عیدِ قربان اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں

عیدیں صرف تہوار نہیں ہوتیں، یہ انسان کے اندر چھپی محبت، قربانی، احساس اور اپنائیت کو جگانے کا خوبصورت ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر عیدِ قربان تو ایثار، محبت اور تقسیمِ خوشی کا ایسا پیغام دیتی ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف بڑی کامیابیوں، مہنگی خواہشوں اور بلند عمارتوں کا نام نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں بھی ایک پوری کائنات آباد ہوتی ہے۔عیدِ قربان قریب آتے ہی گھروں میں ایک عجیب سی رونق اترنا شروع ہو جاتی ہے۔

بچے خوشی خوشی اپنے والدین کے ساتھ مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔ کسی کو سفید رنگ کا بکراپسند آتا ہے، کسی کو اونچا سا بیل اور کوئی خوبصورت دنبے کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے۔ پھر یہ جانور صرف جانور نہیں رہتے بلکہ گھر کے فرد بن جاتے ہیں۔ بچے انہیں نام دیتے ہیں، اپنے ہاتھوں سے چارہ کھلاتے ہیں، پانی پلاتے ہیں، اُن کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں اور ان سے ایک جذباتی تعلق قائم کر لیتے ہیں۔

یہ محبت دراصل عیدِ قربان کا سب سے خوبصورت پہلو ہے۔ قربانی کا جانور انسان کو محبت، شفقت اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ کئی گھروں میں بچے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اپنے بکرے یا بیل کے پاس جاتے ہیں۔ اُن کے گلے میں رنگ برنگی پٹیاں ڈالتے ہیں، سجاتے ہیں اور اُن سے ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے وہ اُن کی زبان سمجھتے ہوں۔ یہی وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں جو عید کو یادگار بنا دیتی ہیں۔آج کے دور میں انسان نے ترقی تو بہت کر لی ہے مگر سکون کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

ہر شخص بڑی خوشیوں کی تلاش میں اتنا مصروف ہے کہ اسے اپنے اردگرد بکھری ننھی ننھی خوشیاں دکھائی ہی نہیں دیتیں۔ عیدِ قربان آتی ہے تو ایک عجیب سی رونق پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ گلیوں میں بچوں کی قلقاریاں، جانوروں کے گرد جمع لوگوں کا ہجوم، قربانی کے جذبے سے سرشار چہرے، نئے کپڑوں کی خوشبو اور گھروں سے اٹھتی پکوانوں کی مہک انسان کو احساس دلاتی ہے کہ اصل خوشی دلوں کے قریب ہونے میں ہے۔

بچپن کی عیدیں شاید اسی لیے زیادہ خوبصورت لگتی تھیں کیونکہ اُس وقت خوشیوں کا معیار سادہ تھا۔ نئے جوتے مل جانا، عیدی کے چند نوٹ ہاتھ میں آ جانا، صبح سویرے دوستوں کے ساتھ گلی میں گھومنا اور شام کو گھر واپس آ کر امی کے ہاتھ کی بنی سویّاں کھانا ہی دنیا کی سب سے بڑی خوشی محسوس ہوتی تھی۔

اُس وقت نہ برانڈڈ کپڑوں کی فکر تھی اور نہ سوشل میڈیا پر تصویریں لگانے کا شوق۔ دل صاف تھے اور خوشیاں خالص۔وقت کے ساتھ انسان بدل گیا۔ اب عید بھی مقابلے کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ کون زیادہ مہنگا جانور لایا؟ کس کے کپڑے زیادہ قیمتی ہیں؟ کس کے گھر زیادہ مہمان آئے؟ ہم نے خوشیوں کو نمود و نمائش کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ عیدِ قربان کا اصل فلسفہ تو عاجزی، قربانی اور دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے میں پوشیدہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جن کے لیے عید صرف ایک عام دن ہوتی ہے۔ کسی ماں کے پاس بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، کوئی مزدور سارا سال بچوں کو اچھی عید دلانے کے لیے محنت کرتا رہتا ہے، کوئی یتیم بچہ صرف دوسروں کو خوش دیکھ کر خود کو بہلاتا ہے۔ ایسے میں اگر ہم اپنی خوشیوں میں سے تھوڑا سا حصہ کسی ضرورت مند کو دے دیں تو شاید ہماری عید واقعی مکمل ہو جائے۔

چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ کسی غریب بچے کو عیدی دے دینا، کسی سفید پوش خاندان تک قربانی کا گوشت پہنچا دینا، کسی تنہا بزرگ کے ساتھ چند لمحے گزار لینا یا کسی ناراض رشتے دار کو فون کر کے عید مبارک کہہ دینا،یہ سب وہ خوشیاں ہیں جو انسان کے دل کو حقیقی سکون دیتی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں کی دعوتیں اور مہنگی خریداری شاید وقتی خوشی دے دیں مگر دل کا سکون ہمیشہ محبت اور خلوص سے ملتا ہے۔

عیدِ قربان دراصل انسان کو اپنی ذات سے باہر نکلنے کا درس دیتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے محبوب چیز بھی قربان کرنی پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ یہی جذبہ اگر ہماری روزمرہ زندگی میں شامل ہو جائے تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔ اگر صاحبِ حیثیت لوگ اپنے اردگرد موجود محروم افراد کا خیال رکھنا شروع کر دیں تو شاید کسی گھر کا چولہا ٹھنڈا نہ رہے۔

بدقسمتی سے آج ہم نے خوشیوں کو صرف اپنی ذات تک محدود کر لیا ہے۔ ہم اپنے گھروں کو تو روشنیوں سے سجا لیتے ہیں مگر کسی اندھیرے گھر کے بارے میں نہیں سوچتے۔ حالانکہ عید کا اصل حسن دوسروں کی زندگی میں روشنی بانٹنے میں ہے۔ ایک چھوٹی سی مدد، ایک پیارا سا جملہ یا ایک خلوص بھری مسکراہٹ بھی کسی کے لیے پوری عید بن سکتی ہے۔

عیدِ قربان ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی سادگی میں ہے۔ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، دوستوں سے ملنا اور اپنوں کی موجودگی کو محسوس کرنا ہی دراصل زندگی کی بڑی نعمت ہے۔ دنیا کی ہر دولت اُس خوشی کے سامنے چھوٹی لگتی ہے جو انسان کو اپنے پیاروں کے درمیان بیٹھ کر ملتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عید کو صرف رسم نہ بنائیں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھیں۔

اپنے دلوں میں محبت پیدا کریں، نفرتوں کو ختم کریں، رشتوں کو جوڑیں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی خوشیوں کا سبب بنیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بڑی خوشیاں ہمیشہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے مجموعے سے بنتی ہیں۔عیدِ قربان کا اصل حسن بھی یہی ہے کہ یہ انسان کو انسان کے قریب لے آتی ہے۔ یہ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر دل زندہ ہوں تو معمولی لمحے بھی یادگار بن جاتے ہیں۔ ایک سادہ سا کھانا، بچوں کی ہنسی، ماں کی دعا، دوست کی محبت اور اپنوں کی موجودگی ہی دراصل زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے