سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی صرف سہولتیں نہیں لاتی بلکہ نئی اور پیچیدہ ذمہ داریاں بھی ساتھ لاتی ہے۔ انسان نے ترقی کے حاصلات سمیٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن متوازی ذمہ داریاں قبول کرنے سے پہلو تہی برتی ہے۔ جدید سائنس فطرت کو مسخر کرنے کا عزم تھا لیکن یہ اتنی سادہ بات بھی نہیں۔ ہم نے خزانے کی تلاش میں ہر طرف کھدائی کی، مال ہاتھ لگا لیکن ان گنت زمیں برد آسیب بھی رہا ہوگئے۔ ہر سوراخ میں انگلی گھسیڑنے سے سانپ کے کاٹے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فطرت کو مسخر کرنے کی نفع پرست جدوجہد نے فطرت کی نامانوس ہیبت ناکیوں کو براہ راست ہمارے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
فطرت وہ تاریک جھاڑی ہے جس میں سونا اور وبائیں دونوں پوشیدہ ہیں۔ ہم نے اس جھاڑی میں قدم رکھا اور یہاں کے مال سے تیز رفتار جہاز بنائے اور کروڑوں کی آبادی کے منظم شہر بسائے۔ تب جاکر فطرت نے ایسے عفریت آزاد کیے جنہیں تمام کرہ ارض لدا ہوا دسترخوان معلوم ہوتا ہے۔ سمندر کی گہرائیوں سے لیکر چوٹیوں صحراؤں تک ہم نے جہاں کوئی جاندار دیکھا اسے تحقیق کی چادر میں ساتھ لگا لیا۔ ان جانداروں کے نفع ہمارے ہوئے لیکن ان کی بیماریاں بھی تو ہماری ہوگئیں۔ ہر ایجاد ایک نئی آفت ہے جس کی ذمہ داری اس کی سہولت سے کہیں بھاری پڑتی ہے۔
حکمت بقول نطشے یہ ہے کہ انسان خود اپنے علم کی حد بندی کے شعور کا اہل ہو۔ صرف علم کو لامحدود پھیلاتے جانا خطرناک رجحان ہے کیونکہ ہم خود بہرحال محدود وجود ہیں۔ علم کے ساتھ ساتھ ضبط نفس بہت ضروری ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ اگر وہ فطرت کو ایک قدم روندے تو خود اپنے اوپر دو پابندیاں عائد کرے۔ ورنہ اے چالاک دوپایے، فطرت تم سے بہت بڑی ہے، تم رحم مادر میں سر ٹکرا ٹکرا کر ماں کو کس قدر اذیت دے سکوگے جبکہ تمہیں علم ہے کہ اس کی موت خود تمہاری موت کا دوسرا روپ ہے۔
دور جدید میں بہتر سماجی شعور کی ضرورت تاریخ کے ہر دور سے زیادہ ہے کیونکہ ہماری سائنسز اور فطرت پر ہمارا غلبہ کسی دور میں اتنا نہیں رہا۔ اس سماجی شعور کے بغیر سائنسی ترقی ہمارے گلے کا طوق ہے جس کا وزن ہم خود بڑھائے جارہے ہیں۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ دور جدید میں ہی سماجی بندوبست اور شعور سے مذہب تقریباً بیدخل کردیا گیا جو قبل ازیں اس مقصد کے لیے کار آمد ترین ثابت ہوا تھا لیکن اس بیدخلی سے پیدا ہوا خلا ابھی تک بھرا نہیں جاسکا۔ جدید انسان وجودی اعتبار سے کہیں زیادہ آوارہ ہوچکا ہے، یہاں آوارگی سے مراد ضبط نفس کی کمی اور اقداری خلا کی بے سمتی ہے۔
سائنسی امید پرست اس سے بچنے کی صورت یہ بتاتے ہیں کہ انسان خود مشین بن جائے، ان کا قصور نہیں، وہ انسان کو مائیکروسکوپ تلے رکھ کر ہی دیکھ پاتے ہیں۔ روایت پسندوں کی رائے میں ترقی کا انکار کرتے ہوئے وقت کے پہیے تلے آکر خودکشی کر لینی چائیے کیونکہ قبریں اب بھی اسلاف کے طریقوں پر بنتی ہیں۔ ہم ان دونوں سے الگ ایک نیا فلسفہ حیات چاہتے ہیں جو آبرومندانہ زندگی کا ضامن ہو اور جہاں ہمیں ماضی کے بوجھ سے بیخوف کرے وہیں فطرت میں ہماری ترقی کے بڑھتے قدم کو احساس دلائے کہ وہ محض قدم نہیں بلکہ ایک مکمل وجود ہے۔ ہم ایسا فلسفہ ضرور کھوج نکالیں گے، آخر یہ ہمارے ہونے اور نہ ہونے کا سوال ہے۔