جاپانی کہاوت ہے ، انسان کے تین روپ ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے ایک انسان کی شخصت کے تین مختلف پہلو ہوتے ہیں ایک وہ جو عوام کیلئے یا سماج کیلئے ہوتا ہے ، دوسرا اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کیلئے جبکہ تیسرا وہ پہلو جسے صرف وہ خود جانتا ہوتا ہے ۔کہتے ہیں یہی انسان کی اصلیت ہوتی ہے۔ یا پھر انسان کا حقیقی کردار یہی ہوتا ہے ۔
انسان کی جنگ دو طرح کی ہوتی ہے ایک بیرونی اور دوسری اندرونی ۔۔ بیرونی جنگ لڑنے کے بہت سے طریقے رائج ہیں اور اس جنگ کا خاصہ یہ ہے کہ جیت یا ہار کا تعین کیا جا سکتا ہے ، لیکن ایک جنگ ہوتی ہے اندرونی جو کہ انسان کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے، آپ کے رویے پر اثرات چھوڑتی ہے۔
ایک اور کہاوت بتائی جاتی ہے کہ ہر انسان ایک اپنا دوزخ ہوتا ہے جس میں جل رہا ہوتا ہے ۔۔ یہ بات خطرناک حد تک درست ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے یہ اندرونی جنگ آخر کیوں اور کس کیلئے لڑی جا رہی ہوتی ہے ؟ اسکا کو کوئی مقصد بھی ہوتا ہے یا پھر یہ بے مقصد ہوتی ہے ؟ اس جنگ کو نتیجہ کیا ہونا چاہیئے ؟ جیت یا ہار ؟ اور پھر خود سے لڑی والی جنگ میں جیت کسی کی ہوگی اور ہارے گا کون ؟
یہ وہ سوالات ہیں جو آپ خود سے کریں گے اور اس کے جوابات بھی آپ کا نفس آپکو دے گا ۔۔ عجیب سے کیفیت ہوگی نا کہ خود اپنے سوالات کے جوابات دینا ؟
اور یقین کیجئے دنیا میں بسے انسانوں کے آدھے معاملات اس لیے بگڑتے ہیں کہ وہ اپنے ذہن میں اٹھے سوالات کے خود ہی جوابات بنا لیتے ہیں لیکن یہ پتہ ہے کب ہوتا ہے جب بات کسی دوسرے کیساتھ ہو، جب معاملات کسی دوسرے سے متصل ہوں تو انکے جوابات بھی ان سے سے مانگنا بنتا ہے جن کے حوالے سے سوالات نے جنم لیا ہو۔
ہمارے معاشرے میں انسان کی نجی زندگی کے بارے میں خود اس شخص کے علاوہ کوئی اچھے سے نہیں جانتا ہوتا لیکن معاشرہ کسی بھی انسان کے بارے میں اپنی ایک رائے قائم کر لیتا ہے لیکن وہ کس حد تک مضبوط ہے یا پھر کس حد تک ڈرپوک ہے ؟ اسی حوالے سے ماہر نفسیات سدرہ اختر سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ بعض اوقات ہمارے گھر کے بڑے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ آپ بہت مضبوط ہیں اور پھر ہمیں نا ہوتے ہوئے بھی مضبوط بننا پڑتا ہےجبکہ حقیقت میں آپ اتنے مضبوط ہوتے نہیں ہیں اسکو نفسیات کی زبان میں تضادات سے بچاؤ کا لائحہ عمل کہا جاتا ہے پھر جب آپ کسی ایسی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں تو آپ کو سمجھ نہیں ا ٓرہی ہوتی کہ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس صورتحال سے کیسے مقابلہ کرنا ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ انسان کو کامیابی بھی تبھی حاصل ہوتی ہے جب آپ اپنے اندورنی معاملات کوحل کر لیتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ جب تک آپ کے اندرونی معاملات حل نہیں ہونگے آپ بیرونی دنیا میں احسن طریقے سے نہیں چل پائیں گے وہ کہتی ہیں کہ یہی و جہ ہے کہ نفسیات میں اندرونی تحریک یااندرونی احساسات کی بات کی جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی ہر فرد اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے اور جب وہ جنگ ہار جاتا ہے تو زندگی ہار جاتا ہے ، خوشی اور غم اسکے کوئی معنی نہیں رکھتے ، رشتے اور دوست اس کیلئے سرمایہ نہیں رہتے ، اور تو اور زندگی میں اُمید ختم ہوجاتی ہے ؟
اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ نا اُمیدی کفر ہے تاکہ انسان کسی بھی حال میں اُمیدکادامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے پائے لیکن بعض اوقات حالات ایسی ڈگر پر چل نکلتے ہیں لوگ اپنی زندگی تک کا خاتمہ کرلیتے ہیں یا پھر ایسا سوچنا شروع کر دیتے ہیں ۔
ایسی سوچ انکے اندر کیوں پنپتی ہے ؟
کونسے ایسے عوامل ہوتے ہیں جن سے عام آدمی نبرد آزما ہوتا ہے ؟
ایسے حالات کیسے پیدا ہوتے ہیں کہ انسان خود کشی کو سوچتا ہے ؟
ہمارے بچے اور نوجوان چڑچڑے پن کا کیوں شکار ہو رہے ہیں ؟
اور ایسے دیگر کئی سوالات جن کا جواب آپ چاہتے ہیں ، ایسی کئی صورتحال جن سے آپ دوچار ہیں اور اس سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کےلئے ضروری ہے کہ کوئی آپ کی انگلی تھامے ، آپکو راستہ دکھائے ،آپ کو اُمید دلائے ۔۔۔ ہمارے ٹیلی ویژن پر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے لیکن اندرونی جنگ کیسے لڑنی ہے اور کیسے جیتنی ہے یہ کوئی نہیں بتا رہا ہوتا ، ہمارے اردگرد تفریح کیلئے بہت کچھ موجود ہوتا ہے لیکن نہیں بتایا جا رہا ہوتا کہ ایک تنہا ہوتا شخص کیسے اپنی زندگی میں واپس آ سکتا ہے ؟
یہ سب اور بہت کچھ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو ایک ایسا بھی پروگرام موجود ہے جس کو دیکھ کر آپ اپنی تنہائیوں کے دشت سے باہر آسکتے ہیں ، آپ زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور اپنی جنگ جیت سکتے ہیں لوح دل "اور لائف ” پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ جس کے میزبان ہیں سید حسن بخاری اورافشاں آصف ، جبکہ اسکے پروڈیوسر شرف زیدی ہیں ۔پروگرام میزبان سید حسن بخاری خود اس پروگرام کے ریسرچر بھی ہیں اور ان کا انداز بیان آپ کی سوچ کی گرہیں کھولنے میں مددگار ثابت ہوگا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ لوح دل کا مسودہ پہلے سے طے شدہ مواد پر مشتمل نہیں بلکہ فی البدیہہ ہے اور اس کی ساری اقساط "ایک ہی بار” ریکارڈ کی گئیں۔
لوح دل یعنی دل کے کاغذ پر جو کچھ ہوگا ، پروگرام میں اس پر بات ہوگی ، آپ کے دل کی بات ہو گی وہ باتیں جو آپ کسی سے کرنا تو چاہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کس سے اور کیونکر کی جائیں، پروگرام میں نفسیاتی مسائل پر گفتگو ہوگی ۔ تو اپنی ذہنی کشمکش سے آزاد ہونے کیلئے منگل اوربدھ کی شام 7بجے پروگرام لوح دل کو ضرور دیکھیں۔