کرونا وائرس سے متاثرہ لوگ

کورنا وائرس نے اب تک نہ جانے کتنے لوگوں کی جانیں لی ہیں ، پوری دنیا میں اب تک 2 سو 19 ملین کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 4.55 فیصد لوگ انتقال کر گئے، اس وائرس کے خاتمے کے مختلف طرح کی ویکسین بھی لائی گئی لیکن ابھی تک ختم نہیں کیا جا سکا ، پہلی بار یہ وائرس چین کے شہر وہاں میں رپورٹ ہوا اور کرتے کرتے پوری دنیا میں پہلا ، بعد ازاں چین نے اس پر کچھ حد تک کنٹرول کر لیا لیکن اب بھی خطرہ وہاں لاحق ہے، اب بھی شمالی امریکہ میں سب سے ذیادہ کیسز ہیں اور اس کے بعد انڈیا اس وبا سے سب سے ذیادہ متاثر ہوا ہے، برازیل تیسرے نمبر پر جبکہ برطانیہ 4 نمبر پر سب سے ذیادہ متاثرہ ملک ہے، پوری دنیا میں پاکستان اس وقت 30ویں نمبر پر سب سے ذیادہ متاثر ہوا ہے، یہ ہم کہ سکتے ہیں کہ اس وبا نے جہاں لوگوں کی زندگیاں لی وہاں لوگوں کا معاشی قتل بھی کیا ہے، یورپین اور ایشین ممالک میں اس وبا کے آنے کے بعد لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس وبا کے بعد امیر مزید امیر تر بھی ہوئے اور غریب مرنے پر آگئے۔

پاکستان کے جو موجودہ حالات ہیں اس نے غریب کی کمر توڑ دی ہے، جہاں اس وبا کے آنے کے بعد پرائیویٹ کمپنیوں نے لوگوں کو نکالنا شروع کیا یہ کہہ کر کہ کمپنیز کا کام اب نہیں رہا ہے، ہمارے پاس آپ کو دینے کو پیسے نہیں ہیں، حکومت کی لاک ڈان والی پالیسی کے بعد پرائیویٹ کمپنیوں نے اپنے ورکرز کو نکالنا شروع کر دیا تھا، حکومت نے پھر ایک بجٹ مختص کیا جس کہ تحت 12000 روپے فی گھرانے کو دئیے جانے تھے، لاک ڈاؤن کے دوران لیکن وہ بھی بہت کم لوگوں کو ملے، لوگوں نے بھوک کے مارے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خودکشی کرنی شروع کر دی، لیکن حکومت نے اس پر غریب عوام کے بارے میں کچھ نہ سوچا اور مزید مہنگائی کرنا شروع کر دی ، کسی حکمران سے اور خاص طور پر وزیراعظم سے مہنگائی پر سوالات کئیے گئے تو الزام پچھلی حکومتوں پر لگایا ، موجودہ حکومت نے لاک ڈان پالیسی کے تحت کہیں کاروباری مراکز کو بند کیا جس سے کہیں لوگوں کو اپنے بزنسز بند کرنے پڑے جبکہ کہیں لوگوں کو بزنس میں نقصان اٹھانا پڑا۔

وزیراعظم عمران خان نے احتساب کے نام پر پچھلی حکومتوں کے اور اپوزیشن پارٹیوں کے لوگوں کر جیلوں میں ڈالا اور کیسز کئیے لیکن آج تک کوئی پیسہ وصول نہیں کر پائے ، موجودہ حکومت نے ویکسین پاکستان لائی اور عوام کو لگانا بھی شروع کی لیکن لوگوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا ، عمران خان نے 10 لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا لیکن 40 لاکھ سے زائد لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کیا ، انہی کی حکومت میں سپریم کورٹ نے ملک بھر کے مختلف ادواروں سے 16000 ملازمین کو ایک ہی دن میں نوکریوں سے فارغ کیا، جب کرونا کی چوتھی لہر پاکستان میں تیزی سے دوڑ رہی ہے وہاں حکومت سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہی ہے اور نہ جانے کتنے لوگ پچھلے ڈیڈ سالوں میں نوکریوں سے فارغ ہوئے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئیے حکومت بھی کوشش کر رہی ہے لیکن بحیثیت شہری ہمیں بھی ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا تاکہ اس وبا سے چھٹکارا ملے ، حکومت کو بھی چاہئیے کہ جن لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں ان کی مدد کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے