کچھ عرصہ مصروفیت تھیں ۔ قلم اٹھانے سے قاصر رہا ۔
آج جمعہ مبارک ہے ۔
پھر سے کچھ لکھنے کا دل کیا ذہن بنایا۔ کچھ اشعار جو ذہن میں ہیں. شروعات کرتے ہیں دیکھتے ہیں آگے اللہ کیا توفیق دیتا ہے لکھنے کا ۔
حضور ﷺ کوئی نہیں آپ کے سوا میرا
حضور کوئی نہیں ہے حضور دیکھیے نا
نصیب والوں میں میرا بھی نام ہو جائے
جو زندگی کی مدینے میں شام ہو جائے
جیسے جیسے عمر میں پختگی آتی جا رہی ہے رسول اللہ حضرت کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پہ حیرانی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور محمد اور آلِ محمد سے محبت بڑھتی جاتی ہے۔ مدینہ کی یاد ستانے لگتی ہے اور دل و دماغ ہر شے سے بے پروا ہو کر مدینے کی گلیوں میں سرکار کے روضے کی طرف ایسے دوڑتا جاتا ہے کہ نہ دل پہ کوئی اختیار رہتا ہے اور نہ ذہن پہ ۔
پھر چند لمحوں کی خاموشی چھا جاتی ہے۔ رسول اللہ حضرت سے محبت بڑھتی جاتی بڑھتی جاتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے ۔
میں حیران ہوں کہ 1450 سال قبل عرب کے صحراؤں میں ایسی شخصیت کی اتنی اعلیٰ مرتبہ سوچ اور فکر کہ زبان بے اختیار یا تو سبحان اللہ کہے بنا رہ نہ پائے یا دل دھڑکنے کے ساتھ ہی اللہم صلِّ علیٰ محمد وعلیٰ آلِ محمد کا ورد شروع کرنے لگ جائے ۔
پھر یاسین والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین کے تفسیر کی طرف دھیان جاتا ہے۔ نبوتِ کریمہ پہ اللہ کی ذات کی قسمیں ۔ کیا زبردست شخصیت کے مالک میرے آپ کے اور سب کے رسول اللہ حضرت محمدِ عربی جو خود کو افصح العرب (یا فصیح العرب) کہتے۔
جو حشر تک کا نصاب لائے کتاب لائے رہنا سہنا بچھونا ایک عام سی چٹائی پر اور ذہن اور پہنچ اور رسائی عرشِ عظیم تک۔ واللہ ایسا شخص صرف محمد بن عبداللہ ہی ہو سکتے ہیں ۔
امت کا غم لیے فکر لیے سب کچھ پریکٹیکل کر کے دکھایا صرف لیکچر ہی نہ دیا ۔
ایسے ایسے ہیرے جوڑے جو بعد میں پوری دنیا پر راج کر گئے ۔
آسمانوں میں جا ملے انبیاء سے ملنے ان کی امامت کرائے اقصیٰ میں ہر بات کی تفصیل بتائے اور کچھ مخفی نہیں پوشیدہ نہیں ۔
یہ ہیں ہمارے رسول اللہ حضرت۔ ایک بہترین مکمل تخلیق اللہ سبحان و تعالیٰ کی ۔
ہم اگرچہ فتنوں کے دور سے گزر رہے ہیں مگر ہمارے لیے اجر کا رتبہ اور ثواب بھی زیادہ ہونے کی نوید سنا کر گئے کہ قیامت کے دن میرے قریب وہ ہوں گے جو مجھ پہ بنا دیکھے ایمان لائے ۔
ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر ان کی تصویر سینے میں موجود ہے ۔
یہ اللہ کی توفیق ہے کہ مجھ گنہگار کو رسول اللہ حضرت کی محبت کو زیرِ قلم کرنے کا فہم دیا ورنہ تو چاروں طرف اندھیرا ہے ۔
ویسے سبز گنبد اور جالیوں کے سامنے آ کر سلام پیش کرنے کا تو مزہ ہی اپنا ہے ۔ سعودی پولیس بھلے آپ کو جھاڑے ڈانٹے اور تحرک تحرک کی ندا بلند کرے مگر سلام اور حاضری کے بعد چند لمحے رسول اللہ حضرت کے سامنے کھڑے ہونے کا احساس مزہ لطف اور خوشی کہاں الفاظ میں بیان ہو ۔ دل جیسے مدینہ کی گلیوں میں سرکار کے قدموں میں ان کے دہلیز پہ چھوڑ آئے اور خود جسمِ ناقص کے ساتھ پھر اس دنیا اور اس کے کاروبار میں لے آئے ۔
کیا ہی بات ہو بندہ یہ ناچیز مؤذن ہو مسجدِ نبوی میں اور فجر عصر مغرب عشاء اور تہجد ہو سرکار کی مسجد میں ۔ ۔ نہ دجال کا خوف نہ دنیا کے فتنے۔ حاضری ہو سلام ہو اور زندگی کی شام ہو جائے ۔ پھر کسی معجزے کے منتظر کی آرام گاہ حضرت سرکار کے پیروں کی جانب بقیع میں ہو ۔
حضور کوئی نہیں آپ کے سوا میرا حضور کوئی نہیں حضور دیکھیے نا ۔
صلِّ علیٰ محمد وعلیٰ آلِ محمد