بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ افراد کو نکالنے کافیصلہ

حکومت نے 8 لاکھ سے زائد غیر مستحق افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا، غربت کے خاتمے کیلئے قائم ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی تھی۔

غریبوں کی امداد کیلئے قائم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا پیسہ امیروں کی جیب میں جارہا ہے۔ یہ انکشاف غربت کے خاتمے کیلئے قائم ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو بھیجی گئی اپنی سمری میں کیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 8 لاکھ 20 ہزار 165 غیرمستحق افراد کے نام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل ہیں، کابینہ نے نادار اور مستحق افراد کی حق تلفی کرنے والوں کو پروگرام سے نکالنے کی منظوری دے دی۔

سمری کے مطابق انکم سپورٹ پروگرام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں میں سرکاری ملازمین اور 12 ایکڑ سے زائد زرعی زمین رکھنے والے مالکان بھی شامل ہیں جبکہ ایک یا زائد گاڑیاں اور موٹرسائیکل رکھنے والے 44 ہزار افراد بھی پروگرام سے رقم وصول کررہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 5 لاکھ سے زائد افراد ایک یا زائد مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکے، 36 ہزار نے ایگزیکٹو فیس دے کر شناختی کارڈ بنوائے، ماہانہ ایک ہزار روپے یا زائد کا موبائل فون بیلنس استعمال کرنے والے 30 ہزار افراد بھی غریبوں کیلئے مختص رقم سے حصہ وصول کررہے ہیں۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ یہ تمام تفصیلات نادرا کی جائزہ رپورٹ میں سامنے آئیں، پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں شروع کئے گئے اس پروگرام سے مجموعی طور پر 51 لاکھ افراد مستفید ہورہے ہیں، مسلم لیگ ن نے بھی اپنے دور حکومت میں اس پروگرام کو جاری رکھا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے