اسلامی نظریاتی کونسل

اجنبی نمبر سے کال آئی ، رسمی علیک سلیک کے بعد تعارف پوچھا تو جواب ملا:میں اسلامی نظریاتی کونسل سے تحمید جان مخاطب ہوں۔ آپ سے سہہ روزہ تربیتی ورک شاپ کے حوالے بات کرنا چاہ رہا ہوں ۔کیا آپ فلاں تاریخوں میں وقت دے سکتے ہیں ۔ ورک شاپ کا عنوان "اسلام اور جمہوریت” جان کر انکار کی گنجائش نا تھی ،سو فورا حامی بھری اور اگلے ہی لمحے واٹساپ گروپ میں شامل کردیا گیا ۔

بے چینی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی اور شدت انتظار سے عربی مقولہ”الانتظار اشد من الموت” ، ” انتظار موت کی گھڑی سے زیادہ سخت ہے” سمجھ آرہا تھا۔بالآخر وہ وقت آپہنچا ،جس کی راہیں تک رہا تھا ۔تشنگی کو سیراب کرنے اور بہت کچھ جاننے کے لیےاسلامی نظریاتی کونسل کے ایک کشادہ ہال میں تمام مکتبہ ہائے فکر کی محترم علمی شخصیات جلوہ افروز تھیں ۔ مہمان اسپیکرز تشریف لاتے رہے اور اپنے خیالات سے روشناس فرماتے رہے جب کہ کچھ اہل دانش ،شرکا ورک شاپ کے سوالات پہلے لیتے اور پھر اسی پہ روشنی ڈالنے کے لیے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے۔ ابتدائی مرحلہ کی یہ ورک شاپ پلک جھپکتے ہی اختتام پذیر ہوگئی ۔ پتا ہی نا چلا اور تین دن گزر گئے ۔چونکہ یہ اسلام آباد کی سطح پہ منعقد کی گئی تھی اس لیے شرکا آتے اور شام ہوتے ہی اپنی رہائش گاہوں کو لوٹ جاتے ،اس لیے باوجود اشتیاق کے باہم زیادہ بے تکلفانہ گفت و شنید کا موقع میسر نا آسکا ۔ سرٹیفکیٹ تھامے دل مغموم سے دوستوں کو الوداع کیا اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے روانہ ہوگیا ۔

اسلام آباد ،پشاور اور لاہور میں ابتدائی ورک شاپس سے میرٹ کی بنیاد پہ ایڈوانس لیول کے لیےان 25 خوش نصیبوں کا انتخاب ہوا ، جوجمہوری سرگرمیوں میں پیش پیش تھے ۔ایک بار پھر international Research Council for Religious Affairs and council of Islamic Ideology Islamabad کے چیف آف ایگزیگیٹو ڈاکٹر تحمید جان ازھری صاحب کی کال آئی اور ایڈوانس لیول ورک شاپ میں کی نوید سننے کو ملی تو خوشی سے پھولے نہ سمایا ۔

اس بار بھی تمام مکاتب فکر (دیوبندی،بریلوی ، اہل حدیث اور اہل تشیع )کے سرکردہ و سرگرم نامور علما تشریف لا رہے تھے اور خاص بات یہ تھی کہ دور دراز سے آنے والے مہمانوں کو رہائش بھی دی جا ری تھی ، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ دوان روک شاپ وقت کی قلت کی وجہ سے ادھوری رہ جانے والی تشنگی پہ رات بھر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔دوستانہ ماحول میں اختلافی پہلووں کو حل کرنا اور مخاطب کی رائے احترام کرنا رواداری کا عملی ثبوت تھا جو صرف IRCR کی بدولت ممکن ہوا ۔

اسلامی نظام حکومت کے اصول قرآن کریم اور سیرت طیبہ کی روشنی میں کیا ہوسکتے ہیں؟ کیا موجودہ جمہوری نظام اسلام سے متصادم ہے ؟ خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ تک کی مختصر تاریخ اوراس میں پائی جانے والی خوبیاں ،خامیاں کیا ہیں ؟ کیا موجودہ دور میں خلافت کا عملی قیام ممکن ہے ؟ خلیفہ کو منتخب کرنے کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے ؟ خلیفہ کو معزول کیسے کیا جائے ؟

ایک طرف خلافت آمریت اور جمہوریت کے ارد گرد گھومتی یہ طویل بحث مختصر وقت میں نکھر کر سامنے آئی تو دوسری طرف جمہوریت کا ڈھانچہ اور اس کی اسلامی ہم آہنگی کو استدلال سے واضح کیا گیا ۔ جمہوری نظام میں موجودہ پیچیدگیاں اور اس کے پیچھے کار فرما عوامل کو بنظر غائر دیکھا گیا ۔ بین الاقوامی قوانین کی تشکیل کیسے کی جاتی ہے اور ملکی مسائل کا تدارک کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے ۔ اس پرتفصیلی اور تسلی بخش گفتگو کرنے کے لیے مختلف دانشور تشریف لائے ،مثلا:
1) محترم جناب بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب (سابق وزیر قانون)

2) محترم جناب خورشید ندیم صاحب ( ممبر اسلامی نظریاتی کونسل)

3) محترم جناب احمر بلال صوفی صاحب(ایڈوکیٹ سپریم کورٹ پاکستان ،سابق وزیر قانون)

4) محترم جناب ظفر اللہ خان صاحب ( سابق ڈائریکٹر PIPS)

5) محترم جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب ( چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)
جبکہ دیگر ماہرین بھی موضوع پہ مکمل دسترس رکھتے ہوئے عام فہم اور آسان اسلوب میں شرکا کو آگاہ فرماتے رہیں ۔

ایڈوانس ورک شاپ کی ایک اور خاصیت یہ تھی کہ انتہائی اہم موضوعات کے ساتھ ملکی حساس اداروں کا وزٹ بھی کرایا گیا ،جو یقینا ایک عام شہری کی دسترس سے باہر ہے ۔

جمہوریت ،آمریت و بادشاہت ،تعارف ایک تقابلی جائزہ

جمہوریت پر اٹھنے والے اعتراضات

بین الاقوامی قانون و معاہدات وا سلامی تعلیمات

پاکستان کا آئینی و حکومتی نظام

قوانین کی اسلامائزیشن

پیغام پاکستان کا تعارف اور جمہوریت کے فروغ میں مذہبی قائدین کا کردار

یہ اور اس جیسے اہم موضوعات جاننے کے ساتھ شرعی عدالت لے جایا گیا ،جہاں فیڈرل شریعہ کورٹ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا گیا ۔شرکا کے سولات کے جوابات دئیے گئے اور پھر پارلیمنٹ ہاوس کا وزٹ کرایا گیا ۔ پہلے پارلیمنٹ ہاوس کے میوزیم لے جایا گیا ، جہاں مختلف نقشے ، مورتیاں اور تاریخی ورثہ دیکھنے کے بعد پارلیمنٹ کی تاریخ پر مبنی ایک ڈاکٹو منٹری پلے کی گئی ۔ بعد ازاں سینٹ ہاوس بھی لے جایا گیا ۔

تین دن کی مختصر دورانیے پہ مشتمل بیش بہا وگراں قدر علمی موضوعات و شخصیات سموئے یہ منفردورک شاپ اپنی مثال آپ تھی۔یہ شعور بیدار کرنا کہ ملک عزیز ہمارا ہے ، ہم اس سے ہیں اور ریاستی و فلاحی اداروں سے بد گمانی کی فضا کو ختم کرکے بد امنی کو کم کرنے میں کامیاب ہونا ہر شہری کا اولین فریضہ ہے ۔ یقینا اس پر فتن و پر آشوب دور میں IRCR کا یہ اقدام قابل داد و تحسین ہے ۔مجھے بذات خود اس ورک شاپ کا حصہ بننے کے بعد یہ احساس ہوا کہ مملکت خدا داد پاکستان کی فلاح و بہبود میں حائل رکاوٹیں کیا ہیں اوران کا عملی حل کیا اور کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے ۔

خدا کرے کہ ہمارے معاشرے میں جمہوری اقدار کو سمجھنے کا شعور بیدار ہو، اس طرح کی مزید کاوشیں ابھریں اور پیغام امن کا فروغ ممکن ہو سکے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے