چھاپ تلک سب چھین لی۔ پھر زِ حالِ مسکیں کیوں؟

مجھے امیر خسرو سے محبت کب ہوئی، یہ مجھے یاد نہیں۔ شاید محبت تھی بھی نہیں۔ بچپن میں جو چیز اچھی لگے اسے محبت کہنا بھی عجیب ہے۔ بس پی ٹی وی پر بلیک اینڈ وائٹ زمانے میں خسرو کے گیت آتے تھے اور ان کی تصویریں مجھے مسحور کر دیتی تھیں۔ آواز، چہرے، کپڑے، عورتوں کی حرکات، وہ پرانا سا ہندوستان جسے میں نے کبھی دیکھا نہیں تھا مگر ٹی وی کی اسکرین پر دیکھ کر اپنا سا لگتا تھا۔

”اماں مورے باوا کو بھیجو۔“
”اچھے بنے مہندی لاون دے۔“
”امبوا تلے۔“
مجھے الفاظ پورے سمجھ نہیں آتے تھے، مگر کچھ تھا جو سمجھ آتا تھا۔

اور ایک سوال بھی تھا؛ ایک مرد ایسی شاعری کیسے لکھ سکتا ہے؟ اتنا عورتوں کے قریب کیسے ہو سکتا ہے؟ تب تو مجھے ’فیمنسٹ‘ کا لفظ بھی شاید معلوم نہیں تھا۔ آج اگر وہی پروگرام دیکھوں تو دل چاہے گا کہ خسرو کو فیمنسٹ کہہ دوں، پھر فوراً خود ہی اپنے آپ کو روک لوں گی۔ تیرہویں صدی کے ایک شاعر پر بیسویں یا اکیسویں صدی کی سیاسی اصطلاح چسپاں کرنا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ خسرو اپنے زمانے کے آدمی تھے۔ ان کے ہاں عورت کی آواز، عورت کا دکھ، عورت کی خواہش اور عورت کی دنیا بہت نمایاں ہے، لیکن وہ اپنے عہد کی حدوں سے باہر بھی نہیں نکلتے۔ یہی تو دلچسپ بات ہے۔ وہ ہمیں آج بھی اپنی طرف کھینچتے ہیں، مگر انہیں آج کا آدمی بنا دینا ضروری نہیں۔

بچپن میں خسرو کی پہیلیاں بھی یاد کروائی گئیں۔ لفظوں سے کھیلنے والا یہ آدمی مجھے اچھا لگتا تھا۔ کبھی ”کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا، آیا کُتّا کھا گیا“ جیسے بچوں کے کھیل۔ تب ایک اور خیال آتا کہ کیا امیر خسرو ”mama ’s boy“ تھے؟ اتنا گھر، عورتوں، گیتوں، زبانوں اور ان کے روزمرہ کے کھیلوں کے قریب؟ مجھے آج بھی یہ سوال برا نہیں لگتا۔

”بڑے ہونے“ (یعنی زندگی سے پالا پڑنے کے بعد ، اور یہ اسٹیج مڈل کلاس کے ذہین اور حساس لوگوں کو بہت جلد نصیب ہو جاتی ہے اور مجھ کو کچھ زیادہ ہی پہلے ) کے بعد خسرو کا مطلب بدل گیا۔ زندگی نے اپنے معمول کی بے رحمی اور سفاکی سے سمجھانا شروع کیا کہ دنیا صرف خوبصورت چیزوں کا نام نہیں۔ طاقت بھی ہوتی ہے، تشدد بھی، طبقہ بھی، استحصال بھی، محبت میں ملکیت بھی، سیاست میں انتقام بھی، اور عورت کے لیے بعض اوقات اپنی زندگی کی قیمت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے.

