بونیر بشونڑی گاؤں میں سیلاب کی تباہ کاریاں: چیئرمین نسیم مندوخیل کی تعزیت اور بحالی کے لیے پرزور اپیل

بونیر کے گاؤں بشونڑئی میں پندرہ اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک چھوٹی سی بستی کو ملیامیٹ کر دیا، جہاں 81 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں مکانات زمین بوس ہو گئے۔ اس المناک سانحے میں پشتو زبان کے معروف شاعر اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر نواز یوسف زئی کے خاندان کے 12 افراد بھی شامل تھے، جن کی رحلت نے ادبی حلقوں میں بھی گہرے داغ چھوڑے ہیں۔

اس دلگداز موقع پر "نوے ژوند ادبی ثقافتی اور فلاحی تنظیم” کے چیئرمین نسیم مندوخیل اپنی ٹیم کے ہمراہ پروفیسر نواز یوسف زئی صاحب کے گھر تعزیت و دعا کے لیے پہنچے۔ انہوں نے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ چیئرمین مندوخیل نے خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ سے شہیدوں کے درجات کی بلندی اور غم زدہ لواحقین کو صبرِ جمیل عطا ہونے کی دعا کی۔

یہ منظر نہایت دلگیر تھا کہ جس گاؤں میں کبھی زندگی کا ہر رنگ رواں دواں تھا، آج وہاں ویرانی اور سکوت چھایا ہوا تھا۔ پروفیسر نواز یوسف زئی کا حجرہ، جو کبھی ادبی محفلوں اور علمی گفتگووں کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج پورے گاؤں کی اجتماعی فاتحہ خوانی کا مقام بنا ہوا تھا۔ سیلاب نے نہ صرف رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا بلکہ اسکول، صحت مراکز اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی تباہ ہو گئے، جس کے بعد علاقے کے باشندوں کی زندگی معطل سی ہو کر رہ گئی ہے۔

چیئرمین نسیم مندوخیل نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا خود مشاہدہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت ہمدردی کے چند جملوں سے کہیں زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا، خاص طور پر رہائشی گھروں، تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کی بحالی کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ "یہ وقت ماتم سے آگے بڑھ کر امید کی شمع روشن کرنے کا ہے۔ ہمیں بشونڑئی کے باسیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد فراہم کرنی ہوگی۔”

چیئرمین نسیم مندوخیل کی قیادت میں نوے ژوند تنظیم نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، بلکہ بحالی کے لیے ایک مربوط اور پائیدار منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کی اس پرامید اور عملی سوچ نے اس المیے کے پس منظر میں ایک نئی امید کی کرن پیدا کی ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی سطح پر بشونڑئی کی تعمیر نو کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ اس تاریخی گاؤں کے باسی ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹ سکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے