اسلام آباد: پاکستانی قونصلیٹ جدہ میں تعینات ڈپٹی قونصلر عدنان جاوید کی درخواست پر گرفتار کیے گئے 11 سے زائد بچے 25 روز بعد ضمانت پر رہا کر دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق دو ہفتے قبل عدنان جاوید کے بیٹے علی عدنان نے اپنے والد کی سرکاری گاڑی استعمال کرتے ہوئے دوستوں کے ہمراہ ایک مقامی پارک کا رخ کیا، جہاں کرکٹ کھیلنے والے اسکول کے بچوں سے جھگڑا ہوا۔ مقامی کمیونٹی شخصیات کی مداخلت پر موقع پر ہی صلح نامہ طے پا گیا تھا۔
تاہم اگلے روز ایک نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے لڑائی کی ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں نازیبا الفاظ اور گالم گلوچ بھی شامل تھی۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر ڈپٹی قونصلر عدنان جاوید نے قونصل جنرل جدہ خالد مجید کی سفارش پر ڈپلومیٹک پولیس کو درخواست دی۔ پولیس نے بچوں کے خلاف گاڑی روکنے اور جان سے خطرے جیسی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے 11 سے زائد بچوں کو گرفتار کر لیا، جن میں تین نابالغ بچے بھی شامل تھے جو کرکٹ میچ دیکھ رہے تھے۔
گرفتار بچوں کو ابتدائی طور پر پولیس اسٹیشن میں رکھنے کے بعد مقامی عدالت سے ریمانڈ لے کر جیل منتقل کیا گیا، جہاں 25 دن قید کاٹنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی۔
والدین کا الزام ہے کہ یہ ساری کارروائی عدنان جاوید کے بیٹے کی جانب سے اپنے ہی فیک آئی ڈی سے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد کی گئی تاکہ کمیونٹی کے بے گناہ بچوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ والدین نے کہا کہ قونصلر جنرل خالد مجید اور عدنان جاوید اپنی سرکاری حیثیت کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں، جس سے کمیونٹی کے والدین اور بچوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں پاکستانی کمیونٹی کے افراد سرکاری طاقت کے ناجائز استعمال کا نشانہ نہ بنیں اور انکو فعل فور پاکستان واپس بلایا جائے اور کیمونٹی کے دکھ درد کو سمجھنے والے افسران تعینات کئے جائیں واضح رہے اس سارے کیس سے متعلق والدین کی جانب سے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو خصوصی خط لکھا گیا تھا اور گزشتہ روڈ انکے دورے کے بعد آج بچے ضمانت پر رہا ہوئے ہیں ۔