تب تصوف کی طرف میرا رجحان بڑھا۔ مذہبی معنوں میں نہیں ؛ میں زیادہ مذہبی نہیں ہوئی تھی۔ نہ ملنگ بنی، نہ دنیا چھوڑنے کا ارادہ تھا، نہ خواہشوں سے دستبرداری کا۔ میں آج بھی بہت دنیاوی ہوں، کبھی کبھی لالچی بھی۔ اب بھی چیزیں چاہتی ہوں، نہ ملیں تو شکوہ کرتی ہوں۔ بس اتنا ہوا کہ جب دنیا کی اپنی منطق سمجھ نہیں آتی تھی تو میں نے ایک دوسری زبان ڈھونڈ لی۔ رومی تھے، بلھے شاہ تھے، خواجہ فرید تھے، لال شہباز قلندر تھے اور امیر خسرو بھی۔ میں نے تصوف اختیار نہیں کیا تھا، میں نے اسے استعمال کیا تھا۔ یہ جملہ شاید کسی صوفی کو پسند نہ آئے، مگر مجھے اس کی زیادہ فکر نہیں۔ مجھے اپنے آپ کو بچانا تھا۔ میرے پاس دنیاوی طاقت نہیں تھی، میں نے فینٹسی کو اپنی طاقت بنا لیا۔

پھر میری اپنی زندگی میں ایک ایسا زمانہ آیا جس نے اس فینٹسی کو محض فینٹسی نہیں رہنے دیا۔ مشرف دور میں مجھ پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) نافذ کر دی گئی، شاید تقدیر میری اس فینٹسی پر ہنس رہی تھی۔ اسکالرشپس رک گئیں، پیشہ ورانہ مواقع بند ہو گئے، سفر ممنوع ہو گیا۔ ایسے ”جرم“ کی سزا ملی جو میرا نہیں تھا۔ جی ہاں جرم میرا نہیں تھا؛ کیا کیا پلانز تھے دنیا میں نام بنانے کے! برطانیہ اور امریکہ کے اسکالرشپس سرنڈر کیے، یا یوں کہیے کہ کروائے گئے۔ اب سب کچھ بے معنی ہے۔ ایک بے رحم معاشرے میں میرے جیسی عورتوں کے سچ (disclosures) /اعترافات کی پذیرائی نہیں ہوتی۔ لیکن طاقت کو ہمیشہ جرم کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی کسی دوسرے کو سزا دینے کے لیے بھی آپ کو کافی سمجھا جاتا ہے۔

میری شادی کوئی فیری ٹیل (fairy tale) نہیں تھی۔ بہت بعد میں سمجھ آیا کہ نکاح کسی انسان کو دوسرے انسان کی ملکیت نہیں بناتا۔ محبت اگر ملکیت بن جائے تو محبت نہیں رہتی۔ لیکن اس وقت زندگی چلانی تھی۔ میں چوبیس گھنٹے ایک ادارے کی سربراہ تھی؛ گھر بھی تھا، بچے بھی، کام بھی، سیاست بھی، عورت ہونے کی اپنی الگ ذمہ داریاں بھی، وفادار بیوی بننے کا دباؤ بھی اور ایکٹوسٹ ہونے کا تقاضا بھی۔ باہر سے میں کام کرتی رہی، لیکن اندر سے؟ اندر سے میں سفر کرنا چاہتی تھی۔ بس سفر! ایک ایسا سفر جس میں کوئی سرحد میرے نام پر بند نہ ہو۔

ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے اللہ سے کہا، اگر یہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکل آؤں تو مجھے ہندوستان لے جانا۔ مجھے اجمیر جانا تھا، خواجہ صاحب کو سلام کرنا تھا۔ دہلی جانا تھا، غالب کو سلام کرنا تھا، نظام الدین اولیا کے مزار پر جانا تھا اور خسرو کو دیکھنا تھا۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ”دیکھنا“ کیا ہوتا ہے۔ وہاں جانے کا امکان بھی کچھ ایسا ہی تھا جیسے ضیا الحق کے زمانے میں یہ تصور کرنا کہ ایک دن وہ نہیں ہو گا؛ یعنی بالکل ناممکن۔

پھر ناممکن ممکن ہوا۔ ای سی ایل سے نکل گئی۔ ( کبھی کبھی کوئی بے تکلف صحافی یا دوست پوچھ لیتے ہیں کہ آپ نے پھر ملک چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ پاکستان سے میرے عشق پر کون یقین کرے گا؟ پھر ایسا ہے کہ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے اب رہائی ملی تو مر جائیں گے ) ۔ تب تک میں چالیس سال کی ہو چکی تھی۔ اگلا اتفاق آگرہ کی ایک کانفرنس کا دعوت نامہ تھا، پھر اجمیر کے لیے درخواست اور اجازت مل گئی۔ کبھی کبھی زندگی ایک ساتھ کئی دروازے کھول دیتی ہے۔ اتنے سال بند رہنے کے بعد کھلنے والے دروازے پر آدمی فوراً اندر نہیں جاتا، کچھ دیر دہلیز پر کھڑا رہتا ہے۔

دہلی پہنچی تو میں روئی، بہت روئی۔ ایسا بھی نہیں کہ کوئی ایک واقعہ ہوا تھا اور آنسو آ گئے، بلکہ جیسے جسم نے برسوں کا حساب ایک ساتھ نکال لیا ہو۔ میں ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جن کے نام صرف کتابوں میں پڑھے تھے، ان جگہوں کے بارے میں جنہیں دیکھنے کی اجازت بھی کبھی اپنی زندگی کا حق سمجھنے کی اجازت نہیں ملی تھی۔

اور خسرو؟ وہ میرے ساتھ بچپن سے چلے آرہے تھے ؛ پی ٹی وی کی اسکرین سے، پہیلیوں سے، ”چھاپ تلک“ سے اور پھر ”زِ حالِ مسکیں“ سے۔

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ

ہجر کی رات لمبی کیوں ہوتی ہے اور وصال کا دن عمر سے بھی چھوٹا کیوں؟ یہ سوال صوفیانہ بھی ہے اور انتہائی دنیاوی بھی۔ جو انتظار کر رہا ہو اسے فرق نہیں پڑتا کہ اس کا ہجر روحانی ہے یا ذاتی۔ وقت پھر بھی وقت ہے، رات پھر بھی رات ہے، اور جس کا انتظار ہو، وہ پھر بھی نہیں آتا۔

خسرو کے ہاں مجھے یہی چیز کھینچتی ہے۔ وہ بہت بلند بات کہہ کر فوراً زمین پر واپس آ جاتے ہیں ؛ فارسی سے ہندوی میں، دربار سے گھر میں، عشق سے عورت کی زبان میں، فلسفے سے پہیلی میں۔

زِ حالِ مسکیں مکن تغافل۔

میرے لیے یہ کوئی روحانی سبق نہیں تھا، یہ ایک شکایت تھی اور مجھے شکایت کی زبان ہمیشہ سے آتی ہے۔ ”سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں۔ تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں؟“ میں نے خسرو کو اسی جگہ سے پڑھا جہاں ایک عام آدمی محبت، جدائی، انتظار اور بے بسی کو پڑھتا ہے۔ اسی لیے ”چھاپ تلک“ بھی مجھے صرف ایک صوفیانہ کلام نہیں لگتا۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے عشق آدمی کی شناخت تک اتار دیتا ہے۔ جو کچھ تم سمجھتے تھے کہ تم ہو، وہ بھی لے جاتا ہے اور پھر تم پوچھتے رہ جاتے ہو: اب میں کون ہوں؟

یہ سوال شاید میری اپنی زندگی سے بھی زیادہ دور نہیں تھا۔ ایک ریاست نے میری نقل و حرکت روک دی تھی، ایک رشتے نے میری آزادی کو ملکیت سمجھنے کی کوشش کی تھی، دنیا کے کچھ طاقتور لوگوں نے اپنے اپنے طریقے سے فیصلہ کیا تھا کہ میرے لیے کیا ممکن ہے اور کیا نہیں۔ اور میں؟ میں نے پہلے مزاحمت کی، پھر کام کیا، پھر روئی، پھر شاعری پڑھی، پھر فینٹسی بنائی، پھر سفر کیا اور شاید اسی طرح بچ گئی۔

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میرے قصے میں بہت سے لوگ ولن بن سکتے ہیں ؛ وکیل بھی، صحافی بھی، طاقتور لوگ بھی، شوہر بھی، ریاست بھی۔ لیکن یہ مضمون ان سب کی فہرست بنانے کے لیے نہیں، یہ خسرو کے بارے میں ہے، یا شاید اس عورت کے بارے میں ہے جو خسرو تک پہنچنے میں بہت سال لگا بیٹھی۔ اور پھر سوچتی رہی کہ آخر ایک تیرہویں صدی کا آدمی میرے اتنے قریب کیوں ہے؟

اس کا جواب شاید ان کی زبانوں کے تضاد میں ہے ؛ فارسی اور ہندوی، دربار اور عوام، مرد اور عورت، عشق اور شکایت، دنیا اور درویشی۔ خسرو ہمیشہ ایک حد کے بیچ کھڑے نظر آتے ہیں اور شاید میں بھی۔ مجھے ”زِ حالِ مسکیں“ اسی لیے اتنا اپنا لگتا ہے۔ اس میں زبان بھی سرحد پار کرتی ہے اور کیفیت بھی۔ ایک زبان دوسری میں گھلتی ہے، ایک دنیا دوسری دنیا میں، اور آدمی کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ کہاں کا ہو گیا۔

خسرو کی یہی بازی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی۔ بازیِ عشق کی۔ کبھی لگتا ہے عشق جیت رہا ہے، کبھی لگتا ہے آدمی ہار گیا، کبھی لگتا ہے دونوں ایک ہی بات ہیں۔ اور پھر میں اپنی ساری ”روحانیت“ سمیٹ کر واپس اپنی دنیا میں آ جاتی ہوں۔ بل جمع کروانے ہوتے ہیں، کام ہوتے ہیں، لوگوں سے لڑائیاں ہوتی ہیں، اپنی خواہشیں ہوتی ہیں اور اللہ سے شکایتیں بھی۔ میں خسرو کو پڑھ کر صوفی نہیں ہوئی اور نہ ہونے کا کوئی ارادہ ہے۔ مجھے تصوف کا علم نہیں، مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ زندگی جب بہت بھاری ہو گئی تو خسرو کی زبان نے اسے اٹھانے میں میری مدد کی۔ انہوں نے مجھے شکوہ چھوڑنا نہیں سکھایا، انہوں نے شکوہ کرنے کے لیے الفاظ دیے اور شاید یہی کافی تھا۔

بچپن کا وہ سوال اب بھی کہیں موجود ہے : ایک مرد ایسی شاعری کیسے لکھ سکتا ہے؟ اب میں اس کا کوئی بڑا فلسفیانہ جواب نہیں دوں گی۔ شاید عاشق کی کوئی جنس نہیں ہوتی۔ بس ایک سوال پھر بھی رہتا ہے : چھاپ تلک سب چھین لی۔ پھر زِ حالِ مسکیں کیوں؟

شاید اس لیے کہ سب کچھ چھن جانے کے بعد بھی آدمی کے پاس ایک چیز بچ رہتی ہے : شکوہ۔ اور میرا خسرو سے تعلق شاید آج بھی وہیں ہے۔ میں جواب لینے نہیں جاتی، میں اپنا اگلا شکوہ لے کر ان کے پاس بیٹھ جاتی ہوں۔

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے