صورت اداکاری ہے اور کیا خوب صورت ہدایت کاری ہے۔ بہترین مکالمے ہیں۔ منظر نگاری اس قدر دلچسپ ہے کہ مجال ہے جو پلک جھپک جائے۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں دیکھنے کے لیے نیٹ پر دنیا بھر کی فلمیں,ٹی وی ڈرامے , شوز اور ویب سیریز موجود ہیں۔ وہاں عطاء الحق قاسمی صاحب کے لکھے ہوئے ڈرامے خواجہ اینڈ سن کی بات ہی کچھ اور ہے۔

بھلا ہو نیٹ کا کہ یوٹیوب کی بدولت ہم آج بھی ایسےشاہ کار ڈرامے آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ ڈرامے میں جس طرح سے پرانے لاھور کو دکھایا گیا ہے۔ اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ کہانی ایک مشہور شاعر جواد اور اس کے ابا جی کے گرد اس طرح سے گھوم رہی ہے کہ مصنف نے دونوں کرداروں کے ذریعے معاشرے اور ادب کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔ باپ اور بیٹے کی کیمسٹری ان کی محبت اور عقیدت کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ مزاحیہ ڈراما ہوتے ہوئے بھی کئی جگہ آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آتے ہیں۔

ایک سین میں کچھ شاعر جواد کے پاس آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ ہمیں کسی بڑے مشاعرے میں کوئی نہیں بلاتا آپ مشہور شاعر ہیں ہماری سفارش کردیں۔

ان میں سے ایک شاعر زور دے کر دوسرے شاعر کے لیے کہتا ہے کہ جواد صاحب یہ بچپن سے شعر کہ رہے ہیں مگر ان کو کبھی بڑے مشاعرے میں موقع نہیں دیا گیا۔

ڈرامے میں ایسے ہی دلچسپ مکالمے آپ کو ہنسنے پر نہیں بلکہ قہقہ لگانے پر مجبور کردیں گے۔اگر آپ اتفاق سے شاعر ہیں تو آپ کو ڈراما دیکھ کر اور بھی مزا آئے گا۔ اگر آپ نے یہ کلاسک ڈراما نہیں دیکھا ہے تو ضرور دیکھیے۔ پریشان ہیں تو آپ اس ڈرامے کو دیکھ کر ڈپریشن جیسے مودی میرا مطلب ہے کہ موذی مرض سے جان چھڑا سکتے ہیں۔

ڈرامے کے ایک اور سین میں دو شاعر جواد کے فین دکھائے گئے ہیں۔ وہ جواد کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیں پہچانا ؟ جواد کہتا ہے نہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جنھوں نے ایک مشاعرے میں آپ کو بہت داد دی تھی۔

ڈرامے میں ابا جی کا اپنی چھڑی( Stick) سے جواد کی گردن کو پکڑنا اور جواد کا با ادب ہوکر اف تک نہ کہنا بھی باادب ہونے کا ایسا درس دیتا ہے جو اب ہمارے معاشرے میں ناپید ہوچکا ہے۔ آج اگر کوئی باپ یا استاد بچے کی گردن کو چھڑی(Stick) سے پکڑ لے تو وہ چیخ چیخ کر اس کا برا حال کردے گا۔

میں آپ کو ماضی میں لے جانا چاہتا ہوں۔ روزنامہ جنگ سن 2012 میں الحمرا آرٹس کونسل لاھور کی طرف سے شائع ہونے والا ایک اشتہار میری نظر سے گزرا۔ لکھا تھا کہ پاکستان بھر کے نوجوان شعراء اپنی چند غزلیں روانہ کریں میں نے بھی اپنی چند غزلیں روانہ کردیں۔ ان دنوں میں حیدرآباد میں رہا کرتا تھا۔ پھر ایک دن میرے فون کی گھنٹی بجی میں نے فون اٹھایا۔ الحمرا لاہور سے کال آئی تھی کہا گیا کہ الحمراء کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی صاحب بات کریں گے۔ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔دوسری طرف ایک گرج دار آواز تھی۔ عطاء صاحب نے مجھے مبارک باد تھی اور کہا کہ آپ مشاعرے کے لیے سلیکٹ ہوگئے ہیں۔

عطاء صاحب کی بدولت مجھے لاہور جانے کا موقع ملا۔ میں نے اس مشاعرے میں بحیثیت نوجوان شاعر شرکت کی جو 23 مارچ 2012 میں منعقد ہوا تھا۔ یہ میرے لیے ایک شاندار تجربہ رہا۔ اس تقریب میں محترم ظفر اقبال صاحب نے صدارت کی۔ مہمان خاص شہزاد احمد تھے۔ سلیم کوثر اور خورشید رضوی جیسی بڑی شخصیات اسٹیج پر موجود تھیں اور نظامت کے فرائض نیلام گھر والے طارق عزیز مرحوم نے انجام دیے تھے۔ مشاعرے سے پہلے ایک تقریب رکھی گئی تھی جس میں معروف نقاد سلیم اختر صاحب اور کالم نگار مختار مسعود سے بھی ملاقات ہوئی۔

میں نے اسی ٹور میں داتا دربار پر بھی حاضری دی۔ بعد ازاں میں نے ایک خط عطاء صاحب کو لکھا تھا اور نوجوانوں کے لیے آل پاکستان یوتھ مشاعرہ جو انھوں نے منعقد کروایا تھا۔ اس کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔الحمرا آرٹس کونسل والوں نے تمام نوجوان شعراء سے ان کا کلام کتابی شکل میں شامل کرنے کے لیے مانگا۔

میں نے بھی اپنا کلام بھیج دیا جو الحمرا نے کچھ ماہ بعد ہمیں کتابی شکل میں بھجوایا۔ اپنا کلام کتابی شکل میں دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ میں نے جب کتاب کے فلیپ پر اپنا لکھا ہوا دیکھا تو میں حیران رہ گیا ۔آج بھی وہ کتاب میرے پاس موجود ہے اور میں اس خط کو پڑھتا رہتا ہوں۔

پچھلے دنوں عطاء الحق قاسمی صاحب کو صدارتی تمغہ عطاء کیا گیا۔ جو ان کے بیٹے معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ صاحب نے وصول کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں صدارتی ایوارڈ لینے والوں پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔ لوگ ایک آدمی کی عمر بھر کی محنت, اس کا کام اور اس کے ٹیلینٹ کو نہیں دیکھتے۔

عطاء الحق قاسمی صاحب آپ کوصدارتی تمغے کی مبارکباد مگر یقین جانیے کہ آپ کو کسی ایوارڈ اور تمغے کی ضرورت نہیں ہے آپ لیونگ لیجینڈ ہیں۔آپ سے جلنے والوں کے لیے آپ کا خواجہ اینڈ سن ہی کافی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے