ہر طرف گلی کوچوں میں اک خوف اور اضطرابی کیفیت ہے لوگ پریشان ہیں اور پوری دنیا اس وقت گھروں میں دبکی بیٹھی ہے مگر ہم اور ہمارا ہجوم مجال ہے جو اس سب سے سبق لیں؟ ہم تو بہادر ہیں موت جب آئے گی تب آئے گی دیکھا جائے گا کہنے والے لوگوں کو بھلا کورونا کیوں متاثر کرے گا؟ میں نے ہمیشہ اس بات کو لکھا کہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں جس کی مثالیں حالیہ دنوں میں ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں وہ ایسے کہ کورونا سے بچاو کی احتیاطی تدابیر کے طور پر ماسکس استعمال کرنا لازمی ہے مگر ہمارے ہاں ماسکس نایاب ہیں اگر ہے بھی تو چند روپوں میں ماضی میں ملنے والا ماسک سیکنڑوں روپے تک پہنچ گیا ہے، سینی ٹائزرز ناپید ہیں گراں فروشی عروج پہ ہے.
ایسا بہادر اور سمجھدار ہجوم ہیں ہم کہ معاملے کی نزاکت کو سمجھ کر ثواب دارین کی خاطر ذخیرہ اندوزی کو اولین فرض سمجھ کر جیبیں اور پیٹ بھرنے کی تیاریاں اول سے ہی شروع کر دی جاتی ہیں . معاون خصوصی صحت پر دو کروڑ ماسکس سمگل کرنے کی تحقیقات ایف آئی اے کر رہا ہے، پھر شہباز گل وضاحتیں دیتا ہے کہ ہم نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ماسک چائنہ کو عطیہ کئے ہیں جبکہ یہاں پنڈی میں موجود چینی باشندوں سے ذخیرہ کی گئی ماسکس کی ایک بڑی کھیپ پولیس نے پکڑ لی.
پھر آجائیں احتیاطی تدابیر ہجوم مت بنائیں وغیرہ وغیرہ پہ یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم تو پہلے سے ہجوم ہیں ہم کیسے بچ پائیں گے؟؟؟ حکومت اپوزیشن وغیرہ تو آپس میں لڑ مر رہے ہیں. ایک دوسرے کے اقدامات پر سوال و جواب کر رہے ہیں کہ ہاں بھئی تم بتاو تم نے کیا کر رکھا ہے اب تک ، زبانی جمع خرچ سے وباؤں سے نہیں لڑا جاتا عوامی نمائندوں کو کون سمجھائے؟ وزیر اعظم عمران خان اب تک کی صورتحال میں تو صرف جاگدے رہنا ساڈے تے نہ رہنا کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں دوسری جانب مصاحبین شاہ ٹویٹوں پہ ٹویٹ داغ رہے ہیں کہ سندھ حکومت فلاں کام کی صفائی دے ، ن لیگ والے فارن فنڈنگ کیس کو کیوں چھیڑ رہے ہیں انکی اپنی قیادت باہر بیٹھی ہے .
فیاض الحسن چوہان نے معذور بچوں کو عذاب قرار دے دیا ، ٹیسٹنگ کٹس کی عدم فراہمی پر ڈاکٹر احتجاج کر رہے ہیں ملک میں عجب لپاڈگی چل رہی ہے مطلب چیزیں سمجھ سے باہر ہیں . وزیر اعظم کے بیانات جس میں وہ سے قرضہ معاف کرنے کی اپیلیں کر رہے ہیں کاسہ لیس عالم پناہ قوم سے خطاب میں کہہ گئے کہ اس وائرس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ تیزی سے پھیلتا ہے اس وائرس کی تباہ کاریاں سب جانتے ہیں . ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت اس ضمن میں کیا کر پائی ہے ڈی جی خان میں وسیم اکرم پلس کی جانب سے بنائے گئے قرنطینہ میں بچاو کی بجائے پھیلاو کی تیاریاں زیادہ نظر آتی ہیں.
تفتان بارڈر پر زائرین کو مس ہینڈل کیا گیا جس کا نتیجہ اب پورے ملک میں مریض سامنے آ رہے ہیں اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس اتنی سہولیات اور وسائل ہیں کہ ہم اس آفت سے نمٹ سکیں؟؟؟ دوسری جانب عوام الناس کی بات کی جائے تو عبرت پکڑنے سے زیادہ کسی بھی ایشو پر جگتیں بنانا ہمارا قومی مشغلہ ہے اجتماعات پر پابندی کے باوجود شادی کی تقریبات جاری ہیں سکول بند ہیں مگر شاپنگ ہالز میں رش بے پناہ ہے .حکومت کی طرح عوام بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اگر خدانخواستہ یہ آفت جڑ پکڑتی ہے تو ہم اس سے کیسے نمٹیں گے یا ہمارے پاس اتنا راشن موجود ہو گا کہ شہریوں کو گھروں میں فراہم کر سکیں؟؟
وزیر اعظم بجائے عوام کو یہ بتانے کہ ہم نے اب تک اس پہ کیا تجربہ کیا ہے علاج کا طریقہ کار کیا ہو گا اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں ، اس بات پہ ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہمارے پاس اس سے لڑنے کی طاقت اور وسائل نہیں ہیں
ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر وزرا بار بار بیانات میں یہ بات بتا چکے ہیں کہ ٹریول ہسٹری نہ رکھنے والے افراد ٹیسٹ وغیرہ نہ کروائیں یا ایسے افراد کو ٹریٹ نہیں کیا جائے گا ، ٹیسٹنگ کا عمل اس قدر سست ہے کہ ایک دن میں پورے ملک سے صرف پچاس ٹیسٹ ہی کئے جا سکتے ہیں
اکثر کیا بے شمار شہروں میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات ہی میسر نہیں ہیں دسمبر 2019 میں اس مسلے نے سر اٹھانا شروع کیا تو وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج کہتی سنائی دی گئی کہ تیاری مکمل ہے عوام گھبرائے نہ
اب صورتحال جب بگڑ رہی ہے تو گذارش ہے ذرہ سا گھبرا لیں؟؟؟ وزرا کے اوٹ پٹانگ بیانات اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ پہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کے پاس دماغ کے کیڑے مارنے والا سینیٹائزر موجود ہے؟؟؟؟؟؟؟ اشد ضرورت ہے حکومتی فوج کو