داعش کے خلاف بننے والے اتحاد میں ترکی کی شمولیت، کیا اردگان ترکی کے مستقبل کو محفوظ رکھ پائیں گے؟

انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق اردگان کن کی اے کے پارٹی پچاس فیصدسے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

وہ شخص جسے ترکی کا آخری آمر کہاجارہاتھاایک مرتبہ پھر اپنی حکومت بنانے جارہا ہے۔اردگان کے چاربچے ہیں اور اے کے پارٹی کو وہ اپنی پانچویں اولاد کہتا ہے۔اس کی پانچوں اولاد کی جیت جہاں اردگان کو بے پناہ اعتماد اورمزید طاقت فراہم کرے گی وہاں اس بار اس کے لئے سخت آزمائش کا باعث بھی بنے گی۔

کیونکہ اس وقت ترکی کو سب سے بڑا مسئلہ امن وامان کا درپیش ہے۔ترکی ہمیشہ بشاراسد پر تنقید تو کرتا آیا ہے لیکن اس نے اب تک عملی طورپر بشار کے خلاف کسی کاروائی میں حصہ نہیں لیاتھااور نہ داعش کے خلاف کوئی قابل ذکراقدام کیا تھا جس کی وجہ سے عام رائے یہ تھی کہ داعش کے پیچھے ترکی کا ہاتھ ہے۔

مگر چند دن قبل امریکہ نے داعش کے خلاف بننے والے اتحاد میں ترکی کو شامل ہونے پر مجبور کردیا ہے ۔اس کے ردعمل میں داعش نے ایک ویڈیوپیغام میں اردگان کو خائن قرار دیا ہے۔کچھ عرصہ قبل شام میں ترکی کے سفارت خانے کے چھیالیس افراد کو داعش نے یرغمال بنا لیا تھا۔

داعش نے وہ افراد اس شرط پر رہا کئے تھے کہ ترکی امریکی اتحاد میں شامل نہیں ہوگا۔مگر عالمی دباؤ کے تحت ترکی کو داعش کے خلاف میدان میں آنا پڑا اور یہ ترکی کی اپنی مجبوری بھی ہے,شام میں جاری جنگ کے الاؤ نے اس کے امن کو خطرے میں ڈال دیاتھا۔

لہذا اردگان نے اس شرط پر داعش کے خلاف زمینی اور ہوائی کاروائی کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ اس کے بعد بشاراسد کی حکومت کو بھی ختم کیا جائے گا۔

گویا اردگان نے بشار اور اردگان دونوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے ۔اور اس کا واضح مطلب روس اور ایران کی دشمنی بھی مول لینا ہے۔
دوہزار گیارہ میں جب قذافی کے خلاف فوجی اتحاد قائم ہوا تو ترکی نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا مگر یہ چونکہ نیٹو کا رکن ہے تو اسے اس وقت بھی اتحاد کا حصہ بننے پر مجبور کردیا گیا۔سو ترکی شامل ہوا۔ قذافی مارا گیا ۔لیبیا میں بدامنی کا سیلاب اُمڈ پڑاجو کہ آج تک نہیں تھم سکا۔

امریکہ لیبیا سے چلاگیا۔ترکی بھی واپس آگیا ۔آج جو کچھ بھی وہاں ہو رہا ہے اس کی پروا نہ امریکہ کو ہے اور نہ ترکی کو کوئی نقصان پہنچا ہے کیونکہ لیبیا ترکی سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے۔

سوال یہ ہے کہ شام اور عراق امریکہ سے تو ہزاروں کلومیٹر دور ہوسکتے ہیں مگر ترکی سے تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔کیا اردگان ترکی کے مستقبل کو محفوظ رکھ پائیں گے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے