دینی مدارس کے منتظمین اور طلبہ کے لیے ایک اہم ترین تحریر

مدارسِ پاکستان اور “عالمی جامعات ماڈل”
کیا ہمارے دینی اداروں کو جامعہ اسلامیہ مدینہ، جامعہ اسلام آباد اور جامعۃ الأزہر کے منہج کی طرف آنا چاہیے؟

دنیا میں تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مکمل فکری، لسانی، تحقیقی اور تمدنی نظام بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جن جامعات نے عالمِ اسلام میں علمی قیادت سنبھالی ہوئی ہے، ان میں الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، الجامعة الإسلامية العالمية بإسلام آباد، اور جامعة الأزهر نمایاں ہیں۔

ان اداروں نے ایک نہایت اہم اصول اختیار کیا:
“تخصص سے پہلے زبان، فہم، مہارت اور علمی بنیاد”۔

اسی لیے وہاں ایف اے یا ہائر سیکنڈری کے بعد طلبہ کو پہلے ایک سال یا اس سے زائد عرصہ عربی مہارت، علمی تحریر، فہمِ نصوص، جدید اسالیب، تحقیق اور اکیڈمک تربیت دی جاتی ہے، پھر انہیں کلیۃ الشریعہ، کلیۃ أصول الدین، کلیۃ اللغة العربیة، قانون، دعوت، میڈیا یا دیگر تخصصات میں داخل کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں ایم ایس اور ڈاکٹریٹ کی منازل آتی ہیں۔

سوال یہ ہے:
کیا پاکستان کے دینی مدارس اور جامعات کو بھی اس منہج کی طرف آنا چاہیے؟
میرا جواب ہے:
ضرور آنا چاہیے — بلکہ اب یہ ایک علمی ضرورت، قومی تقاضا اور دینی فریضہ بن چکا ہے۔
ہمارا موجودہ بحران کیا ہے؟
پاکستان کے ہزاروں مدارس میں عظیم دینی خدمات کے باوجود چند بنیادی مسائل شدت سے محسوس ہوتے ہیں:
عربی بولنے اور لکھنے کی کمزور صلاحیت
تحقیق اور اکیڈمک اسلوب سے دوری
عالمی علمی اداروں سے عدمِ ربط
تخصصات کی محدود تقسیم
جدید قانونی، معاشی، بین الاقوامی اور فکری چیلنجز سے کم واقفیت
ڈگریوں کا غیر مربوط نظام
مدارس اور یونیورسٹیوں کے درمیان فاصلہ
نتیجہ یہ کہ بہت سے ذہین فضلاء محض خطابت یا محدود تدریس تک رہ جاتے ہیں، جبکہ دنیا کو ایسے علماء درکار ہیں جو:
عربی میں عالمی سطح پر گفتگو کرسکیں،
انگریزی اور جدید علوم سے واقف ہوں،
قانون، معیشت، میڈیا، بین الاقوامی تعلقات اور تحقیق میں مہارت رکھتے ہوں،
اور اسلام کی نمائندگی جدید علمی زبان میں کرسکیں۔
مدینہ، الأزہر اور اسلام آباد ماڈل کیوں کامیاب ہوا؟
ان جامعات نے صرف “نصاب” نہیں بنایا، بلکہ “شخصیت” تیار کی۔
وہ طالب علم کو:
زبان دیتے ہیں،
اظہار دیتے ہیں،
تحقیق دیتے ہیں،
اعتماد دیتے ہیں،
اور عالمی افق دیتے ہیں۔
اسی لیے ان جامعات کے فارغین دنیا بھر میں:
یونیورسٹیوں کے پروفیسر،
جج،
مفتی،
سفیر،
مصنف،
مترجم،
میڈیا اسکالر،
اور عالمی اداروں کے نمائندے بنتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کا طالب علم صرف “مولوی” نہیں رہتا بلکہ “عالمِ عصر” بن جاتا ہے۔
پاکستان کے مدارس کو اس تبدیلی کی ضرورت کیوں ہے؟
1. عربی زبان کی حقیقی بحالی کیلئے
ہمارے مدارس میں عربی اکثر “امتحانی زبان” بن کر رہ گئی ہے، جبکہ قرآن و سنت کی زبان کو “زندہ زبان” بنانا ضروری ہے۔
جب تک طالب علم عربی میں سوچنے، لکھنے، تقریر کرنے اور تحقیق کرنے کے قابل نہیں ہوگا، وہ عالمی علمی قیادت نہیں کرسکے گا۔
2. عالمی سطح پر دینی نمائندگی کیلئے
دنیا اسلام کے بارے میں سوالات کررہی ہے:
انسانی حقوق
اسلامی قانون
بین الاقوامی تعلقات
AI اور اخلاقیات
بینکاری
میڈیا
خواتین کے مسائل
اقلیتیں
عالمی سیاست
اگر ہمارے علماء صرف قدیم متون تک محدود رہیں گے تو امت کی نمائندگی کون کرے گا؟
3. مدارس اور یونیورسٹیوں کے درمیان دیوار ختم کرنے کیلئے
یہ تقسیم اب نقصان دہ ہوچکی ہے۔
ایک طرف “دینی طبقہ”، دوسری طرف “عصری طبقہ” — یہ خلیج امت کو کمزور کررہی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ:
مدرسہ یونیورسٹی سے جڑے،
یونیورسٹی مدرسے سے جڑے،
اور دونوں مل کر ایک متوازن مسلمان تیار کریں۔
4. نوجوان نسل کو باوقار مستقبل دینے کیلئے
آج کا طالب علم صرف ملازمت نہیں چاہتا، بلکہ:
عالمی معیار کی تعلیم،
تحقیق،
وقار،
معاشی استحکام،
اور بین الاقوامی مواقع چاہتا ہے۔
اگر مدارس یہ راستہ نہیں دیں گے تو ذہین نوجوان دور ہوتے جائیں گے۔
یہ تبدیلی کیسے آئے؟
پہلا مرحلہ: “سنۂ مہارات”
ایف اے کے بعد ایک سال مکمل طور پر:
عربی محادثہ
عربی تحریر
اکیڈمک ریسرچ
انفارمیشن ٹیکنالوجی
انگریزی
علمی مناہج
پریزنٹیشن اسکلز
پر مشتمل ہو۔
دوسرا مرحلہ: تخصصی کلیات
پھر طلبہ کو مختلف کلیات میں تقسیم کیا جائے:
کلیۃ الشریعہ والقانون
کلیۃ أصول الدین
کلیۃ اللغة العربیة
کلیۃ الاقتصاد الإسلامي
کلیۃ الإعلام والدعوة
کلیۃ الترجمة والعلاقات الدولية
تیسرا مرحلہ: کریڈٹ اور بی ایس نظام
چار سالہ BS نظام اپنایا جائے تاکہ:
عالمی equivalence آسان ہو،
طلبہ بیرونِ ملک جا سکیں،
اور تحقیق کا معیار بلند ہو۔
چوتھا مرحلہ: ایم ایس اور پی ایچ ڈی کلچر
ہمارے مدارس میں “تحقیق” کو رسمی ضرورت کے بجائے تہذیبی روح بنایا جائے۔
کیا اس سے دینی تشخص ختم ہوجائے گا؟
ہرگز نہیں۔
یہ ایک بڑا مغالطہ ہے کہ جدید تعلیمی تنظیم اختیار کرنے سے دین کمزور ہوجاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ:
“کمزور تنظیم دین کو کمزور کرتی ہے، مضبوط تنظیم دین کو طاقت دیتی ہے۔”
الإمام محمد عبده نے الأزہر میں اصلاحات کیں،
الشيخ عبد الفتاح أبو غدة نے علمی اسلوب کو جدید تقاضوں سے جوڑا،
اور برصغیر کے اکابر نے بھی اپنے زمانے کے مطابق تعلیمی اجتہاد کیا۔
پس آج اگر ہم عالمی معیار کا تعلیمی نظام اپناتے ہیں تو یہ “تجدد” نہیں بلکہ “تجدید” ہے۔
پاکستان ایک عظیم علمی انقلاب کے دہانے پر
پاکستان کے مدارس میں:
اخلاص موجود ہے،
ذہانت موجود ہے،
دینی جذبہ موجود ہے،
قربانی موجود ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ان عظیم قوتوں کو:
جدید تنظیم،
لسانی مہارت،
عالمی معیار،
اور تحقیقی منہج
کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔
اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے عالمِ اسلام کیلئے عربی، اسلامیات اور فکری قیادت کا مرکز بن سکتا ہے۔
آخری بات
میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر پاکستان کے دینی ادارے مدینہ، الأزہر اور اسلام آباد کے کامیاب تعلیمی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک “مہارتی، تخصصی، تحقیقی اور عالمی” نظام اپنالیں تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی۔
یہ صرف نصاب کی تبدیلی نہیں ہوگی؛
یہ امت کے مستقبل کی تعمیر ہوگی۔
اور شاید تاریخ یہ لکھے کہ
پاکستان کے مدارس نے ایک دن “محفوظ روایت” کو “فعال تہذیبی قوت” میں بدل دیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے