پاکستان میں جب بھی کوئی معاشی یا توانائی کا بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا پہلا اثر عام شہری اور چھوٹے کاروبار پر پڑتا ہے۔ اپریل 2026 میں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا جب حکومت نے اچانک ملک بھر میں بازاروں، شاپنگ مالز، ریستورانوں اور شادی ہالز کے اوقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد بجلی اور ایندھن کی بچت تھا، مگر اس فیصلے نے عوام اور تاجروں دونوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
حکومت کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران اور اسرائیل کے درمیان حالات، عالمی تیل منڈی کو متاثر کر رہے تھے۔ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں خطرات بڑھنے کے بعد پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے صورتحال تشویشناک ہو گئی۔ اسی تناظر میں حکومت نے رات 8 بجے بازار بند کرنے اور ریستورانوں و شادی ہالز کو رات 10 بجے تک محدود کرنے کی پالیسی نافذ کی۔
فیصلہ تو فوری طور پر نافذ ہو گیا، لیکن اس کے اثرات بھی فوراً سامنے آنے لگے۔ چھوٹے دکانداروں کا کہنا تھا کہ ان کا اصل کاروبار شام کے اوقات میں ہوتا ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب لوگ رات کو خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔ تاجروں نے اس فیصلے کو کاروبار دشمن قرار دیتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔ کئی شہروں میں تاجر تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عید الاضحیٰ سے پہلے یہ پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ مارکیٹوں کی رونق بحال ہو سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے صرف کاروباری مراکز تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ نجی گھروں میں شادی کی تقریبات کے اوقات بھی مقرر کر دیے۔ عوام نے سوال اٹھایا کہ کیا چند گھنٹے پہلے بازار بند کر دینے سے واقعی ملک میں توانائی بحران حل ہو سکتا ہے؟
ماہرینِ توانائی کے مطابق اصل مسئلہ بازاروں کی روشنیاں نہیں بلکہ بجلی چوری، فرسودہ ٹرانسمیشن سسٹم اور صنعتی شعبے میں توانائی کے غیر مؤثر استعمال جیسے بنیادی مسائل ہیں۔ اگر ان مسائل پر توجہ نہ دی جائے تو صرف دکانیں جلد بند کروانے سے بچت نہ ہونے کے برابر رہتی ہے۔
شدید عوامی ردعمل اور تاجروں کے دباؤ کے بعد بالآخر حکومت نے 19 مئی 2026 کو اس پالیسی میں نرمی کا اعلان کر دیا۔ وفاقی کابینہ نے بازاروں، شاپنگ مالز، ریستورانوں، بیکریوں اور گروسری اسٹورز کو 31 مئی تک ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا، جبکہ پنجاب حکومت نے بھی مارکیٹوں اور ہوٹلوں پر عائد شرائط ختم کر دیں۔
یہ پورا واقعہ ایک اہم سوال چھوڑ جاتا ہے۔ کیا ہمارے ہاں بحرانوں کا حل صرف وقتی پابندیاں لگانا رہ گیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ توانائی بحران کا مستقل حل صرف مضبوط منصوبہ بندی، جدید نظام اور مؤثر پالیسی سازی سے ہی ممکن ہے۔ وقتی فیصلے شاید چند دن کے لیے صورتحال سنبھال لیں، مگر دیرپا بہتری نہیں لا سکتے۔
عوام اب بھی یہی سوچ رہی ہے کہ 31 مئی کے بعد کیا ہوگا۔ پابندیاں دوبارہ آئیں گی یا حکومت کوئی مستقل حکمت عملی اختیار کرے گی؟ فی الحال ایک بات ضرور واضح ہے کہ ہر بحران کا سب سے بڑا بوجھ ہمیشہ عام آدمی کے کندھوں پر ہی آتا ہے۔