سوشل میڈیا: ایک جدید سہولت یا سنگین سماجی برائی؟

عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ معلومات کی فوری ترسیل، رابطوں میں آسانی اور اظہارِ رائے کی آزادی نے سوشل میڈیا کو جدید دور کی ایک بڑی سہولت بنا دیا ہے، مگر بدقسمتی سے اس کے منفی اثرات بھی معاشرے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

آج سوشل میڈیا صرف تفریح یا رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ معاشرتی رویّوں، اخلاقیات اور انسانی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ جعلی خبریں، نفرت انگیز مواد، کردار کشی، بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ بغیر تصدیق کے معلومات چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں جس سے غلط فہمیاں، بے چینی اور سماجی انتشار جنم لیتا ہے اور بعض اوقات یہی ڈیجیٹل تنازعات حقیقی زندگی میں سنگین نتائج کا باعث بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سوشل میڈیا سے جڑے کئی افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس کے خطرناک پہلو کو مزید واضح کیا ہے۔ مختلف شہروں میں ٹک ٹاک یا فیس بک پر بنائی گئی ویڈیوز اور پوسٹس کی بنیاد پر نوجوانوں کے درمیان جھگڑے شدت اختیار کر گئے اور بعض کیسز میں قتل جیسے واقعات بھی پیش آئے۔

پشاور، لاہور اور کراچی سمیت کئی علاقوں میں معمولی آن لائن تلخ کلامی حقیقی دشمنی میں بدل گئی، جہاں نوجوان جذبات میں آ کر تشدد پر اتر آئے۔ اسی طرح بعض ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کو شہرت، مقابلہ بازی یا ذاتی رنجشوں کی وجہ سے دھمکیوں، حملوں اور حتیٰ کہ جان لیوا واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا اور حقیقی زندگی کے درمیان حد فاصل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔

مزید برآں، خواتین کے لیے یہ پلیٹ فارمز بیک وقت موقع بھی ہیں اور آزمائش بھی۔ متعدد خواتین سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہیں، مگر اسی کے ساتھ انہیں ہراسانی، تذلیلی اور دھوکہ دہی جیسے سنگین مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ کئی کیسز میں خواتین کی تصاویر یا ویڈیوز کو غلط استعمال کر کے انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی، جبکہ بعض واقعات میں آن لائن بدنامی نے گھریلو اور سماجی سطح پر شدید نفسیاتی دباؤ پیدا کیا۔ بچوں اور کم عمر صارفین کے لیے بھی صورتحال کم تشویشناک نہیں، جہاں غیر مناسب مواد، سائبر بُلنگ اور ڈیجیٹل لت ان کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔

خصوصاً نوجوان نسل سوشل میڈیا کے غیر متوازن استعمال سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ وائرل ہونے کی دوڑ، لائکس اور فالوورز کے حصول کی خواہش انہیں خطرناک حرکات تک لے جاتی ہے۔ بعض نوجوان محض شہرت حاصل کرنے کے لیے خطرناک اسٹنٹس کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ کئی افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل آن لائن موجودگی نے ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور تنہائی جیسے مسائل کو بھی جنم دیا ہے، جو خاموشی سے نوجوانوں کی شخصیت کو متاثر کر رہے ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے انسدادِ الیکٹرانک جرائم قانون 2016 (PECA) موجود ہے، جس کا مقصد آن لائن ہراسگی، جعلی معلومات، بدنامی اور دیگر ڈیجیٹل جرائم کو کنٹرول کرنا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس قانون پر مؤثر اور یکساں عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ عام شہریوں کی شکایات اکثر تاخیر کا شکار رہتی ہیں جبکہ بعض اہم یا بااثر مقدمات میں فوری کارروائی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس صورتحال سے انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

دور جدید میں سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور اس کے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی، فوری انصاف، ڈیجیٹل آگاہی اور اخلاقی شعور کو مضبوط بنایا جائے۔ والدین، اساتذہ، میڈیا اور ریاستی اداروں کو مل کر نوجوان نسل کی درست رہنمائی کرنا ہوگی تاکہ وہ اس جدید ذریعے کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔ اگر سوشل میڈیا کو شعور، احتیاط اور اخلاقی حدود کے اندر رکھا جائے تو یہ علم، ترقی اور عوامی آگاہی کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اس کے نقصانات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہی سہولت معاشرے کے لیے ایک گہرے بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے